التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

محمد بن حنفیہ کی قافلہ اہل بیت سے ملاقات

محمد بن حنفیہ کی قافلہ اہل بیت سے ملاقات
 بروایت ’’فرسان الہیجا ، ناسخ اوردمعہ ساکبہ‘‘ سے مروی ہے کہ مدینہ میں محمد بن حنفیہ کو قافلہ اہل بیت کی واپسی کی اطلاع ملی تو اُٹھ کرجلدی سے باہر نکلے اوردمعہ ساکبہ کی روایت ہے کہ بشیر نے جب اہل مدینہ کو اطلاع دی تو اہل مدینہ کی ماتم وشہر کی صدااس قدر بلند ہوئی کہ زلزلہ معلوم ہوتا تھا اورمدینہ کے درودیوار ہلتے نظر آتے تھے، محمد بستر بیماری پر تھے انہیں تاحال امام حسین ؑکی شہادت کا کوئی علم نہ تھا، پوچھا یہ رونے کی آوازکیوں ہے؟ یہاں سے قبل میرے کانوں میں اس قدر گریہ وبکاکی زلزلہ خیز چیخ و پکار کبھی نہیں آئی؟ پاس والوں نے چاہا کہ حقیقت حال کو ان سے مخفی رکھا جائے کیونکہ وہ بیمار ہیں لیکن فائدہ نہ ہوا، محمد نے باربار اصرار شروع کردیا آخرکار بتایا گیا کہ اے فرزندامیر المومنین ؑ قافلہ حسینی کوفہ سے واپس پلٹا ہے اورکوفیوں نے دھوکا وغدر سے حضرت مسلم کوشہید کرڈالاہے اس لئے لوگ رو رہے ہیں، محمد کہنے لگے اگر حسین ؑزندہ ہوتے تو ضرور میری بیمار پرسی کرتے، چونکہ خوداٹھنے کی طاقت نہ رکھتے تھے چشم گریاں سے اپنے غلاموں کوحکم دیا کہ مجھے سوار کرکے لے جائیں، فرمانے لگے خدا کی قسم آج مجھے آلِ یعقوب کے مصائب نظر پڑرہے ہیں، جب شہر کے باہر پہنچے اورسیاہ علموں پر نظر پڑی تو معاملہ کی حقیقت کوبھانپ گئے اوربے ہوش ہو کرزمین پر گرگئے، ان کے غلاموں نے حضرت امام زین العابدین ؑ کی خدمت اقدس میں آکر محمد بن حنفیہ کی خبر دی تو آپ اپنے چچا کی بالین سر پہنچے اوران کا سرگود میں لیا جب ہوش میں آئے اورآنکھیں کھولیں تو اپنے بھتیجے پر نظر پڑی پس ایک سرد آہ کھینچی اوردریافت کیا اے برادرزادے میرے بھائی جان کہاں ہے میری روشنی چشم اورمیوہ دل کہا ں ہے؟ میرے باپ اوربھائی کی یادگار کہاں ہے؟ بتائو میرا حسین ؑ کہاں ہے؟ حضرت سجاد ؑ نے روتے ہوئے عرض کی چچا جان میں یتیم ہوکرآیا ہوں، لوگوں نے ہمارے مردوں کو قتل کرڈالاہے اورہماری عورتوں کو قیدی کیا ہے، کاش آپ ہوتے اور دیکھتے کہ وہ کس طرح استغاثہ کرتے تھے لیکن کوئی نہ سنتا تھااورکس طرح وہ مدد طلب کرتے تھے لیکن کوئی ان کی فریاد رسی نہ کرتا تھا اورتمام وحوش وحیوانات پانی سے سیراب ہورہے تھے لیکن لوگوں نے ان کوپیاساشہید کرڈالا!؟
محمد بن حنفیہ نے پھر سرد آہ کھینچی اوربے ہوش ہوکر گر گئے اورجب ہوش میں آئے تو پوچھا اے برادرزادہ تم پر کیا کیا گذری؟ پس حضرت سجاد ؑ بیان کرتے جاتے تھے اورمحمد بن حنفیہ روتے جاتے تھے آخر واپس روانہ ہوگئے، کہتے ہیں آپ نے پوچھا تھا کہ میرے بھائی عباس ؑ کہاں ہیں؟ تو حضرت سجاد ؑ نے جواب دیا وہ بھی مارے گئے پھر فرد اًفرد اً دیگر جوانانِ بنی ہاشم کے متعلق پوچھا اورآپ جواب میں ان کی شہادت بیا ن کرتے رہے، آخرکار عرض کیا اے عم نامدار اب صرف ایک میں اورایک میرا فرزند محمد باقرؑ بچ کرآئے اوراپنی آپ بیتی بیاں کرتے ہوئے عرض کیا اے چچا جان مختصر سرگذشت یہ ہے کہ ہمارے نانا نے اپنی امت سے اپنی عترت کے متعلق جس سلوک کی باربار وصیتیں فرمائی تھیں اگر وہ ان کے متعلق ظلم وستم کی وصیت کرجاتے تو اس سے زیادہ ظلم وستم پھر بھی نہ کیاجاتا جوہم پر باوجود حسن سلوک کی وصیتوں کے کیاگیا ہے!؟  کہتے ہیں محمد بن حنفیہ نے اپنے بھتیجے کو اپنے سینہ سے لگانے کی کوشش کی اورحضرت سجاد ؑ نے عرض کیا چچا جان میری ہڈیاں اور پسلیاں اب تک درد کرتی ہیں جومصائب میں دیکھ کر آیا ہوں؟ پھر محمد نے خدا معلوم اپنی پردہ دار بہنوں کو کس حالت میں دیکھا اوران کی کس طرح احوال پرسی کی تاریخ کی۔۔ زبان خاموش ہے؟
کہتے ہیں بیبیوں کی حالت مصائب وآلام سے اس قدر دگرگون ہوچکی تھی کہ پہلی بار تو محمد پہچان بھی نہ سکے اورحضرت سجاد ؑ سے دریافت کیا کہ میری بہن زینب کہاں ہے؟ تو بہن نے اٹھ کربھائی کوگلے لگایا کہ تیری پُرارمان امّ المصائب بہن زینب میں ہوں، بہر کیف مدینہ میں اسیرانِ اہل بیت کی واپسی کے مفصّل واقعات سے تاریخ خاموش ہے۔۔ زبان حال سے بہت کچھ بیان کیا گیا ہے اورکیا جاسکتا ہے۔۔  واللہ اعلم