یہ بزرگوار قبیلہ ہمدان سے تھے۔۔ کوفہ میں سکونت پذیر تھے۔۔ حضرت سید
الشہدأ کے بزرگ ترین صحابہ میں سے ان کا شمار ہوتا ہے، عبادت گزاروں۔۔پرہیزگاروں
اور زُھّاد میں سے آپ صف اوّ ل میں تھے۔۔۔ ان کو سیدالقرأ کے لقب سے پکارا جاتا
تھا۔۔۔۔ نیز حضرت امیر ؑ کے حواریّین اور اشراف کوفہ میں سے شمار ہوتے تھے۔۔ ان کی
وہ کتاب جس میں امیرالمومنین ؑ اور امام حسن ؑ کے قضایا و احکام انہوں نے جمع فرمائے
ہیں اصول معتبرہ میں سے شمار ہوتی ہے۔
عمرو بن عبداللہ سبیعی ہمدانی جن کی کنیت ابواسحاق تھی ان کے بھانجے تھے جو
حضرت سجاد ؑ کے وفادار ہمنشینوں میں سے تھے۔۔۔ ابن خلکان سے ’’وفیات الاعیان‘‘ میں
ان کی ولادت خلیفہ ثالث کے زمان خلافت میں مذکور ہے، متعدد صحابہ رسول سے ان کو
استفادۂ احادیث کا موقعہ ملا اور ان سے بہت کچھ روایات منقول ہوئیں اور ان کی
وفات ۱۲۷ ھ یا ۱۲۸ ھ یا ۱۲۹ ھ میں بیان کی گئی ہے۔
’’اختصاصِ
شیخ مفید‘‘ اور ’’مجمع البحرین‘‘ سے منقول ہے کہ شب شہادت امیر ؑ ان کا تولد ہوا۔۔
حضرت سجاد ؑ کی غلامی کا یہ اثر تھا کہ عبادتِ خدا میں ساری ساری رات گزار دیا
کرتے تھے حتی کہ چالیس برس متواتر انہوں نے صبح کی نماز۔۔ عشا کے وضو سے پڑھی اور
ہر رات ختم قرآن کرتے تھے۔۔۔ عبادت و زہد کے لحاظ سے یکتائے روزگار تھے اور
فریقین کے نزدیک نقل حدیث میں نہایت قابل وثوق تھے اور نّوے(۹۰) سال کی انہوں نے عمر پائی۔
ابن خلکان کی روایت کے مطابق حسین بن ہاشم ابوعثمان دُوری سے نقل کرتا ہے
کہ میں نے ابواسحاق سبیعی سے سنا ہے کہ بچپنے کے زمانے میں باپ کے کندھوں پر سوار
ہو کر ایک دفعہ بروز جمعہ میں مسجد کوفہ میں گیا اس وقت میں نے حضرت امیر ؑ کو
دیکھا کہ خطبہ جمعہ پڑھ رہے تھے اور آستین مبارک کو حرکت دے رہے تھے تو میں نے
اپنے والد سے دریافت کیا کہ آیا حضرت امیر ؑ کو گرمی زیادہ محسوس ہو رہی ہے کہ
آستین مبارک کو ہوا حاصل کرنے کے لئے بطور پنکھے کے ہلا رہے ہیں؟ تو مجھے والد نے
جواب دیا کہ حضرت امیر ؑ کو سردی یا گرمی کی پرواہ نہیں ہوا کرتی بلکہ قمیص کو صاف
کر کے تشریف لائے ہیں اور وہ ابھی خشک نہیں ہوئی۔۔ اور اس ایک قمیص کے علاوہ ان کے
پاس پہننے کے لئے دوسری قمیص نہیں! اب اس
قمیص کو خشک کرنے کے لئے آستین کو حرکت دے رہے ہیں، ابواسحاق کہتا ہے کہ میں نے
جب چہرہ اقدس حضرت امیر ؑ کی زیارت کی تو آپ ؑ کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے۔
ابو اسحق سبیعی کے متعلق یہ چند سطریں اگر چہ موضوع سے خارج تھیں لیکن خالی
ازفائدہ نہیں۔۔ لہذا بطور تفنن کے ان کو ذکر کر دیا گیا ہے، آمدم بر سرِ مطلب
حضرت بریر بن خضیر کو جب معلوم ہوا کہ حضرت امام حسین ؑ مکہ سے کوفہ تشریف لانا
چاہتے ہیں تو یہ مکہ میں پہنچ کر آپ ؑ کے ہمرکاب ہو گئے، جب منزل ذوخشب میں پہنچے
اور دیکھاکہ حرّ نے راستہ روک لیا ہے تو یہ بزرگوار کھڑے ہو گئے اورعرض کیا اے
فرزند رسول! خدا کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں آپ ؑ پر جانثار کرنے کی توفیق مرحمت
فرمائی تاکہ آپ ؑ کی محبت میں ہمارے اعضا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور کل بروز محشر
آپ ؑ کے نانا بزرگوار کے سامنے ہم وفادار بن کر پیش ہوں اور وہ ہمارے شفیع ہوں،
یقینا پیغمبر کے نواسے کو ضائع کرنے والے چھٹکارا نہ پا سکیں گے اور ان پر افسوس
ہے اس دن کے لئے کہ جہنم میں ان کے گریہ و زاری اور ہائے ہائے کی آواز بلند ہو گی
اور ایسی بد کردار قوم پر اُف ہو۔
نویں محرم کے دن یا رات بریر اور عبد الرحمن بن عبد ربہ انصاری دروازہ خیمہ
پر کھڑے تھے اور بریر نے خوش طبعی سے عبد الرحمن کو ہنسانا چاہا تو عبد الرحمن نے
کہا بریر ایسی باتیں مت کیجئے۔۔۔ خدا کی قسم یہ وقت ایسی باتوں کے لئے موزوں
نہیںہے، تو بریر نے جواب دیا بخدا میری قوم میری جوانی اور بڑھاپے کے حالات سے
آگاہ ہے کہ میں نے کبھی ہنسی مذاق سے دلچسپی نہیں لی، لیکن خدا کی قسم اب تو میں
خوشی محسوس کر رہا ہوں کیونکہ ہمارے اور حوروں کے درمیان صرف اتنا فاصلہ رہ گیا ہے
کہ ہم تلواریں لے کر حملہ آور ہوں اور دشمنا نِ دین کے ہاتھوں مرتبہ شہادت پر
فائز ہوں۔
جب اہل بیت اطہار پر پیاس کا غلبہ ہوا تو بریر نے عرض کیا آقا! اگر اجازت
ہوتو میں عمر بن سعد سے پانی کے متعلق بات چیت کروں؟ آپ ؑ نے اجازت دی، بریر عمر
بن سعد کے پاس پہنچا لیکن سلام نہ کیا ابن سعد نے پوچھا اے برا درِ ہمدانی تو نے
سلام نہیں کیا کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ اور توحید ور سالت کا ہم اقرار نہیں کرتے؟
بریر نے جواب دیا کہ اگر تم لوگ اپنے دعویٰ کے مطابق مسلمان ہو تے تو اولادِ
پیغمبر پر اس قدر سختی نہ کرتے! کتے اور سور یہ پانی پیئں اور اولادِ پیغمبراور ان
کے خور دسال بچے پیاس کی شدت سے کراہتے ہیں! اور بایں ہمہ تم خدا ور رسول کی معرفت
کا دم بھی بھرتے ہو؟ یہ سن کر ابن سعد نے سر جھکا لیا پھر کہنے لگا اے برا درِ
ہمدانی ملک رَی چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا، خدا کی قسم میں جانتا ہو ں کہ ان لوگوں
کو آزار پہنچانا حرام ہے لیکن اگر ایسا نہ کروں تو ابن زیاد مجھے رَی کی حکومت نہ
دے گا اور کسی دوسرے کو دے دے گا، بریر نے واپس اگر امام عالیمقام کو سرگذشت سنائی
اور اس کے ارادۂ فاسدہ سے اطلاع دی کہ وہ ملک رَی کے طمع میں آپ ؑکے قتل کے درپے
ہے۔
بحارُالانوار سے مروی ہے کہ روز عاشور جب آپ ؑ اتمامِ حجت کیلئے جناب
رسالتمآبؐکے رہوار پر سوار ہو کر چند انصار کے ہمراہ روانہ ہوئے تو عمر سعد کے
لشکر کے قریب پہنچ کر بریر کو تقریر کرنے پر مامور فرمایا، بریر بلند آواز
قادرالکلام اور معروف و مشہور شخصیت کا حامل تھا، اس نے نہایت فصیح و بلیغ تقریر
کی جس میں خوفِ خدا۔۔ حقوق عترتِ طاہرہ اور اولاد پیغمبر کی موجودہ حالت تشنگی کو
بیان کیا، انہوں نے جواب دیا اے بریر! جب تک حسین۔۔۔ ابن زیاد کی اطاعت کو قبول نہ
کرے گا ہم باز نہ آئیں گے، بریر نے جواب دیا کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ راستہ خالی کر
دو تا کہ وہ واپس چلے جائیں؟ وائے ہو تم پر اے اہل کوفہ! اُن خطوط کا مضمون بھو ل
گئے ہو جو تم امام پاک کی طرف لکھ چکے ہو؟ کہ ان میں خدا کو شاہد بنا کر اپنی
وفاداری کا عہد تم نے کیا تھا؟ وائے ہو تم پر کہ تم نے اہل بیت کو پہچانا اور ان
کیلئے جان و مال کی قربانی کا عہد کیا لیکن وہ تشریف لائے تو تم ان کو ابن زیاد کے
حوالے کرتے ہو؟ اور ان کا پانی بھی بند کرتے ہو؟ کس قدر پیغمبر کی وصیت سے ان کی
ذرّیت کی حق میں بُرا بر تائو کر رہے ہو؟ خدا تمہیں روز قیامت کی پیاس کا مزہ
چکھائے کیونکہ تم بد ترین انسان ہو!
قوم اشقیا میںسے چند آدمی بولے اے بریر! جو کچھ تو کہہ رہا ہے ہمیں کچھ
پتہ نہیں، پس بریرنے کہا اللہ کی حمد ہے کہ ہمیں تمہاری بد باطنی سے مزید اطلاع ہو
گئی، پھر آسماں کی طرف منہ کر کے عرض کیا اے پروردگار! تو گواہ رہ کہ ہم اس قوم
کے افعال سے بیزار ہیں، اس جماعت کے نقصان و زیان کا انجام خود اِنہی کو نصیب
کر،تا کہ جب تیر ی بارگاہ میں حاضر ہوںتو تو ان پر غضبناک ہو، پس انہوں نے تیر
برسانے شروع کئے اور زبانِ بکواس کشادہ کی اور بریر امام ؑ کی خدمت میں پلٹ کر
واپس ہو گئے۔
’’لواعج
الا شجان‘‘ سے منقول ہے کہ لشکر ابن سعد کی طرف سے بریر کو جو جواب ملا وہ یہ تھا
کہ حسین ؑ اس طرح پیاسا رہے گا جس طرح اس سے پہلے حضرت عثمان پیاسے رہے تھے، جب
بات یہاں تک پہنچی تو امام ؑنے فرمایا بریر! واپس آجائو پھر آپ ؑنے خود بنفس
نفیس خطبہ دیا جس میں اتمامِ حجت فرمائی۔
طبری سے بروایت ابو مخنف مروی ہے کہ عفیف بن زبیر جو واقعہ کربلا میں موجود
تھا بیان کرتا ہے کہ یزید بن معقل عمربن سعد کے لشکر سے باہر آیا اور اس نے
