التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

بکیر بن حر ّ

’’وقائع الایام جلد چہارم‘‘ اور دوسری کتب میں بھی امام جعفرصادقؑ سے منقول ہے کہ جب روز عاشور لڑائی شروع ہوئی تو خدا نے امام حسین ؑ پر نصرت نازل فرمائی جو امام پاک کے سر پر پرواز کرتی تھی اور امام حسین ؑ کو نصرت اور لقائے پروردگار میں اختیار دیا گیا تھا لیکن آپ ؑ نے لقائے پروردگار کو پسند فرمایا۔
جب امام ؑ نے آواز استغاثہ بلند فرمائی تو حر ّ نے اپنے بیٹے بکیر سے کہا کہ میں تو امام حسین ؑ کے پاس جاتا ہوں اگر تو میرے ساتھ آنا چاہے تو خوب ہے۔ چنانچہ دونوں باپ بیٹا لشکر اعدا ٔ سے نکل کر لشکر امام ؑ میں پہنچے اور حر ّ نے شکر خدا ادا کیا۔
’’مخزن البکا ٔ ‘‘سے منقول ہے کہ حر ّ نے اپنے بیٹے کو کہا اے فرزند! مجھے آتش جہنم پر صبر کی تاب نہیں بہتر ہے کہ حسین ؑ کی طرف چلے جائیں۔۔ اس نیک بخت نے باپ کی آواز پر لبیک کہی اور ادھر آتے ہی حر ّ نے پہلے اپنے بیٹے کو میدانِ کازار میں روانہ کیا اور مردانہ وار لڑنے کی تلقین کی۔۔۔ چنانچہ حر کا بیٹا گھوڑے پر سوار میدان میں پہنچا اور ایسا سخت حملہ کیا کہ اہل کوفہ کا ناک میں دم کر دیا اور پچیس آدمیوں کو فی النار کر کے ایک دفعہ پھر باپ کی خدمت میں پہنچا اور کہا اگر ہو سکے تو ایک گھونٹ پانی پلا دیجئے۔۔۔ حر ّ نے جواب دیا بیٹا صبر کرو اور جہادِ راہِ خدا میں ہرگز کوتاہی نہ کرو پس وہ دوبارہ میدان میں پلٹا اور مرد میدان بن کر داد شجاعت دی اور ایک بڑی تعداد کو واصل جہنم کیا اور آخر کار جام شہادت نوش فرما کر راہی ملک بقا ہوا۔۔۔ حر ّ نے جب اپنے فرزند کو شہید دیکھا تو کہا اللہ کا شکر ہے کہ تجھے امام ؑ کے قدموں میں شہادت نصیب ہوئی، اس کے مقتولین کی تعداد ستر (۷۰) تک بیان کی گئی ہے۔