التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

محمد بن حنفیہ کی امام حسین ؑ سے گفتگو

محمد بن حنفیہ کی امام حسین ؑ سے گفتگو
 جب امام حسین ؑ مدینہ سے روانہ ہو رہے تھے حضرت محمد بن حنفیہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اورعرض کیا اے برادر جان! آپ مجھے عزیز تراورمحبوب تر ہیں میں کسی سے بھی اپنی خیرخواہی کا بخل نہیں کرتااورآپ ؑ سے بخل کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب کہ آپ ؑ میرے پیشوا و سردارہیں اورخداوندکریم نے آپ ؑ کی اطاعت ہم پرواجب قراردی ہے اورآپ ؑ جوانان جنت کے سردارہیں۔
بھائی جان!  یزیدکی بیعت سے دور رہیے اوران علاقوں سے بھی دور رہیے جو یزیدکی عملداری میں داخل ہیں، پس یکسو علیحدہ ہوکر لوگوں پراپنے حقوق کی وضاحت فرمائیے اگرقبول کرلیں توفبہا ورنہ آپ ؑ کے فضل و کمال میں کمی نہیں ہوگی؟ میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ ؑ یزیدکی عملداری کے شہرمیں جائیں اورلوگوں میں سے بعض آپ ؑ کے ہمنوا ہو جائیں اوربعض یزید کے طرفدارہوجائیں پھر لڑائی بڑھ جائے تویہ لوگ سب سے پہلے آپ ؑ کو شہید کرنے کی کوشش کریں گے اوریہ اُمت آپ ؑ کے سایہ ٔ عاطفت سے محروم ہوجائے گی اورآپ ؑ کا خون رائیگا ں جائے گا۔
آپ ؑ نے پوچھا پھر بتائیے مجھے کس طرف جانا چائیے؟ تو محمد نے جواب دیا مکہ جایئے اگر وہاں لوگ آرام سے رہنے دیں تو فبہا ورنہ یمن کی طرف چلے جانا اوراگر وہاں بھی آرام میسر نہ ہو تو جنگلوں۔۔ پہاڑوں اورویرانوں میں وقت گذارتے رہنا حتیٰ کہ کوئی واضح نتیجہ سامنے آجائے؟ پھر دیکھ بھال کے بعد اقدام کیا جائے گا، امام پاک نے جواب میں ارشاد فرمایا بھائی جان اگر پوری روئے زمیں میں میرے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہو سکے تب بھی یزید بن معاویہ کی بیعت تو میں نہیں کروں گا  (پس یہی ایک ہی جملہ فرمایا اورمحمد مطلب کی تہ تک پہنچ گیا) اس کے بعد ایک گھنٹہ تک دونوں بھائی مصروف گریہ رہے، پھر امام پاک نے فرمایااے بھائی جان خدا تجھے جزائے خیر دے تم نے اپنی صواب دید کے ماتحت اچھی رائے دی ہے میں رخت سفر باندھ چکا ہوں، بیٹوں۔۔ بھائیوں اوردوستوں کے ہمراہ جو میرے پکے وفادار ہیں مکہ جارہاہوں اوربھائی جان تمہارے ذمہ اورکچھ نہیں ہاں صرف یہ ہے کہ آپ ؑ مدینہ میں قیام رکھیں اوران لوگوں کے حالات سے باخبر رہیں اورمیری طرف سے جاسوسی کے فرائض انجام دیں تاکہ ان لوگوں کی کوئی بات ہم پرپوشیدہ نہ رہنے پائے، اس کے بعد قلم کا غذمنگواکرایک وصیت نامہ لکھا جومحمد بن حنفیہ کے حوالہ فرمایا اورروتی ہوئی آنکھوں سے بھائیوں نے ایک دوسرے کو وداع کیا۔
امام حسین ؑ بنابرمشہور ۲۸ رجب کو مدینہ سے روانہ ہوئے تھے اوراوائل شعبان میں مکہ پہنچے تھے اورچارماہ تک وہاں قیام فرمایا اورمحمد بن حنفیہ بھی بقصدِ حج مکہ میں پہنچ چکے تھے، جب امام پاک نے حج کو عمرہ میں تبدیل کرکے وہاں سے ایامِ حج میں روانگی کا قصد فرمایاتو محمد بن حنفیہ فوراًآپ ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا بھائی جان آپ ؑ کوفیوں کے مکروفریب سے واقف ہیں، آپ ؑ نے دیکھا کہ انہوں نے باباجان اوربھائی جان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ مجھے خطرہ ہے کہ وہ کہیں آپ ؑ کو بھی دھوکا نہ دیں؟ لہذا مکہ میں ٹھہرے رہنا ہی زیادہ مناسب وموزوں ہے، امام نے فرمایا بھائی جان مجھے ڈرہے کہ یزید کوئی حیلہ وبہانہ تلاش کرکے مجھے یہاں قتل کرائے گا اورمیں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے حرمت بیت اللہ ضائع ہوجائے؟ محمد نے عرض کیا اگر یہ بات ہے تو آپ ؑ پھریمن چلے جائیں وہاں آپ ؑ کی حفاظت کے قدرتی وسائل بہت زیادہ ہیں پہاڑوں میں جنگلات ہیں اورقلعے ہیں یقینا آپ ؑ کو وہاں گزند پہنچانے پر کوئی قادرنہ ہوسکے گا؟ امام ؑ نے فرمایا میں آج را ت غورکروں گا اوراس معاملہ میں نظر ثانی کرکے جواب دوں گا، پس محمد اپنی قیام گاہ پرچلے گئے صبح سویرے محمد کو اطلاع ہوئی کہ امام حسین ؑسفر عراق پر کمر بستہ ہوچکے ہیں پس محمد بن حنفیہ یہ خبر سنتے ہی دوڑتا ہوا خدمت امام میں حاضر ہوا اورعرض کیا بھائی جان آپ ؑ نے وعدہ فرمایاتھا کہ رات کوسوچ کرجواب دوں گا پھر جلدی کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ؑ نے فرمایابھائی جان آپ کے چلے جانے کے بعد میرے نانا جناب ر سالتمآب تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا اے حسین ؑ چلو کہ خدا چاہتا ہے تم درجہ شہادت پر فائز ہو، محمد نے  اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن کا کلمہ زبان پرجاری کیا اورعرض کیا بھائی جان اگر یہ بات ہے تو عورتیں اوربچے ساتھ کیوں لے جارہے ہو؟ آپ ؑ نے فرمایا مجھے حضرت رسالتمآبؐ نے یہ خبر بھی دی ہے کہ مشیت خداوندی یہ ہے کہ وہ قید وبند کی تکلیف میں مبتلا ہوں، پس اب محمد بن حنفیہ کوبات کرنے کی جرأت نہ ہوئی اور’’تذکرہ خواص الامہ‘‘ میں سبط بن جوزی نے ذکر کا کیا ہے کہ جب محمد بن حنفیہ کو امام کی روانگی کی اطلاع ملی تو اس وقت وہ وضوکررہے تھے پس اس قدر روئے کہ طشت آنسو ئوں سے پُرہوگیا ۔