التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

مختار کا قید ہونا

معاویہ کی موت کے بعد جب کو فیوں نے امام حسین ؑ کو دعوت نامے لکھے اور امام پاک ؑنے حضرت مسلم کو اپنا نائب بنا کر بھیجا تو مسلم نے کوفہ پہنچتے ہی مختار کے گھر میں نزولِ اجلال فرمایا، حضرت مسلم کا پہلے پہل مختار کے گھر میں وارد ہو نا مختار کی عظمت وجلالت کا غماز ہے، اگر حضرت مسلم کی نظر انتخاب میں حسینیت کے پرچار کیلئے کوئی دوسرا شخص زیادہ موزوں نظر آتا تو حضرت مسلم اس کو ترجیح دیتے اور ممکن ہے امام حسین ؑ نے حضرت مسلم کو عہدہ نیابت تفویض کرتے وقت اپنے خواص کے نام بتادئیے ہوں اور کوفہ میں رہنے کا پروگرام بھی تشکیل دے دیا ہو؟ اور مختار کے گھر میں قیام کرنا بھی عین ممکن ہے بلکہ قرین قیاس ہے کہ امام پاک کی فرمائش سے ہو اور ان واقعات سے مختار کی اہل بیت عصمت اور دودمانِ نبوت کے نزدیک قدرومنزلت کا پتہ چلتا ہے ۔
بہرکیف مختار لوگوں کو مسلم کی بیعت پر آمادہ کرتا رہا اور اس تحریک میں پیش پیش رہا، یہاں تک کہ ۱۸ ہزار افراد داخل بیعت ہوگئے اور نعمان بن بشیر کے کوفہ سے نکال دینے کے منصوبے بنائے جارہے تھے کہ ابن زیاد پہنچ گیا اور معاملہ ویسے کا ویسا رہ گیا، حضرت مسلم مختا رکے گھر سے خفیہ طور پر ہانی کے گھر چلے گئے تاکہ ابن زیاد کو ان کے مقام رہائش کی اطلاع نہ ہو سکے، مختار کے دل میںیہ خیال تک نہ گذرتا تھا کہ لوگ مسلم کی بیعت سے انحراف کرکے ابن زیاد کے ساتھ مل جائیں گے، چنانچہ وہ اسی دوران کوفہ سے باہر اپنی مملو کہ بستی میں چلا گیا جہاں اس کا ایک عمدہ باغ بھی تھا اور اس کو ’’لقفا‘‘ کہتے تھے، پس اچانک اسے خبر پہنچی کہ لوگوں نے ابن زیاد کے خوف سے حضرت مسلم کی بیعت توڑدی ہے تو اس نے ایک سبز جھنڈا عبد اللہ بن حارث کے حوالہ کیا اور اپنے قبیلہ کے چند نوجوانوں کو ساتھ لیکر نہایت تیزی سے مسجد کوفہ کے باب الفیل تک پہنچا اور مختار کی حیرت کی حد نہ رہی جب دیکھا کہ ابن زیاد کی فوجوں نے کوفہ کو گھیر رکھا ہے اور لوگ جوق در جوق ابن زیاد کی اما ن میں داخل ہورہے ہیں اور تھوڑی سی جماعت کے ساتھ اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کرنا نہایت مشکل ہے، تو بعض ساتھیوں کے مشورہ سے اور عمر وبن حریث کی یقین دہانی سے کہ تجھے قتل نہ ہو نے دوں گا نہایت بادل ناخواستہ اور کوبیدہ خاطر ہو کر وقت مصلحت کے ماتحت انجام کا ر دیکھنے اور صحیح پروگرام سوچنے کے لئے امان کے جھنڈے کے نیچے داخل ہوگیا جو عمروبن حریث کے ہاتھ میں تھا، ادھر خفیہ لوگوں نے مختارکی آمد کی کیفیت کی اطلاع ابن زیاد تک پہنچادی تھی اس نے مختار کو طلب کرلیا اور نہایت غصے سے کہنے لگا:  اَنْتَ الْمُقْبِلُ فِی الْجَمُوْعِ لِتَنْصُرَ بْنَ عَقِیْل وَتَتَوَلّٰی اَبَا تُرَابٍ  وَ وُلْدَہُ
کیا تو وہی شخص جو ایک جماعت کو لے کر ابن عقیل کی نصرت کیلئے آیا؟ اور علی ؑ اور اس کی اولاد سے محبت رکھتا ہے؟ مختار نے جواب دیا بے شک مجھے علی ؑ اور اس کی اولاد سے اسلئے محبت ہے کہ خدا اور رسول کو ان سے محبت ہے اور میں نے حضرت مسلم کی مدد نہیں کی بلکہ اپنی بستی سے روانہ ہو کر اپنے گھر جارہا تھا اور عمروبن حریث نے بھی مختار کے حق میں اسی قسم کی شہادت دی، ابن زیادکو یقین نہ ہوا اور غصہ سے اس نے ایک تازیانہ مختار کے سر پر مارا جو آنکھ پر پڑااور آنکھ سے خون جاری ہو گیا اور وہی آنکھ پھر معیوب ہو گی، پھر اسی وقت مختار کو قید کرنے کا حکم دیا گیا، چنانچہ تامورہ کے بد ترین قیدخانہ میں اسے بھیجا گیا اور اس دوران میں میثم تمار کو بھی قید کیا گیا تھا، میثم نے قید خانہ میں مختار کو پیشن گوئی کی کہ تو عنقریب رہا ہو گا اور خروج کر کے ابن زیاد کو قتل کرے گا، چنانچہ مختار کا دل اور زیادہ مضبوط ہوا اور اسے یقین ہوا کہ میثم کا یہ علم حضرت امیر المومنین ؑ سے ماخوذ ہے۔