التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

ابوعمرو نہشلی



ان کے نام میں قدرے اختلاف ہے ۔۔۔ بعض کتب میں حبیب بن عبداللہ نہشلی مذکور ہے اور بعض نے زیاد بن عریب لکھا ہے۔۔۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں الگ الگ شخص ہوں جن کی کنیت ابوعمرو ہو۔۔ اور زیاد بن عریب کا ہمدانی ہونا بھی اس کا شاہدہے۔
بہر کیف ابوعمرو نہشلی نمازی ۔۔شب بیدار۔۔متقی۔۔پرہیزگار اور حضرت امیر ؑ کے شاگرد اور غلامِ وفادار تھے، بروایت ابن نما بن کاہل کے غلام مہران نامی سے مروی ہے کہ میں نے روز عاشور ایک شخص کو دیکھا جو برق شرربار بن کر قومِ اعدا ٔ پر اس شدت سے حملہ کرتا تھا کہ فوجیں اس کے سامنے نہ ٹھہر سکتی تھیں اور بیشۂ شجاعت و شہامت کے اس بپھرے ہوئے شیر کی گونج سن کر بڑے بڑے بہادروں اور نامی گرامی شہ زور جوانوں کے پتے پانی ہو جایا کرتے تھے۔۔ پس وہ اس کے حملہ کے وقت بھیڑوں کی طرح سہمے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔۔ میں نے بحرِ تعجب میں غرقاب ہو کر دریافت کیا کہ یہ کون مردِ میدان ہے؟  تو جواب دیا گیا کہ یہ ابوعمرو نہشلی ہے۔
میدانِ کارزار میں انہوں نے اپنی شجاعت کا لوہا منوا لیا تھا ۔۔۔ بہت سے ملاعین کو تہِ تیغ کر کے ایک مرتبہ امام عالیمقام ؑ کی زیارت کے لئے پلٹ آئے اور سلام کر کے دربارہ واپس جا کر مصروفِ جہاد ہوئے ان کے کشتگان کی تعداد کو ضبط نہیں کیا گیا ۔۔ آخر کار عمروبن نہشل کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرما کر ملکِ بقا کی طرف روانہ ہوئے۔