تتمہ تمام اورکمال میں فرق
تمامیت: کسی مرکب کے بعض اجزاشروع ہو جانے کے بعد اس کے آخری جز تک انضمام کانام ہے۔
کمال: تمامیت کے بعد ایک وصف کے ساتھ اس کامتصف ہو نا جس پر اس شئے کے آثار کا ترتب موقوف ہو مثلاًانسان کے تمام اجزاکاپورے طور پر موجود ہونا یہ اس کی تمامیت ہے اوراس کاعالم یاشجاع ہونا مثلاًاس کاکمال ہے، پہلی صورت میں انسان تام ہے اوردوسری صورت میں انسان کامل ہوگا اس مقام پر حکم ہے کہ حج اورعمرہ کے شروع کرنے کے بعد اس کوتمام کرو یعنی تمام اس کے اجزابجالاﺅ۔
سوال: قربانی کے نہ ملنے کی صورت میں جہاں دس روزوں کا حکم دیا گیا ہے اورکہاگیا ہے کہ تین روزے حج کے دوران اورسات روزے واپس پہنچ کر پس یہ دس کامل ہوں گے، حالانکہ گزشتہ فرق کے پیش نظر سات روزوں کے ملنے سے دس کو تمام کہنا چاہیے۔
جواب: تین اورسات روزوں کا حکم جداجدا ہے گویا یہاں تین روزوں کا حکم اپنے مقام پر تمام ہے البتہ ان کا کمال اورقائم مقام قربانی ہونا ان سات روزوں کے رکھنے پر موقوف ہے لہذا یہ سات روزے پہلے تین روزوں کےلئے کمال ہیں۔
اَلْحَجُّ اَشْھُر مَّعْلُوْمٰت فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلَافُسُوْقَلا وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَالزَّادِ التَّقْوٰیز وَاتَّقُوْنِ یاُولِی الْاَلْباَبِ(197) لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحاَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰاتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ وَاِنْ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ(198) ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْر رَّحِیْم199))
ترجمہ:
حج کے مہینے معلوم (مقررشدہ) ہیں، پس جس نے ان مہینوں میں حج واجب کیا اپنے اوپر تو وہ قربِ عورت جھوٹ اورسچی یاجھوٹی قسموں سے دورانِ حج میں بچے اورجس قدرتم نیکیاں کرو گے اللہ ان کو جانتا ہے اورزادِراہ تیار کرو تحقیق بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے اورمجھ سے ڈرو اے صاحبانِ عقلo نہیں ہے تم پر کوئی گناہ کہ طلب کرو فضل اپنے ربّ سے پس جب تم افاضہ کرو عرفات سے تو ذکرکرو اللہ کا نزدیک مشعر الحرام کے اوراس کاذکر کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی اگر چہ تم اس سے پہلے (احکامِ شرعیہ سے) گمراہ تھے o پھر افاضہ کرو تم جہاں سے افاضہ کرتے ہیں لوگ اوربخشش طلب کرو اللہ سے تحقیق اللہ غفور رحیم ہے o