التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

شہزادہ علی اکبر ؑ

شہزادہ علی اکبر ؑ کی والدہ اُمّ لیلی دخترابو مرہ ابن عروہ ابن مسعود ثقفی تھیں؟ جناب اُمّ لیلی کی والدہ ابو سفیان کی لڑکی اور معاویہ کی بہن تھی جس کا نام میمونہ تھا، واقعہ کربلا میںشہزادہ علی اکبر ؑ کی عمر شریف کس قدرتھی؟ اس میں مورّ خین کے اقوال بہت مختلف ہیں:  ۱۸  ،  ۱۹  ،  ۲۰  ،  ۲۳  ،  ۲۵  ،  ۲۸  کے اقوال موجود ہیں؟
ابن ادریس سے ’’سرائر‘‘ میں منقول ہے کہ شہزادہ کی ولادت تیسری خلافت کے دور میں ہوئی لیکن سنہ ولادت انہوں نے ذکر نہیں فرمایا اور’’حدائق الوردیہ‘‘ سے منقول ہے کہ  ۳۳  ؁ھ کی حدود میں شہزادہ کی ولادت ہوئی، شیخ عباس قمیؒ کے متعلق منسوب ہے کہ وہ ۲۵برس کے قول کی تائید فرماتے ہیں، نیز علامہ نوری سے ’’ہدیہ الزائر‘‘ میں بھی یہی قول منقول ہے۔
آقا شیخ ذبیح محلاتی نے کافی علمائے کرا م کی تصریحات نقل کی ہیں کہ شہزادہ علی اکبر کا تولد تیسری خلافت کے آخر ی زمانہ میں ہوا ہے، انہی اختلافات کے پیش نظر اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ آیا شہزادہ علی اکبر عمر میں امام علی زین العابدین ؑ سے بڑے تھے یاچھوٹے؟
مذکورہ بالاتصریحات منقولہ کی روشنی میں صاف واضح ہوتاہے کہ وہ حضرت امام علی زین العابدین ؑ سے بڑے تھے اوران کالقب علی اکبر بھی اسی امر کا شاہد ہے، نیز شیخ مذکور نے بہت سے مورّخین کی تصریحات اس بارے میں بھی نقل کی ہیںکہ اما م زین العابدین ؑ علی اصغر تھے اورانہی سے امام حسین ؑکی نسل کا سلسلہ جاری ہوا۔
شیخ مذکور فرماتے ہیںکہ حضرت امیر ؑ کی یاد گار کیلئے امام حسین ؑنے اپنے فرزندوں کا نام علی ؑ رکھا تھا؟ اورامام زین العابدین کو علی اصغر ہی کہا جاتاتھا، لیکن جب جناب رباب کے شکم مبارک سے شہزادہ علی اصغر ؑ کا تولد ہوا ؟ تو امام زین العابدین کو علی اوسط کہا جانے لگا!
شہزادعلی اکبر ؑ کی کنیت ابوالحسن ہے جیسا کہ شہزادہ کی زیارت کے الفاظ اس امر کے شاہد ہیں اوراس سے پتہ چلتا ہے کہ شاید شہزادہ کا کوئی فرزندپیدا ہوا ہو جس کا نام حسن رکھا گیا ہو۔۔۔۔۔واللہ اعلم۔۔۔۔۔۔ تاریخ اس تفصیل سے خاموش ہے ہمارے ہاں ذاکرین کی زبان پرمشہور ہے کہ علی اکبر کی عمر ۱۸برس تھی۔
بنی ہاشم میں سے پہلا شہید شہزادہ علی اکبر ؑ تھا یا کوئی اور؟ اس میں علمائے تاریخ میں اختلاف ہے لیکن زیارت ناحیہ مقدسہ کے ظاہر سے ایسا ہی معلوم ہوتاہے کہ شہزادہ علی اکبرہی پہلاشہید تھا، نیز اخبارطوال اورکامل بن اثیرسے بھی یہی منقول ہے۔
شہزادۂ علی اکبر ؑ کے شمائل واخلاق
حضرت سیدالشہدأ نے جب اس نوجوان کومیدان کی طرف بھیجا تو بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کیا:
اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ عَلٰی ھٰؤُلائِ الْقَوْمِ اِنَّہُ  قَدْ بَرَزَ اِلَیْھِمْ غُلَامٌ اَشْبَہُ النَّاسِ خَلْقًا وَ خُلْقًا وَ مَنْطِقًا بِرَسُوْلِکَ وَکُنَّا اِذَا اشْتَقْنَا اِلٰی لِقَائِ نَبِیِّکَ نَظَرْنَا اِلْیہِ۔
اے اللہ!  تو اس قوم پر گواہ رہ، تحقیق ان کی طرف اب وہ جوان گیا ہے جو تمام لوگوں کی بہ نسبت شکل و صورت عادات و کردار اور لہجہ وگفتار میں تیرے رسول سے زیادہ مشابہت رکھتا تھا اورہم جب بھی تیرے نبی کے دیدار کا شوق کرتے تھے تو اس کو دیکھ لیا کرتے تھے۔
معصوم کے یہ کلمات صرف جذباتی اور مبالغہ آمیز نہیں تھے بلکہ آپ ؑ حقیقت و واقعیت کی ترجمانی فرمارہے تھے۔۔۔ اب اندازہ فرمائیے کہ جو شہزادہ سراپا آئینہ رسالت ہو اس کے شمائل و اخلاق کی حد بندی کون کرسکتا ہے؟
جناب رسالتمآب صَلّی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلّم کے حلیہ کے متعلق جو مورّخین نے ضبط کیا ہے یہ کہ چہرۂ انور مثل چودہویں کے چاند کے درخشان تھا۔۔ قدمیانہ۔۔ بالوں میں درمیانہ قسم کی پیچیدگی۔۔ پیشانی کشادہ۔۔ اَبر وباریک۔۔ ناک قدرے بلند و بارک اس سے نور ساطع تھا۔۔ زبان شریں۔۔ بیان مناسب ودلکش۔۔ لب یا قوتی۔۔ دانت موتیوں کی طرح چمکدار۔۔ اعضائے جسم معتدل و خوشنما۔۔ سینہ و شکم برابر۔۔ شانے کشادہ۔۔ ہڈی مضبوط۔۔ سینہ و شکم بالوںسے خالی۔۔ بندسست دراز۔۔ ہتھیلی چوڑی و نرم اور پورے کا پورا جسم اطہر معطر و معنبرتھا کہ جس گلی کوچہ سے گذر فرماتے تھے دودن تک لوگ عنبر وکستوری کی سی خوشبومحسوس کرتے تھے۔
حُسنِ یوسفؑ دم عیسٰے ید بیضا داری
آنچہ خوبان ہمہ دارند تو تنہا داری
یہ مختصر سے شمائل آنحضرت کے بیان کئے گئے ہیں جو ایک بحرِ زخار کی بہ نسبت ایک قطرہ کی حیثیت رکھتے ہیںاور حضرت سید الشہدأ کی تشبیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شہزادہ علی اکبر ؑمیں سب خصوصیات موجود تھیں ورنہ امام حسین ؑ نہ فرماتے کیونکہ مبالغہ آمیز کلام جس کو حقیقت سے کہیںدور کا واسطہ ہو شان عصمت کے منافی ہے !
حسن جمال کا یہ عالم تھا کہ جب مدینہ کی گلیوں میں قدم رنجہ فرماتے تو لوگ گھرکے دروازوں اور چھتوں پر کھڑے ہو کر زیارت کیلئے ایک دوسرے سے سبقت کرتے تھے۔
اخلاقِ مُحمّد ی
جناب رسالتمآ بؐ کے اخلاقِ حمیدہ میں سے چند ایک بطور تبرک یہا ں سپردِ قرطاس کئے جاتے ہیں:
ز       آپ متکبرین کی طرح زمین پرپاؤں کھینچ کر نہیں چلتے تھے۔
ز       آپ کی رفتارجلال ووقارکا آئینہ تھی۔
ز       کسی سے ہمکلام ہوتے وقت اس کو ترچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے
         بلکہ پورے جسم کواس کی طرف موڑ کر اس سے خطاب کرتے تھے۔
ز       عام حالات میں بھی نظرنیچی رکھتے تھے۔
ز       کسی سے ملاقات کرتے ہوئے سلام میں سبقت فرماتے تھے۔
ز       ہمیشہ فکر کرتے تھے۔
ز       بلاضرورت بات نہ کرتے تھے۔
ز       آپ کا بیان مختصر برموقعہ اورجامع ہوا کرتاتھا۔
ز       مزاج میں سختی ودرشتی نہ تھی۔
ز       کسی کو حقیر نہ سمجھتے تھے۔
ز       چھوٹی سی نعمت کو بھی بڑاسمجھتے تھے۔
ز       کسی نعمت کی مزمت نہ کرتے تھے۔
ز       کسی دنیاوی مفاد کے فوت ہونے سے غم وغصہ نہ کرتے تھے۔
ز       جب اشارہ کرتے تھے توہاتھ سے کرتے تھے نہ کہ ٓانکھ سے۔
ز       آپ کا ہنسنا تبسم تک محدود تھا۔
ز       آپ کے نزدیک کسی شخص کی ترجیح کا معیاراس کا علم وفضل ہوا کرتاتھا۔
ز       ہر قوم کے کریم کی عزت کرتے تھے۔
ز       لوگوں سے ان کی غلط گوئی وبے جاکلامی کا مواخذہ نہ کرتے تھے۔
ز       لوگوں سے نفرت کی بجائے رواداری وخوشروئی سے پیش آتے تھے۔
ز       آپ کا ہرکام افراط وتفریط سے خالی ہوتاتھا۔
ز       آپ کے نزدیک بزرگی کا معیار ہمدردی اوراحسان تھا۔
ز       بیٹھنے میں اپنے لئے کوئی خاص جگہ مخصوص نہ فرماتے تھے بلکہ لوگوں
        کواس سے منع فرماتے تھے۔
ز       تمام لوگوں سے برتائواس قسم کا تھا کہ ہر شخص اپنے تئیں حضوؐرکا مرکزِ
        توجہ سمجھتا تھا۔
ز       بڑوں کی عزت کرتے تھے اورچھوٹوں کو رحم کرم کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
ز       کوئی شخص آپ کی ہمنشینی سے ملول خاطرنہ ہوتاتھا۔
ز       کسی کو جھڑکتے نہ تھے۔
ز       آواز کوبلند نہ کرتے تھے۔
ز       کسی کی عیب جوئی نہ کرتے تھے بلکہ لوگوں کوبھی اس سے منع فرماتے
        تھے خداوند کریم نے اخلاق رسالت کو صرف ایک ہی جملہ میں بیان
        کردیاہے  اِنَّکَ لَعَلٰی خُلْقِ عَظِیْمٍ
اورامام حسین ؑ کی تشبیہ کے پیش نظر شہزادہ علی اکبر اخلاقِ پیغمبرکا آئینہ دار تھا۔
زیارت رجبیہ میں شہزادہ علی اکبر ؑ کو اُن افرادمیں سے شمار کیاگیا ہے جو آیت تطہیر کے مصداق ہیں اوراس سے آپ ؑ کی عصمت ثابت ہوتی ہے، نیز حضرت سیدالشہدأکا شہزادہ کو جناب رسالتمآبؐ سے بدرجہ اتم مشابہ قرار دینا بھی شہزادہ  علی اکبر ؑ کی عصمت پردلالت کرتاہے ورنہ غیرمعصوم کی معصوم سے تشبیہ غیر معقول ہے اسی لئے توبعض علمأ کی تصریح موجود ہے کہ یہ شہزادہ زیور عصمت وطہارت سے آراستہ تھا۔
پس جو فرزند صفاتِ کمالیہ میں نظیر نہ رکھتا ہو اورصورت وسیرت ورفتار وگفتاروکرداربلکہ تمام حرکات وسکنات میں شبیہ پیغمبر ہو اس سے جناب سیدالشہدأ کو کس درجہ محبت تھی اس کا اندازہ نہیں کیاجاسکتا!
’’مد ینۃ المعاجز‘‘ سے منقول ہے کثیربن شاذان کہتاہے میں امام حسین ؑ کی خدمت میں موجود تھا کہ آپ ؑ کے بڑے شہزادہ جناب علی اکبر ؑ نے بے موسم انگور طلب فرمائے توامام ؑ نے ستون مسجد کی طرف ہاتھ مبارک بڑھایا اورانگوربادام لے کر شہزادہ کو پیش کئے اورفرمایاکہ اللہ کے پاس اولیاء اللہ کے لئے اس سے بھی زیادہ نعمات موجود ہیں لیکن ہائے کیا کہوں جب زخموں سے چور ہوکر شدت گرمامیں باپ سے پانی کا گھونٹ طلب کیا توامام مظلوم ؑ اپنے نوجوان بیٹے کی خواہش پوری نہ کرسکے؟
جب قافلہ اہل بیت قصر بنی مقاتل سے آگے بڑھاتوراستہ میں امام عالیمقام ؑ کوکچھ اُونگھ سی آگئی پس آسمان کی طرف نظر اٹھاکر  اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن  اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ  کو زبان پرجاری فرمایاشہزادہ علی اکبر ؑ گھوڑے کوتیز کرکے خدمت اقدس میں پہنچا اورعرض کیا باباجان اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ  پڑھنے کا کیا مطلب ہے ؟توفرمایااے نور چشم میں نے عالم خواب میں ایک اسپ سوار کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہ قافلہ جارہاہے اورموت ان کے دوش بدوش ہے، توعلی اکبر ؑ نے عرض کیا باباجان کیا ہم حق پرنہیں ہیں؟ امام ؑ نے فرمایااے فرزند! بخدا ہم ہی حق پرہیں، توشہزادہ نے نہایت جرأت سے عرض کیا اے پدربزرگوار! اگرہم ہی حق پر ہیں توموت وشہادت سے ہمیں ذرّہ بھر بھی خطرہ نہیں ہے، امام مظلوم ؑ شہزادے کے اس جرأت مندانہ جواب سے نہایت خوش ہوئے (طبری)