التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

رکوع نمبر15 -- غیر مدخولہ عورت کی طلاق

رکوع نمبر15 -- غیر مدخولہ عورت کی طلاق
رکوع نمبر15

غیر مدخولہ عورت کی طلاق

لا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ مَا لَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِیْضَةً  صلے وَّمَتِّعُوْھُن  عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہوَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہُ مَتَاعًام بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ (236) وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّا اَنْ یُّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہ عُقْدَةُ النِّکاح  وَ اَنْ تَعْفُوْآ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی  وَ لا تَنْسَوُ الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ  اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْر ( 237)
ترجمہ:
نہیں گناہ تم پر اگرطلاق دو عورتوں کو جبکہ تم نے ان کو مس (جماع) نہ کیا ہو یا مہر ان کا مقرر نہ کیا ہو اور فائدہ پہنچا ان کو خوشی حال اپنی حیثیت سے اور تنگدست اپنی حیثیت سے فائدہ ساتھ نیکی کے (حسب حال) یہ واجب ہے اوپر فرض شناس لوگوں کےo اوراگر طلاق دو ان کو قبل مس (جماع ) کرنے کے درآنحالیکہ مقرر کرچکے ہو تم ان کے لئے مہر تو پس آدھا حصہ مہر مقرر کا (ان کو دے دو ) مگر یہ کہ وہ معاف کر دے یاوہ شخص معاف کردے جس کے ہاتھ میں گرہ نکاح کی ہے اورتمہارا معاف کردینا تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اورمت بھلا آپس میں فضل واحسان کرنا تحقیق اللہ تمہارے اعمال کا دیکھنے والاہےo

رکوع نمبر۵۱
غیر مدخولہ عورت کی طلاق
لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ: گویاوہم پڑتا ہے کہ شاید عورت کو قبل دخول طلاق دینا ممنوع ہو پس ارشاد فرمایا کہ ایسا نہیں بلکہ اگر مرد چاہے تو قبل دخول کے اپنی عورت کو طلاق دے سکتا ہے۔
اسی طرح جس عورت کا مہر مقرر نہ کیا ہو اس کو بھی طلاق دے سکتا ہے لیکن اس کو کچھ نہ کچھ (حسب حیثیت ) فائدہ پہنچانا ضروری ہوگا تفصیل اس کی یوں سمجھئے کہ جس عورت کو طلاق دے رہاہے وہ مس شدہ (مدخولہ) ہے یاغیر مس شدہ (غیر مدخولہ ) ہے؟ اورہر دوصورتوں میں اس کا مہر مقرر ہے یا مہر مقرر نہیں:
(۱)   اگر مدخولہ ہے اورمہر مقرر شدہ ہے تو اس کی طلاق کےلئے وہی شرائط ہیں جو گزر چکی ہیں اورایسی مطلقہ پورے مہر کی حقدار ہوتی ہے مہر کے علاوہ اس کو کچھ دینا واجب نہیں ہے
(۲)   اگر مدخولہ ہواورمہر اس کامقرر شدہ نہ ہو تو طلاق کی شرطیں وہی ہیں لیکن خاندان عمر شکل وصورت ودیگراوصاف کے لحاظ سے اس جیسی عورتوں کےلئے جس قدر حق مہر ہونا چاہیے وہ اس کو دینا پڑے گا
(۳)   اگر غیر مدخولہ ہو اورمہر مقرر ہو تو طلاق میں باقی شرطیں ضروری ہیں صرف حیض سے پاک ہونا عورت کا ضروری نہیں بلکہ غیر مدخولہ کو حالت حیض میں بھی طلاق دی جاسکتی ہے اورمقرر شدہ مہر کانصف عورت کودینا واجب ہے مگر اس صورت میں کہ عورت اپنا نصف مہر کاحق معاف کردے یااس کاولی معاف کردے
(۴)   اگر غیر مدخولہ ہو اورمہر مقرر نہ ہوتو طلاق میں حسب سابق اس کاحیض سے پاک ہونا ضروری نہیں ہے اورمرد پر اس کو متعہ (فائدہ ) پہنچانا واجب ہے اوریہ فائدہ مرد کی حیثیت کے لحاظ سے ہے پس اگر غنی ہو تو گھوڑا یا بلند قیمت کپڑا یادس دینا دے اوراگر متوسط طبقہ کا آدمی ہوتو پانچ دینار دے اوراگر غریب ہو تو ایک دینار یاسونے کی انگوٹھی یا چاندی کی انگوٹھی دے دے اورمرد کاغنی یا فقیر یامتوسط طبقہ سے شمار ہونا زمان و مکان اورپوزیشن کے لحاظ سے عام عرف کے تابع ہے اسی طرح علمانے ذکرفرمایا ہے
 اَوْیَعْفُوَ الَّذِیْ بِیَدِہ عُقْدَةُ النِّکَاحِ: غیر مدخولہ عورت جس کا مہر مقرر ہو اس کو طلاق دینے کی صورت میں مرد پر اس کا نصف مہر ادا کرنا واجب ہوا کرتا ہے مکر یہ کہ عورت اپنا حق یعنی نصف مہر معاف کر دے یا وہ شخص جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اس سے مراد عورت کا ولی ہے اور علمائے امامیہ کے نزدیک باکرہ غیر بالغہ لڑکی کا ولی صرف ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اس سے مرادباکرہ عورت کا ولی صرف باپ یا دادا ہی ہو سکتے ہیں پس اگر بالغہ ہو گی تو معاف کرنا یا وصول کرنا اس کے اپنے اختیار میں ہے اور نا بالغہ ہو گی تو اس کے ولی کو اختیار ہے۔
مسئلہ غیر مد خولہ مطلقہ کا ولی پورا نصف مہر معاف کرنے کا حق نہیں رکھتا بلکہ بعض حصہ معاف کر سکتا ہے۔
مسئلہ اگر لڑکی اپنے ولی (باپ، دادا) کے تصرف معافی پر ناراض ہو تو اس کا کوئی اثر نہیں بشرطیکہ ولی نے اس کی مصلحت کے لیے ایسا کیا ہو۔
مسئلہ مطلقہ غیر مد خولہ عورت کی کوئی عدت نہیں ہوا کرتی بلکہ طلاق کے بعد فوراً اس کا نکاح دوسری جگہ جائز ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں