رکوع 9
حج کے مہینے
اَلْحَجُّ اَشْھُر مَّعْلُوْمٰت حج کے مہینے تین ہیںشوال ذوالقعدہ ذوالحجہ لہذا حج تمتع کے عمرہ کا احرام ماہِ شوال سے پہلے نہیں باندھا جاسکتا۔
فَمَنْ فَرَضَ: اپنے اوپر حج فرض کرنے سے مراد ہے کہ جس شخص نے حج کا احرام باندھ لیا تو پھر آئندہ ذکر ہونے والی چیزوں سے اس کا بچنا لازم ہے۔
وَلَا فُسُوْقَ: اس سے مراد جھوٹ ہے، اورابن عباس سے منقول ہے کہ تمام گناہ مراد ہیں اوربعض نے کہاہے کہ اس سے مراد ہے کسی کو برے نام سے پکارنا بعض نے گالی گلوچ مرادلئے ہیں، اس مقام پر تمام معانی مراد لئے جاسکتے ہیں اورحالت احرام میں ان سب سے اجتناب کرنا واجب ہے۔
وَلَاجِدَالَ: اس سے مراد لا وَاللّٰہ اور بَلٰی وَاللّٰہ کے الفاظ ہیں خواہ جھوٹ میں کہے یاسچ میں، اوربعض نے مطلق جھگڑا اورگالی گلوچ مراد لیاہے۔
نکتہ علمیّہ: آیت مجیدہ میں حج کے لفظ کو تین دفعہ دُہرایا گیا ہے حالانکہ پہلی دفعہ ذکرکرنے کے بعد باقی دونوں مقامات پر ضمیر کالانا کافی تھا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں حج سے مراد ہرسہ مقامات پر ایک نہیں ہے پہلی جگہ لفظ حج سے مراد زمانِ حج ہے اوردوسری جگہ افعالِ حج اورتیسری جگہ افعالِ حج کازمانہ مقصود ہے، اگر لفظ حج کو نہ دُہرایا جاتا بلکہ ضمیر کو لایا جاتا تو عبارت میں طول ہو جاتا کیونکہ دوسری جگہ بجائے لفظ حج کے اَفْعَالِہ اورتیسرے مقام پر زَمَانُ اَفْعَالِہ کہنا پڑتا اوراس میں شک نہیں کہ لفظ حج کے دُہرانے سے اس طول کی ضرورت نہیں رہتی۔
اِنْ تَبْتَغُوْا: امام جعفر صادق ؑ سے مروی ہے کہ فضل سے مراد رزق ہے یعنی جب احرام سے فارغ ہوجائے اوراپنے مناسک حج ادا کرلے اورتو اس کے لئے خرید وفروخت کی ممانعت نہیں ہے اورکہتے ہیں کہ جولوگ زمانِ حج میں کرایہ دار اورمزدور ہوا کرتے تھے تو ان کو دوسرے ساتھی کہاکرتے تھے کہ تمہاری حج صحیح نہیں ہوئی کیونکہ تم پیسہ کمارہے ہواوراس بناپر یہ آیت اُتری اورجابر نے حضرت امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے کہ فضل سے مراد یہاں مغفرت ہے کہ ان ایام میں خداسے بخشش ومغفرت طلب کرو۔
ثُمَّ اَفِیْضُوْا: اس کے معنی میں دوقول ہیں:
(1) افاضہ سے مراد وہی عرفات سے افاضہ کرنا ہے کیونکہ قریش لوگ وقوفِ عرفات نہیں کرتے تھے اورلوگوں کے ہمراہ رہنا اپنی ہتک سمجھتے تھے لہذا وہ مشعر میں وقوف کر کے وہاں سے منیٰ کی طرف افاضہ کرتے تھے تو یہ آیت اُتری کہ تم اسی جگہ سے افاضہ کرو جہاں سے اورلوگ افاضہ کرتے ہیں۔
اعتراض: عرفات سے افاضہ کرنے کاحکم پہلے بھی آچکاہے تو یہاں تکرار کیوں کیا گیا ؟
جواب: یہ ہے کہ یہاں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں یوں تھا:
ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ فَاِذَا اَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ
یعنی پھر افاضہ کرو جہاں سے افاضہ کرتے ہیں باقی لوگ یعنی دوسرے عرب اورجب عرفات سے افاضہ کرو تو پھر مشعر الحرام میں پہنچ کر خدا کا ذکر کرو
(2) دوسرا معنی یہ ہے کہ افاضہ سے مراد مشعر الحرام سے افاضہ کرنا ہے
پس دوافاضے واجب ہوئے پہلا عرفات سے مشعر کی طرف اوردوسرا مشعر سے منیٰ کی طرف (مجمع البیان)
روایاتِ اہل بیت ؑ میں پہلے معنی کو اختیار کیا گیا ہے اوروجہ یہی ہے کہ قریش مشعر سے افاضہ کرتے تھے اوردوسرے عرب قبائل عرفات سے افاضہ کرتے تھے جب جناب رسالتمآب تشریف لائے تو سب کو عرفات سے افاضہ کا حکم ہوا نیز آیت میں ”النَّاس“ سے مراد حضرت ابراہیم ؑوحضرت اسمٰعیل ؑلیے گئے ہیں۔
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰ بَآئَ کُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًاط فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَہفِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ(200) وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ(201) اُولٰٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْب مِّمَّا کَسَبُوْاط وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (202) وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍط فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فلَآ اِثْمَ عَلَیْہِج وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلٓا اِثْمَ عَلَیْہِ لا لِمَنِ اتَّقٰی ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (203) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْھِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہ لا وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ (204)
ترجمہ:
پس جب پوراکرو اپنے اعمال کو تو ذکرکرو اللہ کا جس طرح اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ پس بعض لوگ کہتے ہیں اے ربّ ہمیں عطا کر دنیا میں اورنہیں ہے ان کا آخرت میں کچھ حصہo اوربعض ان میں سے کہتے ہیں اے ہمارے ربّ ہمیں عطا کر دنیامیں خیر وخوبی اورآخرت میں خیر وخوبی اوربچاہم کو دوزخ کے عذاب سے o ایسے لوگوں کے لئے حصہ ہے اس چیز سے جو انہوں نے کمایا اور اللہ جلدی حساب لینے والاہے o اورتم ذکر کرو اللہ کا گنے چنے ہوئے دنوں میں پس جو شخص جلدی کرے دودنوں میں تو اس پر کوئی گناہ نہیں اورجو تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں واسطے اس کے جو بچا ہو اوراللہ سے ڈرو اور جان لو تحقیق تم طرف اسی کے جمع کئے جاﺅ گےo اورلوگوں میں سے بعض کی آپ کو بھلی معلوم ہوتی ہے بات اس کی دنیا میں اوروہ گواہ بناتاہے اللہ کو اوپر اس کے جو اس کے دل میں ہے حالانکہ وہ سخت ترین دشمن ہے o
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ: مجمع البیان امام باقرؑ سے مروی ہے کہ جب جاہلی عرب ان اعمال سے فارغ ہوتے تھے تو منیٰ میں جمع ہو کر اپنے آباﺅ اجداد کے کار نامے ذکر کرکے ایک دوسرے پر فخر ومباہات کیا کرتے تھے پس یہ آیت اُتری کہ جب مناسک حج کو ادا کرلیا کرو تو اللہ کا ذکر کیا کرو جس طرح اس سے پہلے اپنے باپ دادا کاذکر کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اورذکر سے مراد تکبیر ات ہیں جو عنقریب ذکر کی جائیں گی۔
رَبَّنَآ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً: اس کے کئی معانی کئے گئے ہیں:
(1) حسنہ دنیاسے مراد نعماتِ دنیاہیں اورحسنہ آخرت سے مراد نعماتِ آخرت ہیں
(2) امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ حسنہدنیاسے مراد رزق ومعاش کی وسعت اورحسن خلق ہے اورحسنہ آخرت سے مراد اللہ کی خوشنودی وجنت ہے
(3) دنیا میں علم وعبادت اورآخرت میں بہشت
(4) دنیا میں مال اورآخرت میں جنت
(5) دنیامیں نیک عورت اورآخرت میں جنت (یہ حضرت امیر ؑ سے مروی ہے)
اورجناب رسالتمآب سے مروی ہے کہ جس شخص کو شکر گزاردل ذکر کرنے والی زبان اورامور دنیاوآخرت میں امداد کرنے والی مومنہ عورت عطا ہو تو اس کو دنیاوآخرت کی خیروخوبی عطا ہوگئی اوروہ عذابِ دوزخ سے بھی بچ گیا۔
سَرِیْعُ الْحِسَابِ: اس کے دومعنی ہیں:
(1) انسان کو اپنے اعمال کی جزادور نہیں سمجھنی چاہیے بلکہ خدابہت جلد اس سے حساب لینے والاہے کیونکہ ادھر اس کی موت آئی ادھر اس کاحساب شروع ہوا لہذا حساب لئے جانے میں کوئی دیر نہیں
(2) قیامت کے روز خداحساب اپنی مخلوق سے جلدی لے گا یعنی ایک ہی وقت میں وہ تمام اہل محشر کا حساب لے لےگا، بعض روایات میں ہے ایک پلک جھپکنے کے وقت میں سب حساب لے لے گا کیونکہ وہ ایک ہی وقت میں سب کی سن سکتا ہے اور سب سے خطاب فرماسکتا ہے وہ اس معاملہ میں آلات واسباب کامحتاج نہیں ہے، حضرت امیر ؑ سے مروی ہے کہ خدامخلوق کاحساب ایک ہی وقت میں اس طرح لے گا جس طرح سب کو رزق ایک ہی وقت میں دے دیتا ہے۔
نکتہ لطیفہ : یہاں حج کرنے والوں کی نیت میں فرق بیان کیا گیاہے کہ لوگ حج کے لباس میں بھی دوقسم کے ہوا کرتے ہیں: طالب دنیا ، طالب دین
پہلی قسم کاپہلی آیت میں ذکر فرمایاہے کہ ان کی دعاصرف منافع دنیاوی کی طلب تک ہی محدود ہے لہذا ان کی طلب میں حسنہ کا کوئی ذکر نہیں کیونکہ اغراضِ دنیاویہ کے متوالے صرف تکمیل منافع دنیاویہ ہی ان کامطمع نظر ہوتا ہے خواہ اللہ کے نزدیک وہ اچھی ہو یابری کیونکہ ان کو تمام دنیاوی فوائداچھے ہی اچھے نظر آتے ہیں۔
دوسری آیت میں دوسری قسم کے حاجیوں کاذکر ہے جوخوشنودی خداکے لئے حج کرتے ہیں اورچونکہ ان کامطمع نظر اللہ کی رضامندی ہوتی ہے لہذاان کی دعامیں دنیاوآخرت میں حسنہ کی طلب کاذکر فرمایاہے۔
پہلی قسم کے لوگوں کا عمل اگرچہ تمام ہوتا ہے لیکن چونکہ کامل نہیں ہوتا لہذاان کے متعلق فرمایا کہ ان کاآخرت میں حصہ نہ ہوگا اوردوسری قسم کے لوگوں کاعمل تام بھی ہوتا ہے اورکامل بھی لہذاوہ جزاو ثواب کے مستحق ہیں تو ان کے لئے فرمایاکہ ان کے لئے ان کے کمائے ہوئے کااجر ثابت ہے۔
وَاذْکُرُوا اللّٰہ: ایامِ معدودات یعنی گنے ہوئے دن ان سے مراد ایامِ تشریق ہیں یعنی 11/12/13 ذوالحجہ اوران ایام میں ذکر کرنے سے مراد تکبیرات ہیں جن کو نماز ہائے فریضہ کے بعد پڑھنامستحب ہے اوربعض علماکے نزدیک واجب ہے اورعید کے دن نماز ظہرسے لے کر 13ذوالحجہ کی نماز صبح تک ان پندرہ نمازوں کے بعد ان تکبیرات کو پڑھناچاہیے اوروہ یہ ہیں:
اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَااِلہَ اِلَّااللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُاَللّٰہُ اَکْبَرُ عَلٰی مَا ھَدٰانَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ علٰی مَا اَوْلٰینَا وَاللّٰہُ اَکْبَرُ عَلٰی مَا رَزَقَنَا مِنْ بَھِیْمَةِ الْاَنْعَامِ
اورجو لوگ منیٰ میں موجود نہ ہوں ان کے لئے دس نمازوں کے بعد یہی تکبیر ات پڑھنی چاہئیں یعنی عید کے دن نمازظہر سے لے کر بارہویں کی نماز صبح تک گویاحاجیوں کے لئے پندرہ نمازوں کے بعد اورباقی لوگوں کے لئے دس نمازوں کے بعد ان تکبیرات کاپڑھنامستحب ہے اوربقولے واجب ہے۔
فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ: ظاہراً اس میں نفر اوّل کے جائز ہونے کی طرف اشارہ ہے جو شخص ایام تشریق کے دوسرے روز یعنی 12ذوالحجہ کو منیٰ سے روانہ ہوجائے تو اس پر کوئی گناہ (حرج ) نہیں ہے اورجو تا خیر کرے اور13ذوالحجہ کو وہاں سے روانہ ہو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، بارہویں کے دن نفر کرنا یعنی کوچ کرنا بھی جائز اورتیرھویں کے دن نفر کرنا بھی جائز ہے لیکن نفر اوّل سے نفر ثانی یعنی تیرھویںکے دن کی روانگی افضل ہے تاکہ جمروں کو سنگریزے اس دن بھی مار کرمقدار پوری کرلے اوربارہویں کے دن اگر نفر کرے تو زوال سے پہلے ناجائز ہے بلکہ زوال کے بعد غروب تک جس وقت چاہے جاسکتا ہے اورغروب اگر منیٰ میں ہوجائے تو پھر رات کورہنا واجب ہوجائے گا اورتیرھویں کے دن نفر ثانی کواختیار کرنالازم ہوگا۔
آیت کے معانی میں چند قول ہیں:
(1) لا اِثْمَ عَلَیْہِ سے مراد ہے کہ اعمالِ حج کرنے کے بعد اس کے تمام گناہ معاف کردئیے گئے خواہ نفر اوّل کرے یانفر ثانی دونوں صورتوں میں اس کے سابقہ گناہ مغفور ہیں
(2) ازالہ شبہ ہے ممکن ہے بعض لوگوں کے دل میں یہ وہم پڑجائے کہ شاید نفر اوّل یعنی بارہویں کو منیٰ سے کوچ کرناگناہ ہو تو اس وہم کا ازالہ کردیا گیاہے کہ نفر اوّل یانفر ثانی ہردومیں کوئی ہرج نہیں ہے
(3) امام جعفر صادقؑ سے ایک حدیث میں منقول ہے کہ آپ ؑ نے فرمایاکہ جس کی موت جلدی آجائے اوران دنوں کے اندر مرجائے تو اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں کیونکہ مناسک حج ادا کرنے کی وجہ سے سب کے سب معاف ہوگئے ہیں اورجس کی موت ان ایام سے موخر ہوجائے تو اس کاآئندہ کوئی گناہ نہ محسوب ہوگا بشرطیکہ گناہانِ کبیرہ سے بچارہے۔
لِمَنِ اتَّقٰی: اگر پچھلے فقرہ سے مراد نفر اوّل اورنفر ثانی کا جواز ہو (یعنی ۲۱ذوالحجہ یا۳۱ذوالحجہ دونوں ہی تاریخوں میں منیٰ سے روانگی جائز ہے اورحاجی کو اختیار ہے کہ جس دن چاہے روانہ ہو ) تواس صورت میں لِمَنِ اتَّقٰی اس کے اختیار کی قید ہے یعنی یہ اختیار اس حاجی کے لئے ہے جو حالت احرام میں شکار سے بچارہے، ورنہ جو شخص حالت احرام میں شکار سے نہ بچ سکا ہو تو اس کے لئے نفر اوّل جائز نہیں ہے بلکہ نفر ثانی اس پر واجب ومعین ہے اوراگر پہلے فقرہ میں پہلا یاتیسرا قول اختیار کیا جائے تو اِتَّقٰی سے مراد گناہانِ کبیرہ سے اجتناب ہے یعنی حاجی کے تمام سابقہ ولاحقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں بشرطیکہ آئندہ گناہان کبیرہ سے بچارہے چنانچہ امام جعفر صادقؑ نے بھی یہی فرمایا ہے۔
