طوعہ نے ایک بار پھر عرض کیا کہ آقا کیا مرنے کا ارادہ ہے؟ تو فرمایا
خداکی قسم اس کے سوااورکوئی چارہ نہیں ہے، پس آگ برسانے والی بجلی بن کر تلوار
شرربار ہاتھ میں تھا م کرحیدرکرارکی طرح للکارتاہوا میدانِ قتال میں اُترا کہ ان
کی تلوار کی جنبش سے ہاتھ اورسر پرندوں کی طرح ہوا میں اڑتے نظر آتے تھے، سوار
بمعہ راہوار کے خون میں غلطان فرش زمین پر لت پت دکھائی دیتے تھے، بڑے بڑے قوی
ہیکل آزمودہ کا رانِ حرب وضرب کو ہاتھ سے پکڑکر ہوا میں پھینکتے تھے کہ چھتو ں کے
اُوپر سے گزرتے ہوئے دوسری طرف جا پڑتے تھے، ابن زیاد کی فوج گوتازہ دم تھی اوریہ
مظلوم شکستہ دل اورپریشان خاطر۔۔ دورات دن کا تھکا ماندہ ہونے کے باوجود اُن کے
پیچھے ایسے نظر آتاتھا جیسا کہ شیر غضبناک بکریوں اوربھیڑوں کے ریوڑکے پیچھے
چنگھاڑتے ہوئے آرہاہو، دائیں بائیں حملہ کرکے ایک سواَسّی ملاعین کو تہِ تیغ کر
ڈالا، جب اہل کوفہ نے ان کی اس شجاعت ودلیری اورقوت بازووتوانائی کو دیکھاتو
مقابلہ کی تاب نہ لاسکے اوربھاگ کھڑے ہوئے، حتی کہ محمد بن اشعث نے ابن زیاد کو
لکھا کہ مدد کے لئے جنگی مرد میدان لوگوں کی تازہ فوج بھیجے توابن زیاد نے پھر
پانچ سو کی فوج بھیجی، حضرت مسلم نے ایک ہی حملہ میں ان کو شکست دے دی کچھ مارے
گئے باقی بھاگ کھڑے ہوئے، محمد بن اشعث نے ابن زیاد سے پھر مزید امدادی فوج کا
مطالبہ کیا تو ابن زیاد نے غصہ میں آکر جواب دیا کہ مسلم صرف ایک آدمی ہے کیا اس
نے اتنی بڑی جماعت کو قتل کرڈالاہے؟ اگر تم کومسلم سے زیادہ بہادرکے مقابلہ میں
بھیجوں گا تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ (اس کی مراد امام حسین ؑ تھی) محمد بن اشعث نے
جواب دیا کہ تونے مجھے کوفہ کے کسی سبزی فروش یاحیرہ کے کسی جاٹ کی طرف تھوڑا
بھیجاجاہے؟
اَیُّھَا الْاَمِیْراِنَّکَ بَعَثْتَنِیْ اِلٰی اَسَدٍ ضَرْغَامٍ وَسَیْفٍ
حُسَّامٍ فِیْ کَفّ بَطْلٍ ھَمَّامٍ مِنْ آلِ خَیْرِ الْاَنَامِ۔
اے بادشاہ! تونے مجھے ایک شیر ببر
کے مقابلہ میں بھیجا ہے اورآلِ رسول کے مردِ شجاع جس کے ہاتھ میں تلوار قاطع ہے
کے مقابلہ میں تونے ہمیں بھیجا ہے۔
پھر ابن زیاد نے پانچ سو کی تعداد میں فوج
بھیجی اورحکم بھیجاکہ مسلم کو کسی بہانہ سے گرفتار کر لو، لیکن پھر حضرت مسلم نے
باوجود خستگی کے کشتوں کے پشتے لگادیئے کسی کو تاب مقابلہ نہ تھی، آخر انہوں نے
ایک حیلہ سوچا اورآوازدے کر کہا اے مسلم ابن زیاد تجھے امان دینے کو تیارہے لیکن
حضرت مسلم نے پرواہ نہ کرتے ہوئے پے درپے حملے جاری رکھے اورجماعت کثیر کو
دارالبوار پہنچایا۔
کوفی بزدلوں نے جب دیکھا کہ مسلم کا مقابلہ آسان نہیں توکوٹھوں کی چھتوں
پرچڑھ گئے اورآگ اورپتھر برسانے شروع کردئیے، پس حضرت مسلم ایک طرف دیوار کا
سہارا لے کرکھڑے ہوگئے اوران کو مردانہ وار جنگ کرنے کی دعوت دی، ایک نامرد نے
راستہ میں گڑھا کھود کر اُوپر سے خس وخاشاک رکھ دئیے اوراپنے ساتھیوں کوبتایا کہ
فلاں طرف سے لڑائی کو جاری رکھوکہ حضرت مسلم آگے بڑھیں گے توضروراس گڑھے میں گریں
گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا پس حضرت مسلم کا پاؤں اس گڑھے میں پھسلا اورابوبکر بن
حمران نے ایک تلوار کا ایسا وار کیا کہ آپ کے ہونٹ زخمی ہوگئے، ایک ملعون نے
تلوارماری کہ آپ کا منہ زخمی ہوگیا اوردانت مبارک گرگئے، کسی نے پشت کی طرف سے
نیزہ کا وار کیا کہ حضرت مسلم منہ کے بل زمین پر گر پڑے، پس گرفتار کرکے ابن زیاد
کے پاس لے چلے، اس وقت حضرت مسلم اپنی زندگی سے مایوس تھے اور زاروقطار رو رہے
تھے، عبیداللہ بن عباس سلمی نے طعنہ مارتے ہوئے کہا اے مسلم جوآدمی اتنابڑا کام
سرپر رکھے تومصائب کے آجانے پر اس کوگریہ زیب نہیں دیتا، حضرت مسلم نے جواب دیا
خدا کی قسم اگرچہ زندگی ہرشخص کو عزیز ہے لیکن میں اپنے لئے نہیں روتا بلکہ مجھے
توامام حسین ؑکی فکر ہے کہ وہ بال بچوں کو ساتھ لے کرتشریف لارہے ہیں۔۔ مبادا ان
کو کوئی تکلیف پہنچے۔
حضرت مسلم پر پیاس کا غلبہ تھا چنانچہ پانی طلب کیا تومسلم بن عامر باہلی
ملعون نے کہا آپ کے لئے ایک قطرہ آب بھی حرام ہے، پس عمروبن حریث نے اپنے غلام
کو حکم دیا اورپانی لایا جب آپ نے پینے کا ارادا ہ کیا توپیالہ خون سے پُر ہوگیا
پس اس کو زمین پر گرادیا، پھر دوبارہ پانی لیا وہ بھی خون سے بھر گیا، پھر تیسری
مرتبہ پانی لیا جب منہ سے لگایا تودندان مبادک گر کر کاسہ آب میں جاپڑے، حضرت
مسلم نے پیالہ کو منہ سے ہٹاتے ہوئے فرمایا اللہ کا شکر ہے اگر یہ پانی میرا رزق
ہوتا تومجھے نصیب ہوتا، پس ابن زیاد کا حکم پہنچا کہ مسلم کو میرے پیش کیا جائے۔
چنانچہ دارالامارہ میں پہنچے اورابن زیاد کو سلام تک نہ کیا خوشامدی لوگوں
نے آوازیں دیں کہ امیر کاسلام کروتومسلم نے جواب دیا کہ یہ میرا امیرنہیں ہے، ابن
زیادنے کہا سلام کرو یانہ کرواب تجھے قتل ضرور کیا جائے گا، حضرت مسلم نے کہا مجھے
اتنی اجازت دی جائے کہ وصیت کرلوں توابن زیاد نے مہلت دے دی، پس مسلم نے درباریوں
میں ایک نظردوڑائی اورابن سعد کو دیکھ کرفرمایا کہ میں تم کو ایک وصیت کرتاہوں اور
اس کا پوراکرنا تیرے اُوپرواجب ہوگا، لیکن عمرسعد نے جی چرایاتاکہ ابن زیاد خفا نہ
ہوجائے، پس خودابن زیاد نے کہا کہ وصیت کے سننے میں کوئی حرج نہیں، چنانچہ ابن سعد
کو علیحدہ لے گئے کہ ابن زیاد دیکھ رہاتھا توحضرت مسلم نے فرمایا میری تین وصیتیں
ہیں:
(۱) میں
خداکی وحدانیت حضرت محمد مصطفیٰ کی نبوت اورحضرت علی ؑکی ولایت
پر ایمان رکھتاہوں۔
(۲) میری
زرّہ فروخت کرکے میرا ایک ہزاردرہم اداکرناجوحسب ضرورت
میں اس شہر میں لے
چکا ہوں۔
(۳) میں نے
سنا ہے کہ امام حسین ؑ اپنے اہل وعیال کولیکراس طرف روانہ سفر
ہو چکے
ہیں انہیں بدلے ہوئے حالات کے ماتحت اس طرف کی پیش
قدمی سے
بازرہنے کا خط لکھنا۔
(۴) بعض
روایات میں ہے کہ فرمایا میری لاش کو دفن کرنا اورامام حسین ؑ کی
طرف قاصدبھیجنا کہ
وہ کوفہ نہ آئیں کیونکہ میری اطلاع کے ماتحت وہ
مکہ سے
روانہ ہوچکے ہیں۔
عمر ابن سعد نے ابن زیاد سے حضرت مسلم کی وصیتوں کا تذکرہ کیا توابن زیاد
نے جواب دیاکہ اگرچہ خائن کبھی کبھی امین ہوجایا کرتاہے لیکن امین آدمی سے کبھی
خیانت نہیں ہوسکتی خدا تیرا برا کرے تونے امانت میں خیانت کی ہے اوروصیت کا راز
فاش کیا ہے اگر مجھے مسلم اپنا امین بناتا تو میں ہرگز اس کے راز کو فاش نہ کرتا
اور حتی الامکان وصیت کو پورا کرنے کی کوشش کر تا،اے ابن سعد تونے امانت کی خیانت
کا بدترین گناہ اپنے سرپر لیا ہے لہذااب امام حسین ؑ کی جنگ کے لئے بھی میں تجھے
ہی حکم دوں گا۔
بعض روایات کی بناپر ابن زیاد نے کہا کہ اس کے مال کی ہمیں ضرورت نہیں بے
شک اس کا قرض ادا کرو، نیز قتل کے بعد اس کے جسم سے ہمیں تعلق نہیں بے شک دفن
کردینا اورآخری بات کے متعلق یہ ہے اگر امام حسین ؑ ادھر نہ آئیں توہمیں خواہ
مخواہ ان کو پریشان کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگرآئیں گے توہم بھی لڑنے سے دریغ
نہ کریں گے، بعض روایات میں ہے کہ حضرت مسلم نے محمد بن اشعث سے خواہش کی کہ امام
حسین ؑکو حالات کی اطلاع بھیجے اورلکھے کہ آپ کو فہ تشریف نہ لائیں، چنانچہ
محمدبن اشعث نے ایک آدمی بھیج دیا جس نے منزل زبالہ پر امام عالیمقام ؑ کو واقعات
کی اطلاع دی۔
ابن زیادنے کہا اے مسلم تونے مسلمانوں میں افتراق کیا ہے اورامام برحق یزید
پر خروج کیا ہے؟ حضرت مسلم نے فرمایا توغلط بکتاہے، معاویہ نے افتراق کا بیج بویا
اورپھر یزید اس کے نقش قدم پر چلا اورتیراباپ اورتواس فتنہ میں پیش پیش ہو اورمیں
تجھ جیسے بدترین انسان کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کرنے میں فخر محسوس کررہاہوں۔
ابن زیاد نے کہا تم لوگ خلافت کے امید وار ہواورخدا یہ معاملہ اس کے حوالہ
کرے گا جو اس کا اہل ہے۔
حضرت مسلم نے پوچھا: وہ کون
ہے جوخلافت کا اہل ہے؟
ابن زیاد نے کہا:
وہ یزید بن معاویہ ہے۔
حضرت مسلم نے فرمایا: پس میرے
اورتیرے درمیان خوداللہ ہی فیصلہ کریگا
اوراسکا فیصلہ ہمیں
منظورہے اورہم اسکے شکر گزارہیں۔
ابن زیاد نے کہا: تم
کوگمان ہے کہ خلافت تمہارا حق ہے؟
حضرت مسلم نے فرمایا:
گمان نہیں بلکہ یقین ہے کہ خلافت آلِ محمد کا حق ہے۔
ابن زیاد نے کہا:
اس شہر میں آپ کیوں افتراق ڈالنے کیلئے داخل
ہوئے ہیں؟
حضرت مسلم نے فرمایا: میں امر
بالمعروف اورنہی عن المنکر کیلئے آیا ہوں
کیونکہ تیرے باپ
اورتونے نیکیوں کو ضائع کیا اور
برائیوں کو ظاہر کیا
ہے۔۔۔ اورآمرانہ طورپر لوگوں کی
گردنوں پر سورہو۔۔۔اورخلاف
حکم خدا قیصروکسریٰ
کے طریقہ پر سلطنت کرتے ہواورہم کتاب وسنت
کی اشاعت کرتے ہیں۔
ابن زیاد نے کہا: کہ جب
حضرت مسلم کی اس کلام سے برافروختہ ہوا
کہ تم خودثنائی کرتے ہو حالانکہ شراب پیا
کرتے ہو؟
حضرت مسلم نے فرمایا: خداجانتاہے
کہ میرا گوشت پوست شراب سے نا آشنا
ہے خداکی قسم تیرا
یہ الزام محض جھوٹ وفریب ہے
حالانکہ اس امرِ شینع کا توخود مرتکب ہے
اوربلاجرم
لوگوں کی خونریزی کی بدترین عادت تجھ میں ہے۔
ابن زیاد: اس ملعون
نے جواب نہ بن آنے پر حضرت علی ؑ
وامام حسن ؑ وامام حسین ؑ کو سبّ کرنا شرو ع
کردیا!؟
حضرت مسلم نے فرمایا:
تیرے باپ کو اورتجھے سب ستم زیباہیں اب اپنا
فیصلہ سنائو۔
ابن زیاد نے بکربن عمران کوبلایا کہ محل کی چھت پر لے جاکر حضرت مسلم کا
سرجدا کرے، پس وہ ملعون حضرت مسلم کو چھت پرلے گیا، درحالیکہ حضر ت مسلم تسبیح وتہلیل
پروردگارمیں رطبُ اللسان تھے، چھت پر پہنچ کر حضرت مسلم نے دوکعت نمازاداکر نے کی
مہلت چاہی لیکن اس ملعون نے مہلت دینے سے انکار کیا اورتلوار کا وار کیا لیکن
خطاہوئی، پھر دوسراوارکیا اورحضرت مسلم کو شہید کردیا، پھر وہ ملعون وہشت زدہ ہوکر
حالت سراسیمگی میں محل سے نیچے اترا، ابن زیاد نے وجہ پوچھی تو بولا بوقت مسلم کی
ایک ہیبت ناک شکل میرے سامنے آئی جس سے میں خوفزدہ ہوگیا ہوں، ابن زیاد نے کہا
تیری بزدلی کی وجہ سے وہ محض خیالی تصور تھا اورکچھ نہیں تھا۔
ایک روایت میں ہے بکر نے جب مسلم کو قتل کرنا چاہا تو ہاتھ شل ہوگئے
اورنیچے اُتر آیا، پھر دوسرا آدمی بھیجا گیا جب اس نے تلوار چلانے کا ارادہ کیا
حضرت رسالتمآب کو دیکھا کہ وہ سامنے تشریف فرماہیں وہ خوفزدہ ہوکر گرگیا اوروہیں
مرگیا، پھرایک شامی شخص کو مامور کیا گیا جس نے حضرت مسلم کو شہید کیا اورسرکو
نیچے زمیں پر گرانے کے بعد جسم اطہر کو بھی نیچے گرادیا، پھر ہانی کو بھی قتل کرا
دیا گیا اوردونوں سروں کو شام بھیجا گیا اوردونوں جسموں کو شہر کے گلیوں کوچوں میں
پھراکر آخر قصابوں کے محلہ میں ایک دروازہ پر لٹکادیا گیا۔۔۔ یہ ۹ذی
الحجہ ۶۰ ھ کا واقعہ ہے۔