ازراہِ سرزنش بریر کے نام آواز دی اے بریر! تو نے دیکھا کہ خدا نے تیر ے عقیدے کے
بدلہ میں تیرے لئے کیا انتظام کیا ہے؟ (یعنی اب تم کو اپنے عقیدہ کی سزا ملنے والی
ہے) بریر کو یہ سن کر جوش آیااور فرمانے لگے خدا نے اپنے کرم سے میرے لئے خوب
انتظام فرمایا ہے اور تیرے لئے برے انجام کا انتظام کیا ہے، یزید بن معقل بولا تو
جھوٹ کہتا ہے کیا تجھے یا دہے کہ بنی دو دان کے کوچہ میں جب میں اور تو اکٹھے
جارہے تھے تو تو نے کہا تھا کہ حضرت عثمان ایسے اور ویسے تھے اور معاویہ کے متعلق
کہا تھا کہ وہ گمراہ ہے اور اس کے پیچھے چلنے والے بھی گمراہ ہیں اور حضرت علی بن
ابی طالب امیرالمومنین امام برحق اور پیشوائے ہدایت ہیں؟ بریر نے جواب دیا بے شک
میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لفظ میرے ہیں اور میرا عقیدہ اب بھی وہی ہے، یزید بن
معقل نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جھوٹا اور گمراہ ہے اور تجھے اشتباہ ہے،
بریر نے کہا آئو پھر میں اور تو مباہلہ کر لیں تاکہ خدا کی طرف سے سچے کے حق میں
فیصلہ ہو جائے۔۔۔۔۔ اور مباہلہ کی صورت یہ ہے کہ ہم نہایت عجز و زاری اور تضرع و
انکساری کے ساتھ خدا کے سامنے اپنی عبادت پیش کریں اور دعا مانگیں کہ وہ سچے اور
جھوٹے کے درمیان فرق کردے پھر اپنے اپنے لشکر سے جدا ہو کر دونوں لشکروں کے درمیان
آجائیں اور لڑیں تاکہ دوست دشمن دیکھ لے جو جھوٹا ہو گا وہی مقتول ہو گا، پس بریر
اور یزید بن معقل دونوں لشکروں کے درمیان آگئے اور ہاتھ بلندکر کے ایک دوسرے کے
حق میں نفرین کی کہ اے خدا تو اپنی لعنت جھوٹے پر نازل فرما اور اسے ذائقہ موت
نصیب کر، پس پہلے پہل یزید بن معقل نے یہ کلمات کہہ کر اپنے پورے زور سے بریر کے
سر پر تلوار کا حملہ کیا کہ اگر لوہے کے سندان پر یہ حملہ ہوتا تو وہ دو حصے ہو
جاتا، پھر بریر نے خدا کا نام لے کر یزید بن معقل پر وار کیا کہ خود دو ٹکڑے ہو کر
زمین پر گر گیا اور تلوار نے اس کے سرکی ہڈیوں میں جا قیام کیا کہ وہ گھوڑے پر
سنبھل نہ سکا اور گھوڑے سے گرتے ہی واصل جہنم ہو ا، کہ ابھی تلوار کی دھار اس کے
سرمیں تھی اور قبضہ شمشیر بر یر کے ہاتھ میں تھا، عفیف بن زبیر کہتا ہے کہ مجھے اب
تک وہ منظر نہیں بھولتا اور میری آنکھوں کے سامنے وہ نقشہ موجود ہے کہ بریر تلوار
کو آگے پیچھے کر کے اس کے سر سے نکال رہا تھا جب تلوار کو اس کے سر سے نکال لیا
تو بجلی کی طرح قوم اشقیا پر ٹوٹ پڑا۔
قولِ مولف: اس واقعہ سے یہ بات
خوب ذہن نشین ہوگئی ہو گی کہ قاتلانِ حسین ؑ کا مذہب کیاتھا؟
