التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

عمروبن جنادہ

زیارت ناحیہ مقدسہ میں جنادہ بن کعب اوراس کے بیٹے عمروبن جنادہ بن کعب دونوں پرسلام واردہے، عمروبن جنادہ کی عمر بعض نے نو (۹) برس اوربعض نے گیارہ برس لکھی ہے، اس کا باپ جنادہ پہلے شہید ہوچکا تھا، بعض مورّخین نے اس کو نوجوان بھی لکھا ہے، چنانچہ ’’منتہی الآمال‘‘ سے مروی ہے کہ ایک جوان خیمہ سے نکلا جس کا باپ پہلے شہید ہوچکا تھا اس کی ماں اس کے ہمراہ تھی اس نے کہا دیکھو بیٹا جائو اورفرزند پیغمبر کے سامنے جہاد کرو، پس ماں کا فرمان سن کریہ نوجوان میدان کی طرف بڑھا، جب امام حسین ؑ کی نظر پڑی توبلاکر فرمایا اے بیٹے تیراباپ شہید ہوچکا ہے اب تیری موت تیر ی ماں کے لئے زیادہ تکلیف دہ ہوگی، اس جوان نے عرض کیا آقا! میرے ماں باپ آپ پر فداہوں مجھے ماں ہی نے توجہاد کے لئے بھیجا ہے اس لڑکے نے یہ رجز یہ اشعار پڑھے:
اَمِیْرِیْ حُسَیْنٌ وَنِعْمَ الْاَمِیْرِ
سُرُوْرُ فُؤَادِ الْبَشِیْرِ النَّذِیْرِ
میرا امیر حسین ؑ اوربہترین امیر ہے   جوبشیر ونذیر کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
عَلِیٌ وَ فَاطِمَۃُ  وَلَدَاہُ
فَھَلْ تَعْلَمُوْنَ لَہُ مِنْ نَظِیْر
جس کے ماں باپ علی ؑ وفاطمہ ؑ ہوں اس کی کون نظیر ہوسکتاہے؟
لَہُ طَلْعَۃٌ مِثْلُ شَمْسِ الضُّحٰی
لَہُ قُرَّۃٌ مِثْلُ بَدْرٍ مُّنِیْرٍ
اس کا چہرہ سورج کی طرح نورانی ہے اوررونق مثل بدر منیر کے ہے۔
پس خوب لڑا آخر کا رکوفیوں نے اس کا سرتن سے جداکردیا اورلشکر گاہ حسینی کی طرف پھینک دیا اس کی ماں نے اس کا سر لے کرسینہ سے لگایا اور کہا شاباش بیٹا تونے میرے دل کوروشن کیا، پس سرکو پورے غصہ کے ساتھ ایک شقی کی طرف پھینکا کہ وہ واصل جہنم ہوا، پھر عمود خیمہ لے کرحملہ آورہوگئی اوریہ رجزپڑھا:
اَنَاعَجُوْزُ سَیّدِیْ ضَعِیْفَۃٌ
خَالِیَۃٌ بَالِیَۃٌ نَحِیْفَۃٌ
میں اپنے آقا کی بوڑھی اورکمزور خادمہ ہوں۔
اَضْرِبُکُمْ بِضَرْبَۃٍ خَفِیْفَۃٍ
دُوْنَ بَنِیْ فَاطِمَۃٍ الشّرِیفَۃٍ
اولاد فاطمہ کی حفاظت کیلئے اے دشمنوتمیں تلوارسے سخت ضرب ماروں گی۔
پس دو ملعونوں کو تہِ تیغ کیا اورامام ؑ کے فرمانے سے واپس آگئی اورامام ؑ نے اس کے حق میں دعا کی، اس نیک بخت عورت کا نام بحریہ بنت مسعود خزرجی تھا اوراس کے بیٹے کے قاتل کا نام مالک بن نسرکہاگیا ہے، اس سے معلوم ہوتاہے کہ واقعہ کربلاایک تشریع خاص کے ماتحت تھا۔