التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

مسلم بن عوسجہ صحابی

یہ بزرگ باتفاق شیعہ وسنی صحابہ رسول میں سے تھے اورحضرت امیرعلیہ السلام کی غلامی کا بھی ان کو شرف حاصل تھا، چنانچہ جنگ جمل صفین ونہروان میں آپؑ کے ہمرکاب تھے۔۔ عبادت گزار۔۔ شب بیداراورقاری قرآن تھے، نیر شجاعت میں بھی اپنی آپ نظیر تھے، ’’مہیج الاحزان‘‘ سے منقول ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ حضرت امیر علیہ السلام کو قرآن سنایا تھا۔
جب حضرت امیر مسلم کوفہ میں تشریف لائے تومسلم بن عوسجہ قبض اموال، اخذ بیعت اوربیع اسلحہ میں آپ ؑ کی جانب سے وکیل تھے، عموماً مسجد کو فہ میں مصروف عبادت رہاکرتے تھے، حضرت سید الشہدا علیہ السلام کے انصار میں سے یہ نہایت عظیم المرتبت شخصیت کے مالک تھے، زیارت رجبیہ وناحیہ مقدسہ میں نہایت وقیع الفاظ میں ان پرسلام وارد ہے اوراجلّہ علمائے امامیہ نے ان کی عظمت شان کا اعتراف کیا ہے۔۔۔۔۔ چنانچہ علامہ مامقانی اپنے ’’رجال‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مسلم بن عوسجہ کا تقویٰ وقوت ایمان اورجلالت قدرو عدالت کے بیان سے نطاقِ تحریر قاصر اورقوت بیان عاجز ہے۔
شب عاشور جب امام علیہ السلام نے صحابہ کوواپس چلے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی تومسلم بن عوسجہ نے عرض کیا حضور! کیا ممکن ہے کہ ہم آپ ؑکو نرغہ اعدأ میں تنہا چھوڑ کرچلے جائیں؟ یہ ہرگز نہ ہوگاورنہ بار گاہِ ربّ العزت میں بروز محشر آپ ؑکے ناناکو کیا جواب دیں گے؟ اورکونساعذر پیش کریں گے؟ خداکی قسم آپ ؑکی رکاب میں یہ نیزہ کفار کے سینوں میں میں توڑدوں گا اورجب تک قبضہ تلوارپرہاتھ ہوگا آپ ؑکے دشمنوں سے جہاد کروں گا اوربالفرض اگر میرے پاس کوئی ہتھیار نہ رہاتو پتھروں سے جہاد کروں گا، بہر کیف آپ ؑکی نصرت سے ہاتھ نہ کھینچوں گا اورخدا کے سامنے اس امر کا ثبوت اپنے عمل سے فراہم کروں گا کہ ہم نے ذرّیت پیغمبر کی تازیست نصرت کی، خداکی قسم اگر مجھے یقین ہوکہ میں ماراجائوں گا اورپھر زندہ ہوں گا اورپھر قتل کیاجائوں گا اورمیری لاش کو آگ سے جلایا جائے گا اورستّر دفعہ میرے ساتھ یہ برتائو کیا جائے گا تب بھی آپ ؑکی رکاب سے دورنہ ہوں گا، حالانکہ اب توایک ہی دفعہ مرنا ہے اوراس کے بعد نعمت ابدی اورکرامت دائمی کا حاصل کرنا ہے۔
روزعاشور جب آتش حرب شعلہ زن ہوئی عمروبن حجاج زبیدی نے امام حسین ؑ کے میمنہ پرحملہ کیا اورشمر بن ذی الجوشن نے میسرہ پرچڑھائی کی تومسلم بن عوسجہ غضبناک شیر کی طرح میدان میں رجز پڑھتاہوا آگے بڑھا اوربرقِ خاطف اورصرصر عاصف بن کرروباہ صفت انسانوں پرحملہ آورہوا، پس نیزہ لچکدار اورتلوار شرربارکوخون کفارسے باربار سیراب کرنے لگا اورحیدر کرّار کا یہ جانباز وفادار غلام لشکرِکفار کے لئے سیل عذاب کی شکل میں نمودار ہوا، عمربن سعد کی فوج سے ایک نابکار نکلا تومسلم بن عوسجہ نے اس کے دائیں پہلو میں اس زورسے نیزہ مارا کہ اس کے بائیں پہلو سے پار ہوگیا پھر دوسراآیا تواس کو بھی دارالبوار پہنچایا اوراسی طرح پچاس جنگجو بہادروں کوفی النار کیا، لیکن آخر سن رسیدہ بزرگ تھا زخموں کی کثرت کی تاب نہ لاکرزمین پرگرا، ابھی جان میں رمق باقی تھی کہ حضرت امام حسین ؑ بہت تیزی سے اس پروانہ ٔ امامت کی خبر گیری کے لئے بنفس نفیس تشریف لائے اورحبیب بن مظاہر بھی آپ ؑ کے ہمراہ تھے پس امام ؑنے اس کے حق میں دعائے رحمت کی۔
