یہ شخص اور اس کا بھائی سعد بن حارث فوج اشقیا ٔ میں تھے اور خوارج میں
شمار ہوتے تھے۔۔ جب امام ؑنے استغاثہ کی آواز بلند فرمائی اور خیمہ ہائے اہل بیت
سے بچوں اور بیبیوں کے گریہ کی آواز بلند ہوئی تو ان دونوں بھائیوں کی قسمت نے
یاوری کی اور آپس میں مشورہ کیا کہ بلاشک جب حسین ؑ ہمارا پیغمبرزادہ ہے تو اس کو
قتل کر کے ہم اس کے نانا کی شفاعت کے حقدار نہیں ہو سکیں گے۔۔۔ پس تلواریں درمیان
سے نکال کر آمادۂ نصرت فرزند رسول ہوئے اور ایک جماعت کثیر کو فی النار کرنے کے
بعد جام شہادت نوش فرمایا۔
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل