۵ شوال ۳۶ھ کو کوفہ سے روانگی ہوئی بروایت مسعود ی اوریکم صفر ۳۷ھ بروز بدھ یہ لڑائی شروع ہوئی، اس میں معاویہ کا لشکر
ایک لاکھ بیس ہزار تھا، بقو لے ۸۵ہزار تھا اور حضرت علی ؑ کی فوج کی تعداد نوے
ہزار تھی، اسلامی لڑائیوں میں یہ لڑائی نہایت سخت تھی، معاویہ کی طرف سے پینتالیس
ہزار اور حضرت علی ؑکی فوج سے پچیس ہزار آدمی گو یا کل ستر ہزار آدمی مارے گئے۔
’’طبقات بن
سعد‘‘ سے منقول ہے کہ حضرت علی ؑکی پیادہ فوج پر اس جنگ میں حضرت عمار بن یاسر
افسر تھا اور علَم فوج حضرت محمد بن حنفیہ کے ہاتھ میں تھا اور اس جنگ میں محمد بن
حنفیہ نے شجاعت و جرأت کی وہ شان دکھائی کہ اسلامی تاریخ کے اوراق میں اس کی آب
و تاب تاقیامت قائم رہے گی۔
نصربن مزاحم سے کتاب ’’صفین‘‘ میں منقول ہے کہ حضرت محمد بن حنفیہ نے جنگ
صفین میں ایک دن میں پے در پے تین حملے کئے اور ان کا ہر حملہ دشمنان دین پر قہر
پروردگار اور صاعقہ تقدیر تھا، چنانچہ پہلی دفعہ حضرت امیر ؑ نے محمد کو بلایا اور
تیار کر کے فوج شام کے مقابلہ کیلئے روانہ کیا تو یہ شیر بیشہ شجاعت اسلحہ جنگ سے
لیس ہو کر موت کے منہ میں اس طرح کود گیا کہ گویا موت ان کی نگاہوں میں بازیچہ
اطفال تھی، پس چشم زدن مین معایہ کے لشکر کے میمنہ کو درہم برہم کردیا اور ان کے
چیدہ چیدہ نامور پہلوان اور آزمودہ کا ران حرب و ضرب مرد میدان بہادرون کولقمہ
اجل بنا کر اور میدان جیت کر ایک دفعہ واپس دم لینے کیلئے پلٹا اور اپنے بابائے
نامدار سے پانی طلب کیا ساقی کوثر نے اپنے جوان اور مجاہد فرزند کو اپنے ہاتھوں
پانی کا جام دے کر سیراب کیا اور محمد کی زرّہ جو سورج کی تپش اور جنگ کی حرارت کے
اثر سے گرم ہوچکی تھی آپ ؑ نے اپنے دست حق پرست سے اس پرپانی چھڑک کراس کو ٹھنڈا
کیا، محمد کے جسم میں کافی زخم لگ چکے تھے لیکن محمد کے ارادے ابھی بہت بلند تھے،
وہ ایسے باپ کی گود عاطفت کے تربیت یافتہ تھے جنہیں موت سے کھیلنا آتاتھا، پس
اپنے زخموں سے صرف نظر کرتے ہوئے دوبارہ عازم جنگ ہوئے اورحضرت امیرؑ نے بیٹے
کوگلے لگا کردوبارہ خوشی خوشی روانہ فرمایا، آپ نے تلوار آبدارکو نیام سے نکالا
اورجھوم جھوم کر میدان وِغا میں قدم رکھا اورشیر غضبناک کی طرح اس بارلشکر شام کے
میسرہ پر قضائے ناگہانی بن کرحملہ آورہوئے، شیر خدا کے فرزندکے ہاتھوں میں آج
یداللہی طاقتیں موجود تھیں۔۔۔ بازومیں قوت تھی۔۔۔ ارادہ میں عزیمت تھی۔۔۔ رحمت
خداوندی کا سایہ سرپرتھا اورشفقت پدری پشت پناہ تھی، تلوارکی دھار حد نگاہ تک
دشمنوں کا صفایا کررہی تھی، آج ملک الموت سپیشل معاونین کے ہمراہ مخصوص پروگرم کے
ماتحت محمد کے ہاتھ کی جنبش کے ساتھ ملاعین کے ارواح کوجہنمی تار میں پے درپے
جارہے تھے کہ فرداً فرد اًڈاک سپرد کرنے کا موقع کب تھا؟ پس ہزار دوہزار کا اکٹھا
پارسل دارغہ جہنم کے نام کرتے جاتے تھے، ادھر ایک دستہ لقمہ جہنم بنتا تو اس کی
آواز بلند ہوتی ھَلْ مِنْ مَزِیْد اتنے
میں ادھر شیر خدا کے فرزند کی تلوار جہنم کی ڈاک کے لئے دوسراپارسل تیارکرچکی ہوتی
تھی، محمد کے نعرہ کی گونج سے پورے میدان میں ہیبت چھاجاتی تھی اورجوانوں کے دل
دہل جاتے تھے، سامنے میدان میں قدم جمانے کی کسی کوجرأت نہ تھی، پس صفوں کی صفیں
صاف کرتے جاتے تھے اورفضائے گرد آلود میں دشمنوں کے کٹے ہوئے سر اور بازو جرا
ومنتشر معلوم ہوتے تھے، پس فوج شام کے میسرہ کو درہم برہم کرکے ایک مرتبہ پھر
بارگاہِ شاہِ ولایت میں حاضر ہوئے اورپانی طلب کیا چنانچہ ساقی کوثر نے پھر اپنے
لخت جگر کو اپنے ہاتھو ںجام آب عنایت فرماکر سیراب کیا اورمحمد کی زرّہ پر بھی
پانی چھڑکا، ابن عباس کا بیان ہے کہ اس بار محمد کے جسم پر زخموں کی یہ حالت تھی
کہ جسم کا خون زرّہ کے حلقوں سے جوش مارکر ابل رہا تھا پس ایک گھنٹہ دم لینے کے
بعد حضرت امیر ؑ نے اشارہ فرمایا اورعلی ؑ کازخمی شیر انگڑائی لے کرسہ بارہ اپنے
باباسے دعا حاصل کرکے میدان کی طرف بڑھا اورللکار تے ہوئے معاویہ کے قلب لشکر پر
حملہ آور ہوا اورزخمی جسم کے باوجود یہ تیسرا حملہ پہلے دونوں حملوں سے بڑھ گیا
کہ ایک مرتبہ صرصر عاصف اوربرق خاطف بن کر دشمنوں کی آنکھوں کو خیر ہ کردیا
اورتازہ دم جنگی سپاہی کی طرح داد شجاعت دی، معاویہ کے قلب لشکر میں ابتری پھیل
گئی۔۔ سوار سے سوار اورپید ل سے پیدل ٹکراتا تھا اوراسی داروگیر میں علی ؑ کا شیر
آگے بڑھتا ہوا للکارتا جاتا تھا، سواروں اورپیادوں کی ایک جماعت کثیر تہ تیغ
ہوگئی کہ معاویہ کی کثیر التعداد فوج میں کمی محسوس ہونے لگی، علی ؑ کا شیراب پورے
میدان پرچھایا ہوا تھا اوراہل شام بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح سامنے بھاگ چکے تھے، پس
میدان کوجیت کرآپ واپس آئے تو اس دفعہ جسم اطہر پرزخموں کی تعداد بہت زیادہ تھی
اورسارے دن کی لڑائی سے جسم میں تھکان بھی تھی، جب باپ کے سامنے آئے تو آنکھوں
سے اشکوں کی قطار نمودار ہوئی گویا میدان جیتنے کی خوشی کا اظہار تھا، حضرت امیر
ؑبنفس نفیس اپنی جگہ سے اُٹھے اور بیٹے کو گلے لگا لیا اور بیٹے کی دونوں آنکھوں
کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا تیرا باپ تجھ پر فدا ہو اے میرے لخت جگر آج تم نے
مجھے خوش کیا اورمیرے سامنے تونے جہادکا حق ادا کیا ہے لیکن یہ بتاو کہ آنکھوں سے
آنسو کیوں آرہے ہیں؟ گھبراہٹ کا اظہار ہے یا خوشی کا اظہار ؟ محمد نے عرض کیا
باباجان مرد میدان میدان سے گھبرایا نہیں کرتے یہ خوشی کا اظہارہے لیکن عرض خدمت
یہ ہے کہ تین مرتبہ پے درپے میدان میں جانے سے اب طبیعت میں خستگی اورتھکاوٹ سی
آگئی ہے اور زخم بھی زیادہ لگ چکے ہیں لہذا اب آرام کرنے کے لئے رخصت طلب کرتا