حبیب بن مظاہر نے مسلم کے بالین سرپہنچ کرکہا اے مسلم! اگرچہ تیری یہ حالت میرے لئے ناقابل برداشت ہے لیکن تجھے بہشت کی بشارت ہو،مسلم نے نہایت کمزوراوربھرائی ہوئی آواز میں حبیب کوخیرو سعادت کی دعادی حبیب نے کہا اے مسلم! اگر تیرے بعد مجھے زندگی کا یقین ہوتا تو تجھے کہتاکہ کوئی وصیت کرو اوراس کے پورا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتا لیکن میں ابھی تیرے نقش قدم پرتجھے ملنے والاہوں، مسلم نے یہ سنتے ہی نہایت بامردی اورجوش ایمانی سے امام پاک کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ میری وصیت صرف یہی ہے کہ اس آقاکی نصرت میں کوتاہی نہ کرنا اورجب تک جان میں جان ہے اس سردار کی حفاظت کرنا، حبیب نے جواب دیا خدا کی قسم میں اس وصیت کو ضرور پورا کروں گا، پس مسلم نے امام عالیمقام ؑ کی طرف خطاب کرتے ہوئے عرض کیا آقا! اب میں جاتاہوں تاکہ آپ ؑکے جد بزرگوار کو آپ ؑکی تشریف آوری کی اطلاع دوں یہ فقرہ کہا اورجان جانِ آفریں کے حوالہ کردی۔
مسلم بن عوسجہ کی ایک کنیز تھی جب اس نے اپنے آقاکوقتل ہوتے دیکھا تونالہ وفغان کی آواز بلند کی یہ سن کرکوفیوں نے خوشیاں منائیں، شبث بن ربعی نے ان سے کہاتمہاری مائیں تمہاراغم دیکھیں اپنے بزرگوں اورعزیزوں کواپنے ہاتھوں قتل کرکے خوشیاں مناتے ہو!اورمسلم کے قتل سے خوش ہوتے ہو! خدا کی قسم مسلم وہ شخص ہے جس کو اسلام میں مرتبہ بلند اورمنزل رفیع حاصل تھی میں نے اپنی آنکھوں سے اس کو آذربیجان کی جنگ میں دیکھا ہے کہ اس کی شجاعت نے کفار کے حوصلے پست کردئیے تھے اورابھی صف آرائی نہیں ہوئی تھی کہ چھ بہادروں کوایک آن میں اس نے تہِ تیغ کردیا تھا ۔کیا ایسے مرد میدان اورمسلمانوں کی لاج رکھنے والے شہسوارکی موت سے تم خوش ہوتے ہو؟
مسلم بن عوسجہ کے قاتل عبدالرحمن بن ابی خشکارہ بجلی اورمسلم بن عبداللہ ضبابی ہیں جن کو بعد میں مختار نے قتل کرایاتھا۔
کتاب ’’تحفہ حسینیہ‘‘ سے منقول ہے کہ جب امام حسین ؑ وارد کربلاہوئے اورکوفی لوگ امام ؑ سے لڑنے کے لئے تیار ہوئے تو حبیب بن مظاہر کا گزر بازار میں ایک عطّار کی دوکان سے ہوا۔۔ دیکھا کہ مسلم بن عوسجہ مہندی خرید رہے تھے حبیب نے مسلم سے احوال پرسی کی تومسلم نے جواب دیا مہندی خرید کرکے حمام جانا چاہتا ہوں، حبیب نے کہاکیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ ہمارے آقاومولا حضرت حسین ؑ کربلامیں ہیں ہمیں جلدی سے ان کی خدمت میں پہنچنا چاہیے پس سب پروگرام چھوڑدئیے اورکربلاپہنچے۔
جنگ آذربیجان   ۲۰  ؁ھ  دوسری خلافت کے زمانہ میں ہوئی تھی اس میں فوج عرب کی تعداد چالیس ہزار پرمشتمل تھی۔