یہ بزرگوار بہت بوڑھے اور عبادت گزار تھے۔۔۔ جناب رسالتمآب کی صحابیت کا
شرف بھی ان کو حاصل تھا، جنگ بدر۔۔حنین اور دیگر غزواتِ نبویہ میں شریک رہے، پس
کمر کو مضبوط باندھا اور ایک رومال اپنے اَبروئوں کے بلند کرنے کے لئے پیشانی پر
باندھا۔۔۔ حضرت امام حسین ؑ اس کی یہ جاں فشانی و فدا کاری ملاحظہ فرما رہے تھے
اور فرماتے تھے شَکَرَ اللّٰہُ سَعْیَکَ
یَا شَیْخ پس اپنی شمشیر شرربار سے قوم
نابکار پر حملہ آور ہوئے اور ساٹھ (۶۰) یا بقولے
اسّی (۸۰) ملاعین کو تہِ تیغ کر کے درجہ شہادت پر فائز
ہوئے۔
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل