التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

نافع بن ہلال جملی

ابن اثیر جزری سے ’’اسد الغابہ‘‘ میںمنقول ہے کہ یہ نافع بن ہلال بن نافع بن جمل بن سعد العشیرہ بن مدحج جملی ہے، زیارت ناحیہ ورجبیہ میں اس پر ان الفاظ سے سلام وارد ہے:  السّلام علٰی نافع بن ھلال بن نافع الجملی المرادی پس کلمات زیارت اورماہرین علم رجال کی نقول سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس کا نام نافع بن ہلال درست ہے، لہذا بعض کتب میں ہلال بن نافع کا ہونا تحریف ہے نیز جملی درست ہے اوربعض کتب میں بجلی کا لفظ بھی تصحیف معلوم ہوتاہے۔
یہ شخص حضرت امیر ؑ کا پروردہ تھا اورجرأت وشجاعت اورفن سپہ گری میں یگانہ روز گار تھا، نیز علم حدیث اورفن کتابت میں مہارت کاملہ رکھتاتھا، ولائے اہل بیت اورمحبت ذرّیت پیغمبر میں اپنے پورے قبیلہ کا پیش روتھا، جنگ جمل صفین اورنہروان میں حضرت امیر ؑ کے ہمرکاب تھا، جب لوگوں نے حضرت امیر مسلم سے غداری کی تویہ شخص چند دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ مقام عذیب الہجانات پرامام حسین ؑ کی خدمت میں آپہنچا، جب حُرنے پیش بندی کے طور پرراستہ روکا اورامام حسین ؑ نے خطبہ دیا توزہیر بن قین نے کھڑے ہوکر چند کلمات کہے جو اس کے خلوص وجوش عقیدت کے آئینہ دار تھے پھر نافع بن ہلال اُٹھا اوراس نے عرض کیا اے آقائے نامدار! آپ ؑ کے جد عالیقدر نے لوگو ں کو اپنی اطاعت کی دعوت دی تولوگ دو قسموں پر تھے بعض ایسے تھے جووعدہ وفاکرتے تھے اوربعض ایسے بھی ہوا کرتے تھے کہ وعدہ کرکے اس کو پس پشت ڈال دیتے تھے اورکئی منافق تواس قسم کے تھے کہ حضوؐر کے سامنے ان کے کلمات شہد سے بھی شیریں ترہوا کرتے تھے اوران کا عمل ایلوے سے بھی زیادہ تلخ ہوا کرتاتھا، پس آپ ؑ بھی اسی دستور سے آگے بڑھیں اورغداروں کی پرواہ نہ کریں، خداکی قسم ہم خدا کی قضا سے ہرگز ناراض نہیں ہیں آپ ؑ ہمیں جس طرف بھیجیں ہمیں کوئی عذرنہ ہوگا، ہم اپنے ارادہ وعقیدہ پر ثابت ہیں اورثابت رہیں گے، آپ ؑ کے دوستوں کو دوست اورآپ ؑ کے دشمنوں کو دشمن سمجھتے ہیں اورسمجھتے رہیں گے۔
’’طبری‘‘ میں منقول ہے کہ جب امام حسین ؑ پرپانی بند کردیا گیا تورات کے وقت امام ؑ نے حضرت ابوالفضل العباس کو کنار فرات بھیجا تیس سوار اوربیس پیادے اوربیس مشکیں ان کو دیں، سب سے آگے آگے نافع بن ہلال تھا، عمروبن حجاج زبیدی جوساحل فرات پرعمر بن سعد کی طرف سے مامور تھا اس کو جب خبر ہوئی توآوازدی کہ تم کون ہو؟ نافع نے جواب دیا کہ میں نافع بن ہلال جملی ہوں، عمروبن حجاج نے پوچھا کیوں آیا ہے؟ تونافع نے جواب دیا کہ پانی لینے آیا ہوں،  عمروبن حجاج نے جواب دیا تم بے شک پی سکتے ہو نافع نے جواب دیا خدا کی قسم میرا آقا پیاسا ہے میں ان کے بغیر ہرگز پانی نہ پئوں گا، عمروبن حجاج نے کہا کہ حسین ؑ اوراس کے ساتھیوں کے لئے پانی پینے کی کوئی اجازت نہیں اورمیں دریائے فرات پرپہرہ دار ہوں، نافع نے ان مشک برداردں کو حکم دیا کہ خیمہ گاہ کی طرف جائیں، ایک شخص مزاحم ہوا جس کو نافع نے تلوار کی ضرب لگائی اوروہی اس کے لیے پیغام موت ثابت ہوئی پس اس رات یہ مشکیں صحیح و سالم خیمہ گاہ میں پہنچیں۔
’’دمعۃالساکبہ‘‘ سے منقو ل ہے کہ جب امام حسین ؑ وارد کربلا ہوئے تونافع بن ہلال کوبارگاہ حسینی میں شرف خصوصی حاصل تھا، خصوصاً خطرہ کے مقام پر یہ شخص امام پاک کے لئے جائے اعتماد تھا کیونکہ علم وفراست اورتدبّر سیاست میں یہ شخص داناوبینا اوربصیر وخبیر تھا، ایک رات کا واقعہ ہے کہ امام حسین ؑ تنہا خیموں سے باہر نکلے اوردشت وصحرامیں گھومنے لگے۔۔۔ گھومتے گھومتے کافی دور نکل گئے نافع بن ہلال نے دیکھا توفوراً شمشیر حمائل کی اورجلدی سے امام ؑ کے پاس پہنچا جب آپ ؑ کے کانوں میں اس کے پائوں کی آہٹ پہنچی توپیچھے کی طرف متوجہ ہوکر فرمایاکون ہو؟ عرض کیا میرے ماں باپ آپ ؑ پرنثار ہوں میں نافع بن ہلال جملی ہو ں، فرمایا اس وقت خیموں سے باہر کیوں آئے ہو؟ توجواب دیا کہ میرے ماں باپ آپ ؑ پر قربا ن ہوں آپ ؑ کو خیمہ گاہ سے تنہا باہر آتے دیکھا تومجھ سے آپ ؑ کی مفارقت برداشت نہیں ہوسکی خطرہ ہے کہ کہیں یہ کفار آپ ؑ کو تکلیف نہ پہنچائیں اس لئے فوراً حاضر ہوا ہوں آپ ؑ نے فرمایا میں اس لئے آیا ہوں کہ دیکھوں کہیں ابن سعد نے اس طرف خفیہ فوجیں تو نہیں بٹھائیں کہ مبادا کل کو پیچھے سے خیموں پر حملہ آور ہوجائیں!
امام عالیمقام ؑ نے نافع سے فرمایا اے نافع! میری طرف سے تجھے اجازت ہے اورمیں نے اپنی بیعت تجھ سے اٹھالی ہے بے شک توچلاجا اوراس مصیبت سے اپنے آپ ؑ کو نجات دے، سامنے والے دونوں پہاڑوں کے درمیان سے  گزر کر کسی امن کی جگہ پہنچ جا، جب نافع نے امام ؑ کا کلا م سنا توقدموں پرگرپڑا اوررو کر عرض کیا مولامیری ماں میرے غم میں بیٹھے اگر میں ایسا کا م کروں، اے آقا! میں نے یہ گھوڑا اوریہ تلوار ایک ایک ہزار کی قیمت سے خریدا ہے اورمجھے اس خداکی قسم جس نے مجھے آپ ؑ کی معرفت سے نوازا ہے جب تک گھوڑے اورتلوار میں مقابلہ کی تاب رہے کی آپ ؑ کی نصرت سے ایک قدم پیچھے نہ ہوں گا۔
نافع بن ہلال کہتاہے کہ اتنے میں امام ؑ اپنی بہن حضرت زینب خاتون کے خیمہ میں داخل ہوگئے اورمیں انتظارمیں دروازہ پرکھڑا ہوگیا، وہ بہن جوبھائی کی انتظار میں تھی بھائی کو آتے دیکھ کر اُٹھ کھڑی ہوئی اورآرام کے لئے تکیہ پیش کیا پھر دونوں بھائی بہن باہمی رازکی باتوں میں مشغول ہوئے اچانک میں نے عالیہ بی بی کے گریہ کی آواز سنی کہ کہتی تھیں ہائے کیا میں آپ ؑ کو اپنے سامنے ذبح ہوتے دیکھوں گی؟ اوربنی ہاشم کے چاند میری آنکھوں کے سامنے شہید ہوں گے؟ پھر آوازآئی بھائی جان کیا آپ ؑ نے اپنے صحابہ کو آزما لیا ہے؟ مجھے تو ڈرہے کہ لڑائی کے وقت موت سے ڈر کرآپ ؑ کو تنہانہ چھوڑ جائیں؟ مولانے اپنی بہن کی یہ باتیں سن کر رودیا اورفرمایا اے بہن تسلی کرو میں نے اپنے جانثاروں کو خوب آزمالیا ہے وہ میری محبت میں موت کو اس طرح چاہتے ہیں جس طرح بچہ اپنی ماں کے سینہ کوچاہتاہے۔
عالیہ بی بی کی حسرت واندوہ کے جگر سوزوہوشربا کلمات سن کرنافع کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے پس بچشم گریاں سیدھا حبیب بن مظاہر کے خیمہ میں آیا دیکھا کہ حبیب نے تلوار میان سے نکالی ہے اوردرخیمہ پر بیٹھا ہے، نافع نے سلام کہہ کرسارا ماجراسنایا اورعالیہ بی بی کی پریشانی وبے چینی کا ذکرکیا اورکہاکیا یہ ممکن نہیں کہ تمام اصحاب کوجمع کرکے اس مخدرہ بی بی کی تسلی کرائی جائے؟ حبیب نے جواب دیا بہت خوب ہے، پس دونوں اُٹھ کھڑے ہوئے ایک طرف سے حبیب اور دوسری طرف سے نافع نے اصحاب کو بلانا شروع کیا۔۔۔ تمام صحابہ نے اپنے برج خیام سے درخشندہ ستاروں کی طرح منہ باہر نکالا، حبیب نے بنی ہاشم کے نوجوانوں کو واپس آرام کرنے کے لئے بھیج دیا اورباقی اصحاب سے بایں الفاظ خطاب فرمایا:
اے غیورو!  اے میدان کارزار کے شیرو!  نافع بن ہلال نے اس اس طرح خبردی ہے کہ حسین ؑ کی بہن ہماری وفاداری سے مطمئن نہیں ہے اب تم سچی سچی اورکھری کھری بات بتائو کہ کیا ارادہ ہے؟
حبیب کا کلام سنتے ہی تمام اصحاب میں نالہ وفریاد کی آواز بلند ہوئی، عمامے اُتار پھینکے اورتلواریں نیام سے نکال لیں اورکہااے حبیب اس خدا کی قسم جس نے ہمیں امام ؑ کی معرفت عطا فرمائی ہے اگر اس قوم نابکار میں سے کسی بدنہاد نے خیام کی جانب کوئی قدم اٹھایا تو اس کا سرتن سے جداکردیں گے اورپیغمبر کی وصیت پر اس کی ذرّیت کی حفاظت کے لئے پورا پورا عمل کریں گے، حبیب نے کہا اگر ایسا ہے تو میرے ساتھ چلئے، چنانچہ حبیب آگے اورباقی اصحاب پیچھے روانہ ہوئے اورخیام کے درمیان آکر کھڑے ہوگئے، حبیب نے آوازدی اے حریم عصمت کی شہزادیو! اے خانوادہ رسالت کی پردہ نشینو! یہ لو تمہارے غلام قسم کھا کر عرض کرتے ہیں کہ ہماری آبدارتلواریں ان لوگوں کی گردنوں میں فروکش ہوں گی جوتمہارے حق میں سُوئے ادب کا ارادہ رکھتے ہوں اورتمہارے غلاموں کے نیزے ان سینوں میں گھسیں گے جو تمہارے ساتھ کینہ رکھتے ہوں، جب امام عالیمقام ؑ نے صحابہ کے یہ کلمات سنے تواہل حرم سے فرمایا: سنومیرے وفادار اصحاب کیا کہہ رہے ہیں؟ بیبیوں نے اصحاب کے فرطِ عقیدت و جوش محبت کے دل افزا و ایمان افروز کلمات جب سنے تو ان کے حق میں دعا فرمائی اور فرمایا شاباش اے پاک زادو۔۔ فاطمہ کی شہزادیوں کے پردہ کی حفاظت میں پوری جانبازی دکھائو۔
’’روضۃ الاحباب‘‘ سے منقول ہے کہ نافع بن ہلال نہایت خوبصورت نوجوان تھا اور ایک خوشرو دوشیزہ سے تازہ شادی کر کے آیا تھا ابھی تک اپنی بیوی سے آزاد نہ پیار و محبت کی رسوم ادا نہ کرچکا تھا جب زوجہ نے نافع کو آمادہ مرگ دیکھا تو روتے ہوئے اس  نے اپنے شوہر کا دامن تھام لیا اور فریاد کرتے ہوئے کہا مجھ بے مراد کو کس کے حوالے کر کے جاتے ہو؟ امام ؑنے جب اس کے سوز و گداز کے غم و درد بھرے کلمات سنے تو نافع سے فرمایا میری طرف سے تجھے اجازت ہے بے شک اپنی بیوی کے ساتھ خوشی کے دن گزار، نافع نے عرض کیا اے فرزند رسول! اگر آج آپ ؑ کی نصرت چھوڑ دوں تو کل بروز محشر آپ ؑ کے نانا کو کیا جواب دو ں گا؟ پس عورت سے وداع کر کے میدان جنگ میںپہنچا چو نکہ نہایت دلیر و بہادر اور فن تیر اندازی میںمہارت تامہ رکھتا تھا کہ کبھی اس کا تیر نشانہ سے خطا نہ کرتا تھا اس وقت اس کے ترکش میںاَسی (۸۰) تیر موجود تھے، پس کما ن ہاتھ میںلی اور تیر مارنا شروع کیا اور ہر تیر سے ایک سوار کو پشت زین سے فرش زمین پر گرا کر جب ترکش خالی ہوا تو تلوار ہاتھ میںلے کر بجلی کی طرح لشکر اعدأ پر حملہ آور ہوا اور یہ کہتا تھا اے کوفیو! اگر تم مجھے نہیں پہنچانتے تو میںابن جملی ہوں۔۔ میراد ین حسین ؑ اور علی ؑکا دین ہے۔
عمر بن سعد کے لشکر سے ایک شخص مزاحم بن حریث نکلاو راس نے نافع کو آواز دے کر کہا کہ میں عثمان کے دین پر ہوں۔۔ نافع نے کہا کہ عثمان کے دین پر نہیں بلکہ شیطان کے دین پر ہے یہ کہہ کرا س پر تلوار کا وار کر کے اُسے جہنم رسید کیا، پھریہ رجز پڑھتا ہوا مشغول جنگ ہوا:
اَنَا الْغُلامُ الْیَمَنِیُ الْجَمَلِیْ
دِیْنِیْ عَلٰی دِیْنِ حُسَیْنٍ وَعَلِیْ
میں جوان یمنی و جملی ہوں میرا دین حسین ؑ و علی ؑ کا دین ہے۔
اَضْرِ بُکُمْ ضَرْبَ غُلَامٍ بَطَلٍ
وَیَخْتِمُ اللَّہُ بِخَیْر عَمَلِیْ
میںتمہیں اس طرح ماروں گا جس طرح کوئی بہادر جوان مارتا ہے اور خدا میرے اعمال کا خاتمہ نیکی سے کرے گا۔
اِنْ اُقْتَلِ الْیَوْمَ فَہٰذَااَمَلِیْ
فَذَاکَ رَاْیٖ وَاُلاقِیْ اَمَلِیْ
آج قتل ہونا میری انتہائی خواہش ہے بس یہی میری رائے ہے اور میں اپنی امید کو پالوں گا۔
بعض روایات میں ہے کہ زخمیوں کے علاوہ بار ہ جوانوں کو تہِ تیغ کیا ور ابومخنف سے منقول ہے کہ ستّر ملاعین کو قتل کیا اوربعض اَسّی کہتے ہیں،ممکن ہے اختلاف کی وجہ یہ ہو کہ جو لوگ بارہ کی تعداد بتلاتے ہیں ان کی مراد تلوار کے مقتولین ہوں اور جو ستّر یااَسّی کی تعداد بتلاتے ہیں وہ تیروں سے مقتولین ہوں۔
جنگ کرتے کرتے اس کے دونوں بازوٹوٹ گئے اور اس کو قید کر کے عمر بن سعد کے پیش کیا گیا، اس کے سرو صورت سے خون جاری تھا، داڑھی خون میں تر تھی اور نہایت جرأت سے کہتا تھاکاش میرے ہاتھ کام کرتے ہوتے تو تم مجھے گرفتار کرنے پر قادر نہ ہوتے! شمر نے کہاکہ اس کو قتل کیا جائے ابن سعد نے نافع کے قتل کیلئے خود شمر کو متعین کیا تو نافع نے شمر کو نہایت دلیری سے ایک کلمہ کہا:  اے شمر! خدا کی قسم اگر تو مسلمان ہوتا تو میرے قتل کا احساس ہوتا پس اللہ کا شکر ہے کہ ہماری موت بد ترین انسان کے ہاتھ سے واقع ہوئی۔۔۔ پس شہید کر دیا گیا۔