التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

شہادتِ مختار

امیرمختار نے کوفہ کی حکومت سنبھالنے کے بعداٹھارہ ماہ کے عرصہ میں قاتلین امام مظلوم ؑ میں سے اٹھارہ ہزار ملاعین کوتہِ تیغ کیا اگر ان کوساتھ ملایاجائے جنہیں ابراہیم بن مالک اشتر نے نہر خازرکے کنارے پرقتل کیا تھا تومقتولین کی کل تعدادسترہزار سے بڑھ جاتی ہے، اس دوران عبداللہ بن زبیرمکہ میں اوراس کا بھائی مصعب بن زبیربصرہ میں ظاہراً خاموش تماشائی بنے رہے اوراندرونی طور پر وہ مختارکے فعل پرراضی تھے کیونکہ بنی امیہ ابن زبیرکے دشمن تھے، نہرخازرکے واقعہ کے بعدمصعب بن زبیرنے سات ہزارفوجی سپاہی لے کرمختارپرچڑھائی کی، مختارکوجب اطلاع پہنچی تواس نے ایک خطبہ میں کوفیوں سے خطاب کیا اے اہل کوفہ! تمہارے اس شہر کے باشندوں نے بغاوت کرکے تم پر چڑھائی کی ہے جس طرح وہ اس سے قبل فرزند پیغمبر کو قتل کر چکے ہیں اب وہ ابن زبیر کے ساتھ مل کر تمہارے قتل کے درپے ہیں لہذا ان کے مقابلہ کیلئے تیار ہوجائو، پس چارہزار جنگی مرد تیار ہوئے اور حمام اعین کے نزدیک دونوں فوجوں نے ایک دوسرے کا بالمقابل پڑائو کیا، مصعب نے مختار کو عبداللہ بن زبیر کی دعوت دی، مختار نے جواب دیا ہم دونوں کو چاہیے کہ خونِ حسین ؑ کا انتقام لیں اور ایک مجلس شوریٰ کے ذریعے اپنا سر براہ تجویر کرلیں، پس جس کو آلِ محمد سر براہ مقرر فرمائیں اس کو تسلیم کر لیں اور اس کے ماتحت رہ کر کام کریں لیکن اس تجویز کو مصعب نے تسلیم نہ کیا اور آخر کار لڑائی چھڑ گئی، مختار کی فوجوں نے شکست کھائی اور مختار اپنے ساتھیوں سمیت کوفہ کے دارالامارہ میں محصور کر دیا گیا۔
مختار کو اپنی موت کا یقین تھا اس نے اپنی زوجہ امّ ثابت کو الوداع کہا، غسل کر کے اپنے بدن پر خوشبو لگائی اور حنوط کرکے دارلامارہ سے باہر نکلا، جہاد کرکے جام شہادت نوش کیا، اس کا سر قلم کرکے مصعب کی طرف بھیجا گیا یہ واقعہ  ۶۷ھ؁ کا ہے۔