یہ شخص جناب رسالتمآبؐ کے صحابہ میں سے تھے۔۔۔ واقعہ کربلا میں کافی سن
رسیدہ تھے، انہوں نے جناب رسالتمآبؐ سے حدیثیں نقل بھی کی ہیں۔۔۔ چنانچہ عسقلانی
نے ’’اصابہ ‘‘ میں انس بن حارث سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ حضرت رسالتمآبؐ سے اس نے
خود سنا تھا کہ خود فرماتے تھے: میرا یہ فرزند یعنی حسین ؑ زمین کربلا میں قتل ہو
گا جو شخص اس موقعہ پر حاضر ہوا اُس پر اس کی نصرت واجب ہے، زیارت ناحیہ مقدسہ میں
امام پاک نے اس بزرگوار پر بھی سلام بھیجا ہے۔
جب امام حسین ؑ نے اس بزرگوار کو ابن سعد کے ارادوں سے اطلاع پانے کے لئے
بھیجا تو اس نے عمر بن سعد کو سلام نہ کہا۔۔۔ ابن سعد نے پوچھا کہ تو نے مجھے سلام
کیوں نہیں کہا؟ کیا تو ہمیں مسلمان نہیں سمجھتا؟ حالانکہ ہم نے خدا اور رسول کا
انکار نہیں کیا! تو اس بزرگوار نے جواب دیا کہ تو نے خدا و رسول کو کس طرح پہچانا
ہے؟ جب کہ فرزند رسول کے قتل پر کمربستہ ہے!
پس ابن سعد نے سر جھکا لیا اور کہا خدا کی قسم ان کے قتل کرنے والوں کا
انجام بیشک جہنم ہے لیکن عبیداللہ بن زیاد کے حکم کی اطاعت سے گریز نہیں کیا جا
سکتا!
بہرکیف اس بزرگوار نے بروزِ عاشور اجازتِ جہاد حاصل کی اور بحرِ جنگ میں
غوطہ زن ہوا۔۔۔ اور ضعیفی اور بڑھاپے کے باوجود ایسی جرأت و ہمت سے حملہ کیا کہ
روباہ صفت انسانوں کے درمیان گونجتا ہوا شیر معلوم ہوتا تھا، آخر اٹھارہ (۱۸) ملاعین کو تہِ تیغ کر کے جام نوش کیا۔