التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

شیخ مصر کاآخری خط جمادی الاولیٰ ۱۳۳۰؁ھ

شیخ مصر کاآخری خط   جمادی الاولیٰ ۱۳۳۰؁ھ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اصول وفروع میں آپ کا مذہب وہی ہے جو آلِ رسول کا تھا، آپ نے حقیقت کو واضح اور روشن کردیا تھا اورجوبات پردے میں چھپی تھی اس کو ظاہرکردیا پس اس میں شک کرنا حماقت اورشک میں ڈالنا گمراہ کن اقدام ہے۔
میں نے اس کو جھانک جھانک کردیکھنے کی کوشش کی لیکن مجھے انتہائی دلکش نظر آیا اور میں نے اس کی پاکیزہ خوشبو سونگھی تو اس کے قدسی مقام سے نکل کرمہکنے والی لپٹوں نے میرے دماغ کو معطر کردیا۔
میں آپ سے تعلقات قائم ہونے سے پہلے آپ کے مذہب کے متعلق مسلسل جھوٹے لوگوں کی جھوٹی خبریں اورغلط بیانیوں کی بدولت شکوک وشبہات میں تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ سے ملنے کی سعادت بخشی تو میں نے آپ کوہدایت کا مینار اور تاریکی کافانوس پایا۔۔۔۔۔ اب پوری کامیابی کے ساتھ میں آپ سے رخصت ہورہاہوں، آپ کی بدولت اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بہت احسان ہوگیا ہے اور یہ آپ کامیرے اوپر بہت بڑا کرم ہے ۔۔۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن
والسلام
س

آخری خط کا جواب  جمادی الاولیٰ ۱۳۳۰؁ھ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اس امر پر مطلع ہیں اور آپ کواس پر قدرت حاصل ہے، آپ نے پوری ہمت سے قدم بڑھایا اورشہاب ثاقب سے بھی بہت جلدی مقصد پر پہنچے ہیں۔
آپ نے بحث میں انتہا کردی اورتحقیق وتدقیق میں حدکردی، آپ نے حقیقت اور واقعہ کے ظاہروباطن پر نگاہ کی اورپیچ وخم کو پرکھا اور اس کے ہر اُلجھے ہوئے پہلو کو سلجھانے کی کوشش کی اُلٹ پلٹ کر معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے بال کی کھال اُتار نے کیلئے بھی دریغ نہ کیا۔
اس تحقیقی راستہ سے آپ کو جنبہ داری موڑنہ سکی اور اغراضِ شخصیہ آپ کاراستہ روک نہ سکیں، آپ نے کوہِ گراں کی طرح جم کر وُسعتِ صدری سے بحث وتمحیص کو آگے بڑھایا اورتعصب سے بالاہو کرتلاش حق کو مطمع نگاہ قرار دیا، پس نتیجہ کے طور پر باطل کاغبار دُھل گیا اور حق کاچہرہ کھل گیا، اب آنکھوں والوں کے سامنے حقیقت کا سورج اُبھرآیا ۔۔۔  پس ۔۔۔ حق کا بول بالا اورباطل کامنہ کالا
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اپنے دین کی طرف ہدایت کی توفیق بخشی۔
وَصَلّٰی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَسَلَّمْ
والسلام
ش
۱