ہو ں اوراپنے برادران بزرگ حضرت حسن ؑ اورحضرت حسین ؑ کا نام جہاد کے لئے پیش
کرتاہوں، یہ سن کرشاہ ولایت نے اپنے وفادار مرد میدان فرزند کی پیشانی پردوبارہ
بوسہ دیا اورفرمایا اے میرے لخت جگر کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تومیرا فرزند ہے
اوریہ دونوں جناب رسول خداکے فرزند ہیں اس لئے ان دونوںکو بچانے کی کوشش کرتاہوں
کہ ان کومیرے سامنے کوئی زخم نہ لگے اورکوئی گزند نہ پہنچے؟ ہائے کیسی جفاکار تھی
امت بے حیا جنہوں نے حسین ؑ کومیدان کربلا میں زخمی کیا کاش اس وقت حضرت علی ؑ
ہوتے اوراپنے فرزندگرامی کے زخموں کا جائزہ لیتے، محمد نے اپنے باپ سے یہ کلمات
سنے تو عر ض کیا باباجان میں آپ کا بھی فدیہ ہوں اوراپنے دونوں بھائیوں کا بھی
فدیہ ہوں خدا ان دونوں کو ہر مصیبت سے محفوظ رکھے، روایت مذکورہ باختلاف الفاظ بحارالانوارمیں
موجود ہیں۔
’’مناقب
خوارزمی‘‘ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ شام سے ایک پہلوان کریب نامی نکلا جس نے پے
درپے حضرت علی ؑ کی فوج کے تین جوان شہید کئے، پس حضرت علی ؑ خود آگے بڑھے اورایک
جنبش یداللی سے اس کو واصل جہنم کیا، پھر اپنے فرزند محمد سے فرمایا بیٹا میدان
میں جائو اورجو بھی اس پہلوان کے خون کا بد لہ لینے کے لئے بڑھے اس کو تہ تیغ کر و
چنانچہ محمد کھڑا ہوگیا اوریکے بعد دیگرے رجز پڑھتے ہوئے اوراپنے زور بازوپر ناز
کرتے ہوئے سات پہلوان فوج سے نکلے اورمحمد نے بلامہلت ان کو یکے بعد دیگرے لقمہ
اجل بناکر واصل جہنم کیا۔
علامہ خوئی سے ’’شرح نہج البلاغہ جلد ۱ص ۳۵ ۳‘‘ میں منقول ہے کہ
چونکہ حضرت علی ؑ باربار میدان حرب و ضرب میں اپنے فرزند محمد کو بھیجتے تھے
اورحسنین شریفین کو اپنے پاس رکھے رہتے تھے تو کسی کہنے والے نے محمد کو طعنہ دیا
کہ حسنین سے علی ؑکو محبت زیادہ ہے، دیکھو وہ باربارتم کو موت کے منہ میں بھیجتا
ہے اورحسنین کو نہیں بھیجتا؟
حضرت محمد نے نہایت اطمینان سے جواب دیا کہ میرے باباکا یہ فعل بالکل درست
اوربجاہے، کیونکہ میں اس کا دائیں ہاتھ ہوں اورحسنین اس کی آنکھیں ہیں لہذا وہ
اپنی آنکھوں کے حملوں کو اپنے بازوکے ذریعے سے دور کررہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا
ہے کہ حسنین شریفین کے متعلق محمدکے جذبات کیا تھے، روایت مذکورہ ’’بحارالانوار‘‘
میں بھی موجود ہے۔
بروایت ’’توحید صدوق‘‘ امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ حضرت محمد بن حنفیہ
بڑے قوی القلب اوردلیرتھے، ایک مرتبہ طواف بیت اللہ میں ان کا کندھا حجاج بن یوسف
کے کندھے سے ٹکراگیا تو حجاج نے کہا کہ میں تمہارا سر قلم کردوں گا محمد نے نہایت
اطمینان سے اس کو جواب دیا کہ خداوندکے اپنے بندوں کے لئے تین سو وقفے ہیں شاید ان
میں سے کسی ایک وقفہ میں وہ مجھے تیرے شر سے محفوظ رکھے گا۔