یہ شخص حضرت امام حسین ؑ کا غلام تھا اس کو آپ ؑ نے امام حسن ؑ کی شہادت
کے بعد خرید لیا تھا اور پھر امام زین العابدین ؑ کو بخش دیا تھا۔۔۔ اس کا باپ
تُرک تھا اور یہ غلام قاری قرآن اور امام عالیمقام ؑ کا منشی بھی تھا، مکہ سے
مدینہ اور وہاں سے کربلا تک آپ ؑ کے ہمرکاب رہا ۔۔۔ جب روز عاشور لڑائی کی آگ
بھڑک اٹھی تو اس نے امام سے اذنِ جہاد طلب کیا آپ ؑ نے فرمایا: میرے فرزند سجاد ؑ
سے اجازت لو۔ چنانچہ اس نے اپنے آقا حضرت سجاد ؑ سے اجازت طلب کی اور اہل حرم کا
سلام کیا اور تلوار نیام سے نکال کر میدان میں پہنچا اور ایک ہی حملہ میں ستر(۷۰) نابکاروں کو تہ ِتیغ کیا، حضرت سجاد ؑ نے اپنے غلام کے جوہر
شجاعت ملاحظہ فرمانے کے لئے خیمہ کا دامن بلند کیا اور دادِ شجاعت دی، ترکی غلام
کافی جہاد کرنے کے بعد ایک دفعہ پھر خیام کی طرف پلٹا اور حضرت سجاد ؑ کی خدمت میں
پہنچا اور اپنے آقا کو دوبارہ سلام کرنے کے بعد پھر میدانِ کارزار میں مشغول جہاد
ہوا آخر شدتِ پیاس اور کثرتِ زخم کی تاب نہ لا کر زمین پر گرا اور حضرت امام حسین
ؑ فوراً اس کے سرہانے پہنچے۔ گھوڑے سے اُتر کر روئے اور اس کے منہ پر منہ رکھا
ابھی غلام ترکی میں رمک جان باقی تھی۔۔ آنکھ کھولی اور دیکھا کہ سر حضرت امام
حسین ؑ کے زانو پر ہے۔۔۔ آقا کی طرف نظر بھر کر دیکھا اور اپنی خوشبختی پر
مسکراتے ہوئے راہی ٔ جنت ہوا۔
التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔
یہاں کلک کریں
علامہ حسین بخش جاڑا کی تصانیف ، تفسیر انوار النجف، قرآن مجید کی بہترین تفسیر ، لمعۃ الانوار، اس میں شیعہ عقائد ، اصحاب الیمین، شہداء کربلا کے بارے ، مجالس کا مجموعہ، مذہب شیعہ کی حقانیت پر مدلل کتاب ، احباب رسول، کتاب اصحاب رسول کا جواب ، اسلامی سیاست، اصول دین کی تشریح پر مفصل بحث ، امامت و ملوکیت ، خلافت و ملوکیت کا جواب ، معیار شرافت، اخلاقیات ، انوار شرافت، خواتین کے مسائل، انوار شرعیہ، مسائل فقہیہ ، اتحاد بین المسلمین پر مبنی مناظرہ ، نماز امامیہ، شیعہ نما زکا طریقہ اور ضروری مسائل