التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

ایک خوردسال بچہ

ہانی بن ثبیت حضرمی بیان کرتا ہے کہ میں بروز عاشور ابن سعدکی فوج میں تھا اور گھوڑے پر سوار تھا، جب گھوڑے کے ہنہنانے اوران کے ٹاپوں کی آواز بلند ہوئی تو میں نے دیکھا کہ خیمہ گاہ سے ایک بچہ باہر دوڑا اس کے کانوں میں گوشوارے بھی تھے اوروہ امام حسین ؑ کی اولاد میں سے تھا وہ خیمہ کی چوب کو پکڑے ہوئے ڈرکے مارے کانپ رہاتھا جس طرح ہوا کے نرم جھونکوں سے نئی کونپل کا نپتی ہے اوراس کے کانپنے سے اس کے دونوں گوشوارے کانوں میںحرکت کررہے تھے، اس نے ایک قمیص اورچھوٹی سی شلوارپہنی ہوئی تھی اورنہایت خوفزدہ ہوکردائیں بائیں دیکھ رہاتھا، اس حالت میں لشکر عمر سعد سے ایک ملعون نے گھوڑا دوڑایا اوراس بچہ کے قریب جاکر گھوڑے سے اترا اوراس بے گنا ہ کو تلوار سے شہید کردیا، درحقیقت یہی راوی ہانی بن ثبیت ہی اس بچہ کا قاتل تھا لوگوں کی ملامت کے ڈرسے اس نے اپنانام ظاہرنہ کیا۔