التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

ایک نامعلوم شخص

مخزن البکا ٔ اور کتاب محرق القلوب ص ۱۵۴ ۔۔۔۔۔ روزِ عاشور جب امام مظلومؑ زخموں سے چور خاکِ کربلا پر تشریف لائے۔۔ عمر سعد نے ایک شخص کو آپ ؑ کا سر تن سے جدا کرنے کے لئے بھیجا۔۔ جب وہ قریب آیا تو امام ؑ نے فرمایا کہ تو میرا قاتل نہیں ہے تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ آتش جہنم کے شعلوں سے اپنے آپ کو بچا اور میرے قتل میں شریک نہ ہو۔۔۔۔ چنانچہ وہ شخص فوراً تائب ہوا اور عرض کیا مولا !  اس وقت بھی آپ ؑ کو ہماری نجات کی فکر ہے، پس تلوار نیام سے نکال کر کوفیوں سے لڑنے کی نیت کر لی۔۔۔۔۔ عمر سعد نے پوچھا کہ تو نے امام حسین ؑ کو کیوں نہیں قتل کیا؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے حق کو پہچان لیا ہے اور اب تجھے ہی دار البوار پہنچانے کے لئے آیا ہوں۔۔۔ چنانچہ حملہ کیا پس عمر سعد کی فوج نے اس کو گھیر لیا اور جب مرنے لگا تو امام حسین ؑ کی طرف منہ کر کے عرض کیا آقا ! کیا میری موت آپ ؑ کی نصرت میں ہے؟ تو آپ ؑ نے اس کو خیر کی دعا دی۔