یہ شخص امام حسین ؑ کا خاص شیدائی تھا اور شجاعت۔۔ دلاوری۔۔ شرافت اور
بزرگی میں اپنی نظیر آپ تھا، معاویہ کی موت کے بعد جب شیعان کوفہ کا سلیمان بن
صرو خزاعی کے گھر میں اجتماع ہوا اور صلاح و مشورہ کے بعد امام ؑ کودعوتی خطوط
لکھے گئے تو وہاں سے مکہ کی طرف خط لانے والوں میں ایک یہ بھی تھا، پس امام ؑ نے
جب حضرت مسلم کو کوفہ روانہ فرمایا تو قیس بن مصہّر ساتھ روانہ ہوا اور راستہ میں
جب حضرت مسلم کے ساتھی پیاس کی شدت سے مرگئے اور امام ؑ کو اطلاعی خط بھیجا تو وہ
خط لانے والا بھی یہی قیس تھا اور امام ؑ نے واپسی جواب بھی قیس کے حوالہ کیا،
چنانچہ آخر کار قیس امیر مسلم کے ہمراہ کوفہ میں پہنچا اور حضرت مسلم نے کوفہ کے
فوری اور ہنگامی حالات کے ماتحت جو امام ؑ کو اپنی طرف سے دعوت نامہ لکھا وہ بھی
قیس کے حوالہ کیا گیا، چنانچہ قیس مکہ میں دوبارہ حضرت مسلم کو خط لایا اورامام
عالیمقام ؑ کے ہمرکاب ہوکر کوفہ کی طرف چلا، جب آپ مقام حاجز میں پہنچے تو اہل
کوفہ کو اپنی آمدکی اطلاع کا خط لکھا اور قیس کوہی اس خط کے پہنچا نے پرمامور
فرمایا، راستے میں اس کوحصین بن نمیر نے گرفتار کر لیا، باقی تفصیل وہی ہے جو
عبداللہ بن یقطر کے حال میں گذر چکی ہے۔
صاحب ناسخ کا کہنا ہے کہ امام حسین ؑ نے مکہ سے کربلا تک جاتے ہوئے دو
مرتبہ اہل کوفہ کو خط لکھے پہلا خط عبداللہ بن یقطر کے حوالے کیا اور دوسرا قیس بن
مصہّر کے سپردفرمایا، آخر جب قیس کی موت کی خبر امام ؑ تک پہنچی تو آپ ؑ بہت
غمزدہ ہوئے اور اپنے شیعوں کیلئے درگاہ ِقاضی الحاجات میں دعا فرمائی۔