حصین بن نمیر کے قتل کے بعد تغلبی نوجوان نے شرجیل کو بھی واصل جہنم کیا،
یہ بھی رئیس فوج تھا اور اب تو لڑائی کی گہماگہمی حد سے بڑھ گئی اور لوہے پر لوہے
کی آواز آہن گروں کے بازار کی یاد کو تازہ کررہی تھی، گرز گرز پر۔۔ نیز ہ نیزہ
پر اور تلوارتلوار پر پڑرہی تھی، طرفین کے نعروں سے فضامیں ایک قیامت کی گونج تھی
اور گردوغبارکی کثرت فلک نیلگوں پرپردہ ڈال چکی تھی اوردن کورات دکھائی دیتی تھی،
ہرطرف سے خون کی نہریں جاری تھیں، ابراہیم بن مالک خود مصروف جنگ تھا اوردوران جنگ
میں خود سرسے بلندکرکے آوازدی اے اللہ کی فوج ہوشیار رہو،یہ سن کرمختار کی فوج میں
جوش تازہ ہوا، نماز ظہرتکبیر اور اشارہ سے اداکی گئی، پس ابراہیم کی فوج شامی فوج
پرچھاگئی اورکشتوں کے پشتے لگ گئے، شامیوں کے قدم اُکھڑ گئے اورموصل کی جانب بھاگ
کھڑے ہوئے اورابراہیم شیرغضبناک کی طرح حملہ پرحملہ کررہاتھا اورشامی فوج ٹڈی دل
کی مانند متفرق ہورہی تھی، شامی سپاہی خوف وہراس سے اپنے آپ کو نہرخازرمیں گراتے
تھے کہ تلواروں سے مارے جانے والوں کی تعدادسے ڈوب کرمرنے والوں کی تعدادزیادہ
ہوگئی، ابراہیم کی فوج کوبہت زیادہ غنیمت ہاتھ آئی۔
شرجیل بن ذی الکلاء لعنہٗ اللہ
حصین بن نمیر کے قتل کے بعد تغلبی نوجوان نے شرجیل کو بھی واصل جہنم کیا، یہ بھی رئیس فوج تھا اور اب تو لڑائی کی گہماگہمی حد سے بڑھ گئی ۔۔۔