التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

وجوہِ اختلاف و انتشار

وجوہِ اختلاف و انتشار
وجوہِ اختلاف و انتشار 
نیز انسان میں اسی شعور وادراک کے آثار ونتائج میں مختلف قوتیں موجود ہیں جو باہمی طور پر بر سر پیکار بھی رہتی ہیں جذبات خود پسندیخود غرضی اور نفس کوشی کا مقتضا یہ ہے کہ ان کمالات میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو اور انصاف وعدل کے تقاضے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کی بھی اجازت نہیں دیتے، جہاں اپنی ذات کے لئے جلب منفعت اور استخدام وتسخیر موجودات کی طرف پیش قدمی کی دعوت انسان کے جذبہ فطرت کی آواز ہے وہاں تجاوز حدود سے اجتناب اور شرافت ودیانت کے ماتحت باہمی یگانگت واتحاد وصلح و آشتی اور عدل وانصاف کے اصولوں سے تمسک اس کی آزاد و صالح ضمیر کی آواز ہے جس کو خلّاق عالم نے نو ع انسانی کی فطرت و جبلت میں تفویض فرما دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے فَالْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰیھَا اس نے انسان کو برائی اور تقویٰ کا الہام کر دیا ہے اور انسان کے مدنی الطبع ہونے کا بھی یہی مطلب ہے۔
افراد انسانی چونکہ قوت و ضعف میں یکساں نہیں اور جس طرح ان کی قوائے ظاہریہ میں تفاوت ہے اسی طرح ان کے مشاعرباطنیہ دل ودماغ اور حس وشعر وغیرہ میں بھی معتد بہ فرق ہے فطری رُحجان وجبلّی میلا ن میں چونکہ ایک دوسرے سے متحد ہیں لیکن ان کی ہر ہر قوتِ ظاہری وباطنی میں اپنے اپنے مقام پر نمایاں اختلاف ہے تو ہر مر حلہ پر جذبہ تسخیر وواستخذام جہاں آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے وہاں دوسرے کو اپنے راستہ سے ہٹانے کی بھی پیشکش کرتا ہے اور ذاتی شعور اور فطری احساس چونکہ سب میں ہے لیکن اسبابِ حصول اور ذرائع وصول میں تفاوت ہے لہذا اپنا رستہ ہموار کرنے کے لئے دوسروں پر دست تعدی دراز کرنے اور اپنی طاقت کے بل بوتہ پر ضعیف وکمزورپر ظلم کرنے تک نوبت آ جاتی ہے اور جائز و ناجائز کی پرواہ نہیں کی جاتی، جذبہ ہوس کے پیش نظر دوسروں کے حقوق زندگی کو پامال کرتے ہوئے ان کے فطری استحقاق کو صرف نظر انداز نہیں بلکہ کچل کر رکھ دیا جاتاہے!

اگر چہ تمدن کاتقاضا یہ تھاکہ باہمی انس ومحبت ہو تعاون واتحاد ہواوررواداری وہمدردی سے امن واطمینان کا دور دورہ ہو اوریہی چیز نوع انسانی کا پہلا فطری جوہر بلکہ اس کاطرّہ امتیاز ہے لیکن حرص وہوس کے جذبات کا اُبھار عدل واعتدال کی اس شاھراہ سے انسان کو کوسوں دور لے جاکر اسے اختلاف وانتشار کا گرویدہ بناتے ہوئے باہمی دست وگریبان ہونے کی بھی پیشکش کرتاہے جس کا نتیجہ سفاکی وبے باکی اوردرندگی وبہیمیّت بلکہ انسانیت کشی ہے۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں