زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے اور جب امام حسین ؑ نے اس کو
چھوڑ کر چلے جانے کی اجازت دی تھی تو اس نے جواب میں عرض کیا تھا کہ مجھے جنگلی
درندے نوچ کر کھا جائیں اگر میں آپ ؑ کو چھوڑ کر چلا جائوں۔۔۔۔۔ ایسا ہرگز نہ
کروں گا، امام پاک نے زیارت ناحیہ میں اس کے ان الفاظ کا شکریہ ادا فرمایا۔۔ یہ
بزرگوار حضرموت کے رہنے والا تھا اور جنگ سے پہلے امام حسین ؑ کے لشکر کے میں داخل
ہوا تھا۔
روز عاشور جب جنگ کا بازار گرم ہوا تو اس کو اطلاع ملی کہ تیرا بیٹا رَی کی
سرحد پر قید کر لیا گیا ہے تو بشر بن عمرو نے جواب دیا کہ میں اس مصیبت کا اَجر
خدا سے لوں گا اور مجھے ہرگز یہ بات پسند نہیں کہ میرا بیٹا قیدی ہو اور میں اس کے
بعد زندہ رہوں!
امام عالیمقام تک جب یہ بات پہنچی تو فرمایا میں نے تیری گردن سے اپنی بیعت
اُتار لی ہے بیشک تو جا کر اپنے بیٹے کی آزادی کے لئے کوشش کر۔۔۔ تو اس نے جواب
دیا کہ اے فرزند رسول! مجھے جنگلی درندے پارہ پارہ کر دیں اگر آپ ؑ کی نصرت سے
ہاتھ کھینچوں۔۔۔ پھر آپ ؑ نے فرمایا یہ پانچ عدد لباس لے لو جن کی قیمت ایک ہزار
دینار ہے اور اپنے بیٹے محمد کو دو تاکہ اپنے بھائی کا فدیہ دے کر اسے چھڑا لائے،
بہر کیف یہ بزرگوار حملہ اولیٰ میں شہید ہو گیا۔