عقلی واصولی بحث
ذاتِ حق سبحانہ نے اس مقام پر نوعِ انسانی کی اصل فطرت ان کی تکلیف دین کی وجہ تشریع نوعِ انسانی میں سب اختلاف اورارسالِ انبیا کی غرض کو واضح فرمایاہے۔
جس کا اجمال یہ ہے کہ نوعِ انسانی کی فطرت جو اللہ نے ان کو ودیعت فرمائی ہے وہ ہے باہمی اتحاد وتعاون یعنی اوّلِ خلقت میں مزاجِ انسانی کا خمیراسی فطرت پاکیزہ اورجبلّت سعیدہ سے ہے لیکن طلب فضائل وکمالات اور اشتہاءمآثرومرغوبات کی فطری وخلقی ہوس نے اسے بے اعتدالی اوربے راہ روی کی آماجگاہ میں ڈال کر باہمی انتشار اورآپس کے نزاعات تک پہنچا دیا لہذا ان کے باہمی حقوق کے امتیازات اورنزاع واختلاف سے نجات کے لئے ایسے قوانین کے وضع کرنے کی ضرورت ناگریز تھی جو ان کے روزمرہ کے معاملاتی خلفشار اورذاتی مشاجرات کے قلع قمع کےلئے عمل میں لائے جائیں۔
پس ایسے قوانین جو خود ذاتِ اقدس الٰہیہ نے مصالح عباد کے لئے مقرر فرمائے ہیں ان کے مجموعی ڈھانچے کو دین کا لبادہ اوڑھا دیا اوران پر عمل کرنے یاان کوپس پشت ڈالنے کا نتیجہ ثواب وعقاب مقرر فرمایا اوران قوانین کو عملی جامہ پہنانے کےلئے انبیا ورسل کو بشارت ونذارت کے فرائض تفویض فرماکر بھیجا اور ساتھ ساتھ ان کو معارف وحقائق کا معلّم بناتے ہوئے فروعی اعمال کا ضابطہ دے کران کو قیادتِ انسانی کاعہدہ سپرد فرمایا تاکہ نوعِ انسانی جورواعتساف کجی وانحراف اور بے داد واستبداد کی پر خطر امن سوزاوروحشیانہ انداز سے اجتناب کرتے ہوئے بجائے توحش وتفحش کے پر بہار پر امن اورپر اطمینان زندگی گزاریں، باہمی اختلاف وانتشار کی جگہ انس ومحبت لے لے افتراق اتفاق سے بدل جائے خلفشار کی بجائے دوستی وپیار ہو سفاکی وبیباکی کے مقام پر صلح وآشتی آجائے بے حیائی وبے اعتدالی حیاوعفت اورعدل وانصاف سے تبدیل ہوجائے خود غرضی ونفس پر ستی کی جگہ رواداری اورغمگساری آجائے اورحیوانیت اوردرندگی کی بجائے شرافت اور انسانیت کا بول بالاہو۔
پس دین ایک ایسا ضابطہ اورلائحہ عمل ہے جونوع انسانی کو اپنی فطرت وجبلت کے فرائض سے روشناس کراتا ہے اور اتحاد وتعاون کا سر چشمہ ہے اور لادینی انسانیت کےلئے وہ سمّ قاتل اورزہر ہلاہل ہے جو خلافِ فطرت افعال کے لئے انسان کا پیش خیمہ ہے جن کا نتیجہ آخر کار انسانیت کے زندہ درگور کرنے پر منتہی ہوتاہے۔