اس نیک بخت مجاہد کا نام نہیں مل سکا۔۔۔۔۔ فرسان الہیجا ٔ میں بصائر
الدرجات سے منقول ہے حذیفہ بن اُسید غفاری صحابی ذکر کرتا ہے کہ جب امام حسن ؑ
معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کے بعد کوفہ سے مدینہ جا رہے تھے تو میں ان کے ہمرکاب
تھا، میں نے دیکھا آپ ؑ کے سامنے ایک لدا
ہوا اُونٹ جا رہا تھا نہ معلوم اس اونٹ پر کیا چیز بار تھی؟ اور جس طرف وہ اونٹ
جاتا تھا آپ ؑ ا س کے پیچھے پیچھے جاتے تھے، میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ
ؑ پر فدا ہوں اس اونٹ پر کیا چیز بار ہے کہ آپ ؑ اس سے جدا نہیں ہوتے؟ آپ ؑ نے
فرمایا اس پر ایک دفتر ہے ، میں نے عرض کیا کونسا دفتر؟ تو فرمایا اس میں ہمارے
شیعوں کے نام درج ہیں، میں نے عرض کیا اے فرزند رسول میں چاہتا ہوں کہ اپنا نام اس
دفتر میں دیکھوں۔۔ آپ ؑ نے فرمایا کل آ جانا میں تمہیں دکھائوں گا۔
حذیفہ کہتا ہے میں صبح کو اپنے بھتیجے کے ہمراہ خدمت اقدس میں حاضر ہوا ۔۔
آپ ؑ نے آنے کا سبب دریافت فرمایا تو میں نے عرض کیا حضور ! کل کا وعدہ پورا فرمائیے۔ تو آپ ؑ نے فرمایا
یہ جوان کون ہے؟ میں نے عرض کیا یہ میرا برادرزادہ ہے اور یہ پڑھ بھی سکتا ہے لیکن
میں نہیں پڑھ سکتا۔۔۔۔ پس حضرت نے درمیان والے دفتر کے حاضر کرنے کا حکم دیا
چنانچہ وہ لایا گیا ۔۔ حذیفہ کا بھتیجا مطالعہ میں مشغول ہوا اور اپنے چچا سے مخاطب
ہو کر کہنے لگا یہ لو چچاجان میرا نام تو یہ لکھا ہے۔۔۔ حذیفہ نے کہا بیٹا میرا
نام تلاش کرو کہ کہاں ہے؟ پس حذیفہ کا نام بھی مل گیا۔۔ چنانچہ دونوں خوشحال اور
شادمان واپس پلٹے۔۔۔ اور یہی جوان درجہ شہادت پر میدانِ کربلا میں فائز ہوا،
مامقانی نے ذکر کیا ہے کہ یہ حذیفہ بروز محشر امام حسن ؑ کے حواریّین میں سے محشور
ہو گا۔