ہانی بن ثبیت حضرمی بیان کرتا ہے کہ میں بروز عاشور ابن سعدکی فوج میں تھا
اور گھوڑے پر سوار تھا، جب گھوڑے کے ہنہنانے اوران کے ٹاپوں کی آواز بلند ہوئی تو
میں نے دیکھا کہ خیمہ گاہ سے ایک بچہ باہر دوڑا اس کے کانوں میں گوشوارے بھی تھے
اوروہ امام حسین ؑ کی اولاد میں سے تھا وہ خیمہ کی چوب کو پکڑے ہوئے ڈرکے مارے
کانپ رہاتھا جس طرح ہوا کے نرم جھونکوں سے نئی کونپل کا نپتی ہے اوراس کے کانپنے
سے اس کے دونوں گوشوارے کانوں میںحرکت کررہے تھے، اس نے ایک قمیص اورچھوٹی سی
شلوارپہنی ہوئی تھی اورنہایت خوفزدہ ہوکردائیں بائیں دیکھ رہاتھا، اس حالت میں
لشکر عمر سعد سے ایک ملعون نے گھوڑا دوڑایا اوراس بچہ کے قریب جاکر گھوڑے سے اترا
اوراس بے گنا ہ کو تلوار سے شہید کردیا، درحقیقت یہی راوی ہانی بن ثبیت ہی اس بچہ
کا قاتل تھا لوگوں کی ملامت کے ڈرسے اس نے اپنانام ظاہرنہ کیا۔
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل