التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

نجاست مشرکین

نجاست مشرکین, مشرکین, نجس, نجاسات, رازی کی تحقیق,
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاء إِنَّ اللّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ {التوبة/28}
ترجمہ:
اے ایمان والو  تحقیق مشرک پلید ہیں پس نہ نزدیک جائیں مسجد الحرام  کے  بعد اس سال کے اور اگر ڈور فقر سے تو عنقریب غنی کردے گا  تم کو اللہ  اپنے فضل سے اگر چاہے تحقیق اللہ دانا و بینا ہے۔ 

نجاست مشرکین
انما المشرکون نجس:  نجس کا معنی ناپاک، یہ لفظ جب رجس کے ساتھ مستعمل ہو تو نون پر کسرہ آ جایا کرتاہے مثلا رِجسٌ نجسٌ کہتے ہیں، آیت مجیدہ کے ظاہر سےکفار کا نجسُ العین ہونا ثابت ہوتاہے اور مذہب امامیہ میں بلا استثناء کافر ومشرک  سب  نجس ہیں اگر یہ کسی چیز کو تَر ہاتھ لگائیں یاکسی تَر چیز کو چھوئیں تو نجس ہو جائے گی  اور ان کو نجس قرار دیا گیاتاکہ مسلمانوں کو ان سے پوری نفرت ہوجائے اور میل جول باہمی ختم ہوجائے اور ان کے اعتقاداتِ فاسدہ کے جراثیم مسلمانوں کے اذہان پر اثر اندازنہ ہوسکیں کیونکہ  باہمی دوستی اور میل ملاپ، اعتقادات میں تعدّی کا باعث بن جایا کرتے ہیں،  مذہب  امامیہ  میں ناصبی خارجی اور غالی  بھی کفار ومشرکین کی طرح نجس ہیں لہذااہل ایمان کو ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا ضروری ہے

وان خفتم عیلۃً:  جب کفار کوحرم کعبہ میں داخلہ کی ممانعت ہوئی  تو مسلمانوں  کو ڈر پیدا ہوا کہ ہماری تجارت میں کمی واقع  ہوجائے گی  تو خداوند کریم ان کی تسلّی وتشفی فرمارہاہے کہ اس کا تدارک وہ خود اپنے فضل  سے فرمادے گا، چنانچہ کہتےہیں اس کے بعد یمن وجدہ کے لوگ مشرف باسلام ہوئے تو انہوں نےاونٹوں گھوڑوں اور خچروں پر غلہ لاد کر اہل مکہ کے گھروں میں پہنچادیا اور ان کی کسر پوری ہوگئی پھر خداوند کریم نے مسلمانوں کو فتوحات دیں جن کی غنیمتوں سے وہ مالامال ہوگئے۔

ان شاء:  مشیت کاذکر اس لئے ہے کہ انسان اپنے رزق کی وسعت کو صرف اسباب خارجیہ کا مرہون منت قرار نہ دے بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھے اگر وہ چاہے تو بلااسبابِ ظاہر یہ رزق فراوانی سے بھیج  دیتاہے اور اگر وہ نہ چاہے تو اسبابِ ظاہر یہ کی کثرت بھی مفیدثابت  نہیں ہوتی۔

مشرکین وکفار کی نجاست کے بارے میں رازی کی تحقیق
اہل سنت کا امام فخرالدین رازی  اپنی تفسیر کبیر ج4 مطبوعہ  مصر ص418 پر اۤیت مجیدہ کی تفسیر میں رقمطراز ہے کہ صاحبِ کشاف نے  ابن  عباس سے روایت کیا ہے  ان اعیانھم نجسۃ کاالکلاب والخنازیر  یعنی  وہ کتے  اور سور کی طرح  نجس العین  ہیں  اور آگے  چل کر کہتاہے  و اما الفقھاء فقد اتفقواعلی طھارۃ اابدانھم (ترجمہ) لیکن تمام فقہاابوحنیفہ ، شافعی، احمد بن حنبل  اور مالک وغیرہ  نے  ان  کی جسمانی طہارت پر اتفاق  کیا ہے  اور اپنی رائے  کا اظہار یوں  کیاہے کہ واعلم  ان ظاھر القران یدل علی کو نھم انجاسا فلا یرجع عنہ الا بدلیل منفصل (ترجمہ) یہ جانو کہ  ظاہر قراۤن  ان کے  نجس ہونے پر دلالت کرتاہے لہذا اس ظاہر سے عدول نہیں کیاجاسکتا جب تک  کہ کوئی الگ دلیل موجود نہ ہو  نیز یہاں اجماع کا دعوی نہیں کیاجاسکتا کیونکہ مسئلہ اختلافی  ہے ، اس کے بعد  فقہاء  کی دلیلوں  کوذکر کیاہے  جو کافر ومشرق  کی جسمانی طہارت  پر انہوں نے  قائم  کی ہیں،  پھر ان سب کا جواب  مختصر لفظوں میں  اس طرح دیا ہے واعلم ان کل ھذہ الوجوہ عدول عن الظاھر  بغیر دلیل یعنی جو کچھ فقہاء نے  اپنے مسلک کی تصحیح  کے  لئے ذکر کیاہے  وہ سب قراۤن مجید کے ظاہر سے  بلا دلیل منہ پھیر نے  کے مترادف ہے،  بہر کیف رازی کے نزدیک کفار ومشرک نجس  العین  ہیں   اور اس کے نزدیک فقہاء  اہل سنت  کے اقوال بلا دلیل ہیں،  اس کے بعد اس نے  ایک عجیب پتے  کی بات کہی ہے کہ ابوحنیفہ  اور اس کے شاگردوں کے نزدیک محدث خواہ  حدث اصغر  رکھتا ہو یا حدث اکبر  کے اعضا نجس ہیں  چنانچہ اس بنا پر انہوں نے فتوی دیا ہے  کہ  وہ پانی جو وضو  اور غسل جنابت میں استعمال ہو بدنی  ظاہری  طہارت  کے  بعد  وہ نجس ہے  یہ  الگ  بات  ہے  کہ ابویوسف  کے نزدیک  وہ نجاست خفیفہ  ہے  اور حسن کے نزدیک نجاست غلیظہ ہے  بہر کیف اس بات  پر متفق  ہیں کہ محدث کے اعضاء نجس ہیں  اور ان کو چھونے والا پانی  بھی نجس ہوجاتاہے  لیکن قرآن  مجید  ان  کے اس قول کو  باطل قرار دیتاہے  کیونکہ فرماتاہے  انما المشرکون  نجس اور انّما کلمہ حصر ہے جس کا مقصد یہ ہے  کہ انسانوں میں صرف مشرک ہی نجس  ہیں  اور بس، پس  محدث کے اعضا کی نجاست کا قول مفہوم قراۤ ن  کے خلاف ہے  کیونکہ قراۤن  کا مفہوم کہتاہے  کہ صرف مشرک نجس ہے  اور مومن  نجس نہیں  ہے  لیکن ان لوگوں نے بالکل اس کا الٹ کیاہے کہ وہ مومن  بعض  حالات میں جب کہ محدث ہو نجس ہے  اور مشرک کسی بھی حالت میں  خواہ وہ محدث  بھی ہو نجس نہیں  ہے  اور اسی بناپر  وہ اس کے قائل ہیں کہ مشرک کے اعضاء سے مس شدہ پانی نجس  نہیں  ہے  خواہ  وہ کسی حالت میں  ہی  ہو اور مومن کے اعضاء سے مس شدہ  پانی  نجس ہے حتی کہ ان کے نزدیک  اکابرانبیاء  علیہم السلام  کا حدث  میں استعمال شدہ  پانی  بھی نجس ہے  اور اس پر جس قدر تعجب کیا جائے  کم  ہے!   اس کے  بعد رازی نے قراۤن  وحدیث واجماع  سے ثابت  کیاہے  کہ مومن کسی وقت  بھی نجس نہیں ہواکرتا۔

تعجب بالائے تعجب
بے شک  اس منطقی نتیجہ سے فخرالدین رازی کو بہت زیادہ  روحانی  کوفت ہوئی  ہے  اور ان کا تعجب  اۤخر  عمر  ختم نہیں  ہوسکا کہ اۤخر  فقہاء نے متفقہ طور پر ظاہر قراۤن  کے خلاف اکٹھ کیوں کرلیا؟ لیکن ہمیں تو خود  رازی کے استعجاب پر تعجب ہوتا ہے  کہ جن کو امام تسلیم کرتاہے  خواہ قراۤن  کی مخالفت کریں یاموافقت  تو پھر ان کو تنقید کا نشانہ  بنانے  کی کیا ضرورت  ہے؟  بلکہ ان کے سامنے سرتسلیم خم  کرنا چاہیے  لیکن اگر تحقیق کا مادہ طبیعت میں ہے  اور حق کی تلاش  میں قدم  آگے بڑھانا  ہے تو ذراتعصب  کی عینک اُتار  کر اپنے نظریے  کا جائزہ لے لے کہ  رسولؐ نے  کیا فرمایا تھا کہ قراۤن  کی تفسیر ایسے لوگوں سے دریافت  کرو جو خود قراۤن  فہمی  سے قاصر   ہوں ؟ انہوں نے تو بار بار ارشاد فرمایاکہ  میں تم میں دوچیزیں  چھوڑے  جاتا ہوں  ایک قراۤن  دوسرے  اہل بیت، اگر قراۤن  فہمی کے لئے  اہل  بیت اطہار  کے دروازے  پر جھکا  ہوتا تو اس ذہنی کوفت  میں مبتلا  کیوں  ہوتا؟ خدا اس تعصب  کا بیڑا  غرق  کرے  کہ باوجود جاننے کے  کہ  یہ امام قراۤن  کو نہیں  سمجھ سکتے  تاہم امام انہی کو ہی کہتا  اوراہل  بیت کو اہل سمجھنے  کے باوجود ان سے دورہے!

نجاست کے لئے دواہم سبب  ہیں :(1)          یہ کہ اس چیز کے اثرات ِ بد کی تعدّی سے  بچنا  مطلوب  ہو۔(2)          وہ چیز بنفسہ  ایسی  ہو کہ طبیعت انسانی  اس سے متنفر ہو یعنی  وہ چیزخبائث میں   سے ہو  پس ہر نجس چیز ان دوباتوں  میں سے خالی  نہ ہوگی ۔
وہ چیزیں جو نجس العین ہیں: (1،2) پیشاب پاخانہ : ارشاد قراۤنی ہے (ترجمہ)    جب تم سے کوئی شخص حاجت ضروریہ سے فارغ ہوکر اۤئے  اور پانی میسر  نہ ہو تو تیمم  کرے زمین سے اس حکم قراۤنی  کے مفہوم  سے  پیشاب  وپاخانہ کا نجس ہونا صاف  ظاہرہے عقلی طور پر اگر دیکھا جائے  تو تمام  عقلائے زمانہ خواہ مسلمان  ہوں  یاکافر  پیشاب وپاخانہ کو نجس اور واجب الاجتناب  جانتے  ہیں ۔
(3) منی:  خواہ انسانی  ہو  یا غیر  انسانی  اس کی نجاست بھی حسب  سابق معلوم ہے۔
(4) خمر  (شراب) خواہ کسی قسم کی ہو  قرآن میں اس کو رجس  کہا گیاہے۔
(5)  میتہ  (مردار) خواہ اۤدمی  کا ہو یا کسی حیوان کا نجس ہے البتہ اۤدمی  کے مردہ کو غسل  پاک کردیتاہے  اور حیوان پاک اگر تکبیر کےساتھ صحیح  ذبح  کیاجائے  تو اس کا مردہ  پاک ہوگا ورنہ مردہ نجس ہوگا۔
(6) خون ہر  قسم کا نجس ہے  بشر طیکہ خون جہندہ رکھنے والے جانور کا ہو البتہ ذبح  شدہ  جانور سے حسب معمول  خون نکل  جانے  کے  بعد جواندر بچ  جاتاہے  وہ پاک ہے اسی طرح جس جانور کا خون جہندہ نہ ہو  مثلا  مچھر پسو وغیرہ تو اس کا خون بھی پاک ہے  اور نجس العین  جانورکے خون اور عورت کے مخصوص  ہر سہ خون کےعلاوہ کا خون درہم  بغلی  سے کم  نمازی  کے لئے  لباس یا بدن سے معاف ہے  اور اسکا یہ مطلب نہیں  کہ  درہم بغلی سے کم خون پاک ہوگا بلکہ وہ ہو گا تو  نجس  اور دوسری تر چیز سے لگے گا تو  اس کو بھی نجس کرے گا لیکن نماز میں خون  کی اتنی مقدار معاف کردی گئی ہے۔
(7)  خنزیر (8) کتا (9) کافر ومشرک  چنانچہ فرقِ اسلامیہ  میں سے ناصبی  خارجی اور غالی بھی انہی کے حکم میں ہیں  اور ان کی وجہ نجاست پانچویں  جلد میں ملاحظہ  ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں