تفسیر مجمع البیان میں حضرت علی علیہ اسلام سے اس کی وجہ یہ منقول ہے کہ سورہ برائت کے اوّل میں بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نہیں اُتری کیونکہ بسم اللہ امان اور رحمت کےلئے ہے اور برائت رفعِ امان کےلئے ہے
حضرت امیر علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ بسم اللہ اس سورہ کے اوّل میں نہیں اُتری یہ جواب ہے ایک سوال کا کہ اس سورہ کے اوّل میں بسم اللہ کیوں نہیں لکھی پڑھی جاتی یعنی قرآن مجید کی باقی سورتوں کے اوائل میں بسم اللہ کا ہونا تبرک یاذاتی تصرف کے ماتحت نہیں بلکہ مصلحت وحکمت پروردگار کے ماتحت جن سورتوں کے اوائل میں نازل ہوئی وہاں لکھی اور پڑھی جاتی ہے کیونکہ یہ جزوسورہ ہے اور جہاں نہیں نازل ہوئی وہاں نہ لکھی جاتی ہے نہ پڑھی جاتی ہے اور چونکہ اس سورہ کے اوّل میں نہیں اُتری لہذا ترک کی گئی ہے اور یہی دلیل قاطع ہے اس امر کی کہ بسم اللہ ہر سورہ کی جزو ہے سوائے سورہ برائت کے۔
اس کے بعد حضرت امیر علیہ السلام نے اس کی علت ووجہ بیان فرمائی کہ چونکہ بسم اللہ امان ورحمت کےلئے ہو اکرتی ہے اور اس سورہ کا مضمون رفعِ امان ہے لہذا شروع میں بسم اللہ نہیں اتاری گئی تو اس پر سوال پیدا ہو سکتاہے کہ قرآن مجید میں کئی اور سورتیں بھی ایسی ہیں جن میں عذابِ خداوندی کا تذکرہ ہے اور کافروں سے بیزاری کا تذکرہ ہے مثلا سورہ معارج، سورہ غاشیہ اور سورہ کافرون وغیرہ پھر ان سورتوں کے اوّل میں بسم اللہ کیوں نازل کی گئی؟ تو اس کاجواب ہے کہ یہ مصلحت وحکمت پروردگار ہے اور حضرت امیر علیہ السلام نے من جملہ دیگر مصالح وحکم کے ایک مصلحت کا نام لے لیا اور اس مصلحت کےلئے ضروری نہیں کہ حکم کےلئے علت تامہ کی حیثیت رکھتی ہو بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور وجوہ بھی ہوں جن کی بناپر یہ سورہ خصوصی امتیاز کا حامل قرار دیا گیا ہو اور من جملہ وجوہ کے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہےکہ مسلمانوں کو یہ یقین ہوجائے کہ بسم اللہ کا باقی سورتوں کے اوائل میں ہونا صرف تبرک نہیں بلکہ حکمت تنزیل کے ماتحت ہے جس کو خود اللہ بہتر جانتاہے اس کی مزید تحقیق تفسیر ہذا کی دوسری جلد میں گزرچکی ہے اس سورہ مجیدہ کا نام برائت بھی ہے اور توبہ بھی اور ان کے علاوہ اس سورہ کے آٹھ نام اور بھی ہیں۔
ا