التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

ہفہاف بن مہندر اسبی

راسب قبیلہ ازد کی ایک شاخ ہے۔۔ ’’رجال مامقانی‘‘ سے منقول ہے کہ ایک شخص شجاع۔۔ بے نظیر۔۔ دلاور اور عدیم المثال تھا، بصرہ کے رہنے والاتھا اور مخلص شیعہ تھا اور حضرت امیر ؑ کی محبت میں پروانہ تھا، جنگ صفین میں حضرت امیر ؑ نے اس کو قبیلہ کا سردار بنایا تھا حضرت امیر ؑ کی باقی جنگوں میں بھی یہ آپ ؑ کے ہمرکاب رہا، آپؑ کی شہاد ت کے بعد حضرت امام حسن ؑ کی خدمت میں رہا اور امام حسن ؑ کی شہادت کے بعد اس نے بصرہ کی سکونت اختیار کی، جب سنا کہ حضرت امام حسین ؑ مدینہ سے روانہ ہو کر عازم عراق ہوئے ہیں تو ہفہاف بصرہ سے روانہ ہوا اور روزِ عاشور بوقت عصر کربلا میں پہنچا جب جنگ کربلا ختم ہو چکی تھی۔
اہل کوفہ سے دریافت کیا کہ میرے آقا و مولا حضرت امام حسین ؑ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا تو کون ہے؟ اور اب تک کہاں تھا؟ تو جواب دیا میں ہفہاف بن مہند راسبی ہوں اور بصرہ سے امام ؑ کی نصرت کے لئے یہاں آیا ہوں کوفیوں نے جواب دیا کہ ہم نے حسین ؑ کو قتل کر دیا ہے اور اس کے اصحاب و انصار تمام کو شہید کر ڈالا، صرف اس کی اولاد میں سے ایک بیمار باقی ہے اور باقی مستورات موجود ہیں جن کو عمربن سعد کے حکم سے ابھی لوٹ لیا گیا ہے اور خیام نذر آتش کر دئیے گئے ہیں!  ہفہاف نے جب یہ سنا تو دنیا اس کی آنکھوں میں تاریک ہو گئی اور ایک سردآہ کھینچی اور پھر تلوار نیام سے نکال کر شیرغضنباک کی طرح دشمنان دین پر حملہ آور ہوا اور دائیں بائیں حملہ کر کے ہر طرف کشتوں کے پشتے لگا دئیے اور بہت سے ملاعین کو قتل کر ڈالا۔۔ اس کی جنگ کی یہ کیفیت تھی کہ جب یہ للکارتا تھا تو کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کے آگے قدم جمائے بلکہ اس شیر بیشہ شجاعت کے سامنے کوفی بھیڑ بکری کی طرح بھاگتے نظر آتے تھے، آخر جب انہوں نے اس سراپائے ایمان کی یہ ہمت دیکھی تو ہر طرف سے حملہ آور ہوئے اور پہلے اس کے گھوڑے کے پائوں کاٹ دئیے لیکن اب ہفہاف پیادہ ہو کر بھی کافی دیر تک لڑتا رہا اور آخر کار جام شہادت نوش فرما کر قافلہ حسینی سے ملحق ہوا اور لب ِ کوثر پہنچا۔