مناقب بن شہر آشوب سے منقول ہے کہ حر ّبن یزید ریاحی کے بعد بریر میدان
میں گئے اوررجز پڑھتے ہوئے شمشیرِ آبدار سے حملہ آورہوئے، بریر کے رجزیہ اشعار
کا مطلب یہ ہے:
میں بریربن خضیر ہوں اورتمہیں تہِ تیغ کرنے میں مجھے کوئی نقصان نہیں اور
اربابِ خیر کو معلوم ہے کہ میں اہل خیر سے ہوں، اسی طرح میرے اعمال خیر بھی اہل
خیر کو معلوم ہیں اورمیں وہ ہوں کہ بِپھرے ہوئے شیر میرے نعرے کی گونج سے لرزہ
براندام ہوجایا کرتے ہیں۔
پس ایسا حملہ کیا کہ تلوارِآبدار کو جس طرف حرکت دیتا تھا لوگ مقابلہ کی
تاب نہ لاکر سامنے سے بھاگ جاتے تھے اورخستہ تن۔۔ تشنہ لب اورشکستہ ہونے کے باوجود
تیس (۳۰) ملاعین کو دارالبوار پہنچایا اوربھاگنے والوں
کو بلابلاکر کہتے تھے اے مومنوں کے قتل کرنے والو! میرے سامنے آئو۔۔۔ اے مجاہدین
بدر کی اولاد کے قاتلو! میرے قریب آئو۔۔۔ اے اولاد رسول کے دشمنو! میرا مقابلہ
کرو۔
ابو مخنف سے مروی ہے کہ ایسی گیرودار میں رضی بن منقذعبدی نے بریر پر حملہ
کیا اورایک گھنٹہ تک ان دونوں میں لڑائی ہوتی رہی۔۔۔ آخر کاربریر نے اس کو
پچھاڑدیا اوراس کے سینہ پر سوار ہوگئے جب اس بد نہاد نے اپنے آپ کو شیر کے پنجہ
میں گرفتار پایا تو اپنے ساتھیوں کو آوازدی، چنانچہ کعب بن جابر ازدی بریر پر
حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھا، عفیف بن زبیر راوی واقعہ بیان کرتا ہے کہ میں نے کعب
بن جابر کو آواز دی تجھ پر ویل ہو۔۔۔ یہ وہی بریر بن خضیر ہے جو مسجد میں ہمیں
قرآن پڑھاتا تھا، لیکن اس ملعون نے میری بات کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس زور سے
بریر کی پشت پر نیزہ مارا کہ بریر کا منہ رضی بن منقذ کے منہ پر جا لگا، پس انہوں
نے دانتوں سے ابن منقذ کی ناک کاٹ ڈالی، اسی طرح نیزہ پشت سے سینہ تک نکل گیا اور
اس ملعون نے تلوار سے بریر کی لاش کے ٹکڑے کر ڈالے۔
عفیف کہتا ہے یہ واقعہ بھی آج تک گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے۔۔ رضی بن
منقذ اپنے کپڑوں کو جھاڑتا ہوا اُٹھا اور ہاتھ اپنی کٹی ہوئی ناک پررکھے ہوئے تھے
اور اس ازدی ملعون کا شکریہ ادا کر رہا تھا، جب کعب بن جابر ازدی قاتلِ بریر کوفہ
پہنچا اور اس کی بہن نوار کو اس کے فعل کی اطلاع ہوئی تو کہنے لگی تیرے اُوپر وائے
ہو، تو نے حسین ؑ بن فاطمہ ؑ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور پھر سید القرا ٔ بریر بن
خضیر کو قتل کیا ۔۔ بیشک تو نے ایک امرِ عظیم کا ارتکاب کیا ہے، بخدا مرتے دم تک
تجھ بدبخت کے ساتھ کلام نہ کروں گی۔