ربط: بیانِ حج میں گزر چکا ہے کہ لوگوں کی دوقسمیں ہیں: طالب دنیا ، طالب آخرت تو اس مقام پر بھی لوگوں کی دوقسموں کو بیان فرمارہاہے: ایک منافق قسم کے اوردوسرے خالص مومن پس ان آیتوں کو حج کی آیات سے مناسبت تھی لہذا حج کے بیان کے بعد ان کاذکر کیا گیا۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ: تفسیر عمدةُ البیان میں ہے کہ ایک شخص منافق اخنس نامی جو نہایت خوش گفتار تھا حضرت رسالتمآب کی خدمت بابر کت میں حاضر ہوا اوراللہ کو گواہ کرکے کہتا کہ جو میرے دل میں ہے وہی میری زبان پر ہے اورمیں سچے دل سے مسلمان ہوں آنحضور کو اس کی چکنی چپڑی باتیں ظاہر کے لحاظ سے پسند آیاکرتی تھیں، ایک دفعہ آنحضور کی خدمت سے رخصت ہو کر چلاگیا تو کسی مقام پر مسلمانوں کی کھیتی کو آگ لگا دی اوران کے چوپاﺅں کو قتل کردیا پس یہ آیت نازل ہوئی تفسیر برہان میں معصومین ؑ سے مروی ہے کہ باطن کے لحاظ سے اس آیت کے مصداق فلاں فلاں ہیں۔
وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْھَا وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لا یُحِبُّ الْفَسَادَ (205) وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُہجَھَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِھَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ رَوُف م بِالْعِبَادِ (207) یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّةً ص وَلا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہلَکُمْ عَدُوّ مبِیْن ( 208 ) فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْز حَکِیْم ( 209) ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ یَّاتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِکَةُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ( 210) ع
ترجمہ:
اورجب وہ برسرِاقتدار آتا ہے تو بھاگ دوڑ کرتا ہے کہ زمین میں فساد برپا کرے اس میں اوربرباد کرے کھیتی اورنسل کو اورخداکو دوست نہیں رکھتا o اورجب اس کو کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو غلبہ کرتی ہے اس پر حمیّت ساتھ گناہ کے پس کافی ہے اس کے لئے دوزخ اوروہ برا ٹھکانا ہےo اوربعض لوگ ہیں جو بیچتے ہیں اپنے نفس کو واسطے طلب رضامندیخداکے اوراللہ بڑا مہربان ہے اپنے بندوں پرo اے ایمان والو(صرف زبانی دعویٰ کرنے والو) داخل ہوجاﺅ اسلام میں (دل وجان سے) سب کے سب اورنہ اتباع کرو نقش قدمِ شیطان کی تحقیق وہ تمہارا ظاہر دشمن ہے o پس اگر تم پھسل جاﺅ بعد اس کے کہ آچکیں تمہارے پاس روشن دلیلیں تو پس جان لو کہ تحقیق اللہ غالب اور حکمت والا ہےo وہ نہیں انتظار کرتے مگر اس کی کہ لائے خداان پر بادل کے ٹکڑے اورفرشتے (عذاب کے) اورحتمی ہوجائے معاملہ (عذاب کا) اوراللہ کی طرف ہی پھیرے جائیں گے تمام امورo