التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

رکوع 11 -- مرتد کی فسمیں اور احکام

رکوع 11 -- مرتد کی فسمیں اور احکام

رکوع نمبر11
شانِ نزول
یَسْئَلُوْنَکَ: اس کاشان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب جناب رسولِ خداہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لائے تو انہوں نے اطراف ونواح میں سریے (چھوٹے لشکر) روانہ فرمائے چنانچہ ایک سر یہ جواسی (80) آدمیوں پر مشتمل تھا عبداللہ بن حجش (جوکہ) آپ کا پھوپھی زاد تھا کی زیر قیادت مقام نخلہ کی طرف روانہ فرمایا (اوریہ جنگ بدر سے دوماہ قبل ہجرت کے بعد ستر ھویں ماہ کا وا قعہ ہے) تاکہ طائف سے آنے والے قافلہ قریش کی سرکوبی کریں اوران کامال بطور غنیمت قبضہ میں لیں قریش کاجو قافلہ طائف سے آرہاتھا ان کا سرکردہ عمر وبن عبداللہ حضرمی تھا جو عتبہ بن ربیعہ کا ہم قسم تھا اورماہ جمادی الآخر کے آخری دن ان ہر دوقافلوں کا آپس میں تصادم ہوا اور در حقیقت یہ دن رجب کا پہلادن تھا لیکن مسلمان اس کو جمادی آلاخر کا آخری دن سمجھے ہوئے تھے عمر وبن عبداللہ حضرمی مارا گیا اورمسلمانوں نے ان کاتمام مال واسباب لوٹ لیا اورمدینہ واپس آگئے کفار نے طعن وتشنیع شروع کی کہ مسلمانوں نے حرمت والے مہینے (ماہ رجب) میں جنگ کو حلال کردیا ہے، چنانچہ جناب رسالتمآب نے عبداللہ بن حجش سے ماجرا پوچھا تو اس نے عرض کیا حضور! ہم نے جمادی آلاخر کی آخری تاریخ سمجھ کر ایسا کیا ہے بہر کیف حضور نے وہ لوٹا ہوا مال واسباب واپس کردیا، اس کے بعد صحابہ نے ماہِ حرام میں جنگ کرنے کے متعلق آپ سے دریافت کیا نیز کفار قریش کا ایک خط بھی آنحضور کے پاس پہنچا تو خداوند کریم نے یہ آیت بھیجی کہ بیشک حرمت والے مہینے میں جنگ کرنا گناہِ کبیرہ ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا اورکفر کرنا اورمسجد الحرام سے روکنا اوروہاں سے اس کے اہل کو نکال دینا (جس طرح اہل مکہ نے مسلمانوں کے ساتھ کیا) یہ چیز یں گناہِ اکبر ہیں اورشرک کا گناہ قتل کے گناہ سے بہت زیادہ ہے۔
مَن یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ: مرتد کے اعمالِ سابقہ کے ضائع ہونے کے متعلق جہاں تک اس آیت مجیدہ سے ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ ارتدادپر اس کی موت آجائے ورنہ اگر ارتداد کے بعد مرنے سے پہلے تو بہ کرلے اوراپنے سابق کئے پر نادم ہوجائے تو مفہوم آیت سے یہی مستفاد ہوتا ہے کہ اس کی تو بہ مقبول ہے اوراس کو اپنے اعمال صالحہ کا بدلہ دیا جائے گا گویا ارتداد سابقہ اعمال کی موت ہے اورتوبہ ان کو دوبارہ زندہ کردیتی ہے جبھی توکہاجاتاہے کہ مرتد پر اپنے زمانہ ارتداد میں فوت شدہ عبادات کی قضا بھی واجب ہے جس طرح کہ ظاہری حکومتوں میں حکومت کے باغی افراد کی گزشتہ تمام خدمات کو کالعدم قرار دیا جاتاہے اوراسے گردن زدنی سمجھاجاتا ہے لیکن اگر وہ نادم ہوکر آئندہ کےلئے حکومت سے دفاداری کاعہد کرلے تو اس کی تن بخشی ہو جایاکرتاہے بشرطیکہ حکومت کو اس کے عہد وپیمان پر اطمینان بھی ہو جائے اسی طرح حکومت الٰہیہ جو اساسِ عدل اورمعیارِ انصاف پر مبنی ہے اس کے باغی کی تمام تر نیکیوں پر قلمِ نسخ پھیر دیا جاتا ہے لیکن جب تو بہ کرلے اوربہ دل وجان اپنے خالق سے طالب عفو ہوجائے تو بتقاضائے عدل وانصاف اوربمقتضائے کرم وجود اس کی توبہ کےلئے دامن عفو خداوندی میں گنجائش ہے تو پس اس کے اعمال قابل جزاہوں گے بشرطیکہ خاتمہ ایمان پر ہوجائے۔
مرتد کی قسمیں
علمانے مرتد کی دوقسمیں کی ہیں: (1)مرتد ملی (2)مرتد فطری
مرتد ملی: وہ ہے جو کافر والدین کے گھر پیدا ہوکر بعدمیں باختیارِ خود دائرہ اسلام میں داخل ہو اورپھر دوبارہ کفر کی طرف پلٹ جائے
مرتد فطری: اس کو کہتے ہیں جو مسلمان والدین کو ہاں پیدا ہوا ہویا اس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک اس کے انعقادِ نطفہ کے وقت مسلمان ہو لیکن بعد میں وہ عقیدہ چھو ڑ کر کفر میں داخل ہوجائے
مسئلہ مرتد ملی کا حکم یہ ہے کہ اس سے تو بہ طلب کی جائے اوراس کی تو بہ ظاہری اوراُخروی ہر دولحاظ سے قابل قبول ہے دنیاوی لحاظ سے اس کی تو بہ کے قبول ہونے کامطلب یہ ہے کہ مقدارِزمان عدت کے اندر اس کی عورت اس کو واپس مل جائے گی اس کی جائیداد تقسیم نہ ہوگی اوراس سے قتل کا حکم برطرف کردیا جائے گا اوراُخروی لحاظ سے تو بہ قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اُخروی جزاکابھی حقدار رہے گا لیکن اگر اس عرصہ کے اندر توبہ نہ کی تو واجب القتل قرار دیا جائیگااس کی عورت اس سے آزاد اوراس کا مال ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔
مسئلہ مرتد فطری کی ظاہر ی طور پر تو بہ قبول نہیں بلکہ مرتد ہوتے ہی اس کی عورت اس سے بائن اوراس کا مال ورثہ میں تقسیم ہوجائے گا اوراگر حکومت شرعی ہوتو اسے قتل کردیا جائے گا البتہ اُخروی طور پر اگر صدقِ دل سے تو بہ کرے تو بعید نہیں کہ رحمت خداوندی اس کو اپنے سایہ میں لے لے اور عذابِ آخرت اس سے برطرف کرد ے۔


ایک تبصرہ شائع کریں