حضرت علیؑ کی فضیلت اور دلیل خلافت
۔
أَجَعَلْتُمْ
سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللّهِ
وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللّهِ لاَ يَسْتَوُونَ عِندَ اللّهِ
وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ {التوبة/19}
الَّذِينَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ بِأَمْوَالِهِمْ
وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللّهِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ {التوبة/20} يُبَشِّرُهُمْ
رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ
مُّقِيمٌ {التوبة/21} خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا
إِنَّ اللّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ {التوبة/22}
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ آبَاءكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ
أَوْلِيَاء إَنِ اسْتَحَبُّواْ الْكُفْرَ عَلَى الإِيمَانِ وَمَن يَتَوَلَّهُم
مِّنكُمْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ {التوبة/23}
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ
وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا
وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ
فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّى يَأْتِيَ اللّهُ بِأَمْرِهِ وَاللّهُ لاَ
يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ {التوبة/24}
ترجمہ:
کیا بنایا ہے تم نے حاجیوں کی سیرابی اور مسجد الحرام کی آبادی کو برابر اس کے جو ایمان لائے اللہ پر اور روز قیامت پر اور جہاد کرے اللہ کے راستہ میں یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور اللہ نہیں ہدایت کرتا ظالم لوگوں کو۔ جو لوگ ایمان لائیں اور ہجرت کریں اور جہاد کریں اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور نفسوں کے ساتھ بڑے درجہ والے ہیں اللہ کے نزدیک اور وہی ہیں کامیاب۔ ان کو خوشخبری دیتا ہے ان کا رب اپنی رحمت کی اور رضا مندی اور باغات کی کہ ان کے لئے وہاں دائمی نعمتیں ہیں۔ ہمیشہ رہیں گے وہاں تحقیق اللہ کے نزدیک بڑا بدلہ ہے۔ اے ایمان والو نہ بناو اپنے آباء اور بھائیوں کو دوست اگر وہ دوست رکھیں کفر کو بدلے ایمان کے اور جو ان سے دوستی رکھے گا تو وہ ظالم ہوں گے۔ کہہ دو اگر تمہارے آباء اور اولاد اور بھائی اور بیویاں اور قبیلہ اور وہ مال جو تم نے کمائے اور تجارت جس کے نقصان کا تم کو اندیشہ ہے اور رہائشی مکان جو تم کو پسند ہیں (یہ سب) تم کو پیارے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے سے تو ٹھہرو تاکہ لائے اللہ اپنا فیصلہ اور اللہ نہیں ہدایت کرتا فاسق لوگوں کو۔
اجعلتم۔ شان
نزول: بروایت مجمع البیان، ایک دن
حضرت عباس بن عبدالمطلب اور شیبہ ایک
دوسرے پر اپنی اپنی بڑائی بیان کر رہے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام پہنچ گئے اور فرمایا کس چیز پر فخر کر رہے ہو؟ تو
عباس نے جواب دیا مجھے وہ فضیلت دی گئی ہے جو کسی کو نہیں ملی اور وہ ہے حاجیوں کا پانی پلانا، پھر شیبہ نے کہا مجھے مسجد الحرام کی عمارت کی فضیلت عطا ہوئی ہے، یہ سن کر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا مجھے شرم آتی ہے ورنہ میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ باوجود چھوٹی عمر کے جو فضیلت مجھے عطا ہوئی ہے تم دونوں اس سے محروم
ہو! پس دونوں نے پوچھا یاعلی وہ کونسی فضیلت ہے جو تو نے پائی ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا میں
نے تمہارے منہ منہ پر تلوار مار کر تمہیں خدا و رسول پر ایمان لانے کے اہل
بنایا، عباس یہ سن کر طیش میں آیا اور چادر
کا دامن زمین پر گھسیٹتے ہوئے خدمت نبوی میں اۤیا اور عرض کی آپؐ دیکھتے ہیں حضرت علیؑ ہمیں کیسی باتیں کہتا ہے؟ پس آپؐ نے
علیؑ کو بلوایا اور پوچھا کیا بات ہے؟ تو علیؑ نے عرض کی یا رسولؐ اللہ میں نے حق بات
کہی ہے خواہ کوئی ناراض ہو یا راضی ہو، اتنے میں جبرائیل علیہ السلام نازل ہوا کہ
پروردگار بعد سلام کے فرماتاہے اجعلتم سقایۃ الحاج ٠٠ الایہ حضرت عباس نے جونہی خطاب خداوندی سنا تو تین
مرتبہ کہا ہم راضی ہیں، نیز یہ بھی مروی ہے کہ جنگ بدر کے موقعہ پر جب عباس اسیر ہوئے تو لوگوں نے ان کو قطع رحمی
اور کفر کا طعنہ دیا تو عباس نے جواب دیا تم لوگ ہماری برائیاں ذکر کرتے ہو اور
ہماری خوبیاں ذکر نہیں کرتے! لوگوں نے پوچھا وہ خوبیاں تم میں کونسی تھیں؟ تو جواب
دیا مسجد الحرام کی عمارت و خدمت کعبہ کی دربانی حاجیوں کی سقائی اور اسیروں
کا چھڑانا، ہم یہ سب کام کرتے تھے تو یہ اۤیت
نازل ہوئی جس کا یہ مقصد ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی نیکی ہی قابل فخر نہیں ہو سکتی بلکہ انسان کا پہلا فخر ہے ایمان۔
بروایت عیاشی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے
ایک دفعہ حضرت علی علیہ السلام سے سوال
کیا گیا کہ اپنی کوئی فضیلت بیان کیجئے؟ تو آپؑ نے فرمایا کہ ایک دن میں اور عباس اور
عثمان بن ابی شیبہ بیٹھے ہوئے تھے، عثمان نے کہاکہ مجھے جناب رسول خداؐ نے
خزانہ دیا ہے یعنی بیت اللہ کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہیں، عباس نے کہا کہ مجھے حضورؐ نے حاجیوں کی سقائی عنایت کی ہے کہ زمزم میرے ہاتھ میں ہے اور یاعلی تجھے تو کچھ
نہیں ملا! پس یہ اۤیت نازل ہوئی اور بعض روایات میں طلحہ بن شیبہ دارمی کا نام
مذکورہے۔
اور علامہ حلّی نے
اس اۤیت مجیدہ کو بھی حضرت علیؑ کی خلافت
بلافصل کی دلیل قرار دیا ہے چونکہ مذکورہ
روایت مسلّماتِ فریقین میں سے ہے حتی کہ اس کو فضل بن روزبہان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اہل سنت کی کتب صحاح میں موجود ہے لہذا تقریبِ دلیل اس
طرح ہو گی کہ مقام مفاخرت میں حضرت علیؑ نے ان دونوں سے اپنی افضلیّت کا دعویٰ کیا اور وہ دونوں اپنے اپنے مقام پر
تمام امت سے بیان کردہ مضمون میں افضلیّت کا دعویٰ رکھتے تھے پس خداوند کریم
کا علیؑ کے حق میں فیصلہ یہ ثابت کرتا ہے کہ
علیؑ ایمان، ہجرت اور جہاد میں تمام اُمت سے افضل ہیں اور اس کا درجہ اعظم ہے خود
اندزاہ کیجئے جس کو خدا اعظم کہے اس کی
عظمت کا کوئی کیا اندازہ کر سکتا ہے؟ پس جب تمام امت سے افضلیّت ثابت ہوئی تو خلافت کا استحقاق
خود بخود ثابت ہو گیا اور اس کے بعد فائز
ہونے کی سند اور پھر رحمت رضوان اور جنت کی بشارت حضرت علیؑ کے بلند کردار
کی مقبولیت و محبوبیّت کی دلیلیں ہیں اور جو شخص واقعات کو پارٹی بازی اور جنبہ داری کی سطح سے بلند ہو
کر دیکھے تو اس کے لئے حق کی راہیں بالکل
روشن اور واضح ہیں لیکن جس کے دل و دماغ پر ایک طرف کی محبت اور دوسری طرف کا عناد
سوار ہو وہ بے چارہ تعصب کے شکنجے سے جان
نہیں چھڑا سکتا وہ انصاف وعدل اسی فیصلہ میں سمجھتاہے جو اس کی طرف داری کے رجحان
سے موزُونیّت رکھتا ہو اور جو بات اس کی منشاء طبع کے خلاف ہو اس کی تردید یا تاویل پر
کمر بستہ ہو جاتا ہے، فضل بن روزبہان اگرچہ
اس فضلیت کو حضرت علیؑ کے لئے مانتا ہے لیکن چونکہ خلافت کے نظریہ میں وہ
علیؑ کا طرفدار نہیں ہے لہذا وہ
کہتاہے یہ بات نصّ خلافت نہیں ہو سکتی اسی
لئے ان لوگوں کے نزدیک خلافت کا معیار ہی
کوئی نہیں پس جس کو لوگ کہہ دیں کہ تو
خلیفہ ہے تو وہ خلیفہ ہو جاتا ہے اور وہ افضل بھی ہو جاتا ہے ہم چونکہ ایک معیار کے
قائل ہیں کہ جو افضل ہو وہ خلیفہ ہو لہذا یہ اۤیت نصّ خلافت ہے کیونکہ اس میں اعلان
افضلیّت ہے اور وہ کہتے ہیں جو خلیفہ بن جائے وہی افضل ہے چونکہ علیؑ کو خلیفہ نہ
مانا گیا لہذا وہ افضل نہ ہو سکے گویا فرق صرف اتنا ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ جس کو حق
سجھا جائے اس کی طرف جھکا جائے اور وہ کہتے ہیں جس کی طرف جھکا جائے اس کو ہی حق
سمجھا جائے۔
یآ ایّھا الّذین: ابن عباس سے منقول ہےکہ جب ہجرت کا حکم ہوا اور لوگوں نے تیاری کی تو کسی کے سامنے زوجہ رونے لگی کسی کو ماں
باپ نے منع کیا کسی سے بچوں کی جدائی گوارا نہ ہو سکی پس اس طرح کئی لوگ ہجرت کی
سعادت سے محروم ہو گئے، تو خداوند کریم نے یہاں ہجرت کی اہمیت کو بیان فرمایا کہ تمام
دنیاوی تعلّقات سے خدا اور رسولؐ کا رشتہ زیادہ محبوب ہونا چاہیے اور مومن کو چاہیے
کہ ایمان کے راستہ میں حائل ہونے والے سے قطع تعلّقی کرے خواہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں اور جو شخص ان رشتہ
داریوں کو اور دنیاوی فوائد کو ملحوظ رکھے گا اور خدا و رسولؐ کے حکم
سے کنارہ کرے گا وہ ظالم ہو گا اور
یہ ایک تنبیہ ہے کہ ایمان کی محبت انسان میں اگر راسخ ہے
تو وہ ہر قسم کی قربانی دے سکتا ہے اور جو
شخص یہ قربانیاں نہیں پیش کر سکتا اس کا دعویٰ ایمان جھوٹا ہے اور اس سے یہ بھی واضح
ہو گیا ہجرت کا معنی صرف وطن چھوڑنا نہیں بلکہ ایمان کے
منافی ہر محبت کو خیر باد کہنے کا نام ہجرت ہے، تفسیر باطنی کے طور پر معصوم نے ایمان
سے مراد ولایت علیؑ بیان کی ہے اور اس سے منہ پھیرنے کا نام کفر ہے اور ایسوں سے
محبت کرنے والے ظالم ہیں تو جو لوگ دعویٰ ایمان کرتے ہیں اور غیر مومن لوگوں سے محبت
و اُنس بھی رکھتے ہیں حتی کہ ان سے رشتے ناطے بھی کرتے ہیں تو وہ اپنے ایمانوں کا
گہری نظر سے مطالعہ کریں اور ایمان کی پختگی کا علاج کریں جب اس سلسلہ میں ماں باپ
کو چھوڑا جا سکتا ہے تو پھر دوسری رشتہ داری اور محبت کا جوڑ کیسا؟ ہاں والدین کی
دنیاوی معاملات میں اطاعت کرنا ہر حال فرضِ عین ہوا کرتاہے۔