التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

ابوثمامہ صائدی

ان کا نام عمروبن عبداللہ تھا اور قبیلہ بنی صائد تھا جو قبیلہ حمدان کی ایک شاخ تھی ، یہ بزرگوار حضرت امیر ؑ کے سرباز شیعوں میں سے تھے۔۔۔ چنانچہ تمام جنگوں میں یہ آپ ؑ کے ہمرکاب رہے اور آپ ؑ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن ؑ کی غلامی میں رہے۔
معاویہ کی موت کی خبر جب کوفہ میں پہنچی اور شیعیانِ علی ؑ نے سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر میں ایک مجلس مشاورت قائم کی تو یہ بھی ان میں تھے اور انہوں نے بھی امام حسین ؑ کو دعوتی خط لکھا تھا۔۔۔ حضرت امیر مسلم جب کوفہ میں تشریف فرما ہوئے تو اسلحہ ٔ جنگ کی خریداری پر بھی انہی کو معین کیا گیا اور باہر سے جو اموال آتے تھے ان کی وصولی بھی ان کے ذمہ تھی۔
جب حضرت مسلم کے حکم سے عبیداللہ بن زیاد کے قصر کا محاصرہ ہوا تو حضرت مسلم کی جانب سے قبیلہ حمدان و تمیم کا علمبردار ابوثمامہ کو بنایا گیا ۔۔۔ چنانچہ انہوں نے پوری پامردی کا مظاہرہ کیا، جب لوگوں کی بے وفائی سے حضرت مسلم کو پوشیدہ ہونا پڑا تو آپ اپنے خاندان میں چھپے رہے اور آخر کار نافع بن ہلال کے ہمراہ کوفہ سے نکل کھڑے ہوئے اور راستہ میں امام حسین ؑ سے جا ملے اور جتنے دن امام کی صحبت میں باریاب رہے انتہائی وفاداری سے فرائض غلامی ادا کرتے رہے۔
روزِ عاشور !  جب سپاہ حسین ؑ نے یکے بعد دیگرے ایک دوسرے سے شہادت میں سبقت حاصل کرنا شروع کیا تو ابوثمامہ نے عرض کیا آقا!  میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ آپ ؑ کے قتل سے باز آنے والے نہیں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ ؑ کے سامنے جام شہادت نوش کروں۔۔ لیکن نماز کا وقت آ گیا ہے اور بہت دوست رکھتا ہوں کہ یہ ایک آخری نماز بھی آپ ؑ کی اقتدا میں ادا کر لوں۔۔۔۔ امام عالیمقام ؑ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو زوال ہو چکا تھا فرمایا اے ابو ثمامہ! تو نے نماز کو یاد کیا ہے خدا تجھے نماز گزاروں میں سے کرے۔۔۔ پس امام ؑ نے نمازِ خوف پڑھائی اور ابوثمامہ نے نماز کے بعد عرض کیا اے فرزند رسول!  میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملحق ہونے کے لئے بے چین ہوں اور آپ ؑ کو غریب و بے یار دیکھ کر طبیعت میں تابِ برداشت نہیں رہی، امام ؑ نے اجازت دی اور ابوثمامہ نے میدانِ کارزار میں قدم بڑھایا ۔۔ پس آپ ؑ فوجِ اعدأ پر شیر ببر بن کر حملہ آور ہوئے اور بہت سے ملاعین کو قتل کیا اور بالآخر زخمی ہو کر گِر گئے، پس قیس بن عبداللہ نے اس کو شہید کیا جو ان کا چچازاد تھا۔۔۔ زیارت ناحیہ ٔ مقدسہ میں حضرت قائم آل محمد نے اس پر اِن الفاظ میں سلام بھیجا:   اَلسَّلامُ عَلٰی اَبِیْ ثمَامَۃ عَمْرو بْنِ عَبْداللّٰہِ الصَّائِدِیْ