ابن زیاد نے زجر بن قیس جعفی کو پانچ سو سوار کا افسر مقرر کر کے کربلا سے
کوفہ جانے والے راستوں کی ناکہ بندی پر تعیینات کیا تھا تاکہ کوئی شخص امام حسین ؑ
کی مدد کے لئے نہ جا سکے، لیکن جب عامر بن ابی سلامہ شوقِ شہادت کے خمار میں سرشار
ہو کر نکلا تو زجر بن قیس نے اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس شیر بیشہ شجاعت نے ایک
ہی حملہ میں ان کے حوصلے پست کر دئیے پس وارد کربلا ہوا اور روز عاشور درجہ شہادت
پر فائز ہوا۔۔۔ یہ بزرگوار حضرت امیرالمومنین ؑ کے مایہ ناز غلاموں میں سے تھا اور
جنگ جمل و صفین و نہروان میں حضرت شاہِ ولایت کے ہمرکاب رہا۔ (مقتل عبدالرزاق ص ۲۳۸)
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل