حج کا بیان
فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ: یعنی اگر تم روک دیئے جاوتو قربانی کر لو
رکاوٹ دوقسم کی ہوا کرتی ہے:
(1) بیماری کی وجہ سے (2) دشمن یادرندہ یاکسی ظالم وجابر کی وجہ سے
اصطلاحِ فقہامیں پہلی قسم کی رکاوٹ کو حصر کہتے ہیں اوردوسری کو صدّ کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے اُحْصِرْتُم جس کا معنی ہے کہ تم حصر کی وجہ سے رک جاوتو ایسا کرو لیکن یہاں پر مراد عام ہے یعنی رکاوٹ خواہ حصر (مرض) کی وجہ سے ہو یا صدّ (خوف دشمن) کی وجہ سے ہو ہر دو صورت میں قربانی کر کے احرام سے باہرآو
فَمَا اسْتَیْسَرَ: قربانی کے جانور تین ہیں: (1) اونٹ (2) گائے (3)بکری
ان میں سے حسب حیثیت جو بھی میسر ہو سکے اسی کی قربانی کرلے اوراحرام سے حلال ہوجائے۔
وَلا تَحْلِقُوْا رُئُ وْسَکُمْ: یعنی حصر یا صدّ کی صورت میں قربانی کرنے کے بعد سرمنڈوائے اوراحرام کھول دے ورنہ جب تک احرام کی حالت باقی ہو اس وقت تک سر منڈوانا یا باقی حجامت کرانا ممنوع ہے اوراسی کے متعلق ارشاد فرمایاہے: کہ سر منڈوانا جائز نہیں ہے جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ احرام کی دوقسمیں ہیں: (1) احرامِ حج (2) احرامِ عمرہ ہر دوصورتوں میں رکاوٹ یاحصر (بیماری) سے ہوگی یا صدّ (خوف دشمن) وغیرہ سے ہو گی تویہ کل چار صورتیں بنتی ہیں:
(1) پس اگر احرامِ حج ہو اوررکاوٹ کی وجہ بیماری ہو جس سے آگے نہ جاسکتا ہو تو اس صورت میں اپنی حسب حیثیت قربانی روانہ کردے اوراس کے ذبح کا محل مقامِ منیٰ ہے اورقربانی لے جانے والے کے ساتھ وقت کی تعیین کرلے کہ دسویں ذوالحجہ کے دن فلاں وقت میں اس قربانی کو ذبح یا نحر کرنا ہے، پس یہ بیمار دسویں کے دن اس وقت تک انتظار کرے جس میں قربانی کے ذبح کا وعدہ کیا تھا اورجب وہ وقت آجائے تو یہ اپنے احرام کو کھول دے اورحجامت وغیرہ کرالے لیکن اس وقت سے پہلے نہ سر منڈوا سکتا ہے اورنہ کوئی دوسرا کام کر سکتا ہے جو احرام کے منافی ہو
(2) اگر احرامِ حج ہو اوررکاوٹ دشمن وغیرہ کی وجہ سے ہوگئی ہو کہ آگے نہ جاسکے تو جس مقام پر اُسے روکاگیا ہے وہیں قربانی کرکے احرام سے سبکدوش ہو جائے
(3) اگر احرامِ عمرہ ہو اور رکاوٹ بیماری کی ہو تو قربانی مکہ میں بھیج دے اورتاریخ اوروقت مقرر کرلے کہ مثلاً فلاں روز فلاں وقت مکہ میں میری قربانی کو ذبح یانحر کردینا پس یہ مریض اس وقت کی انتظارکرے اوروقت گزر جانے کے بعد اپنے آپ کر احرام سے آزاد سمجھے اورسر وغیرہ منڈوا لے
(4) اگر احرامِ عمرہ ہو اوررکاوٹ دشمن کی وجہ سے ہو تو جس مقام پر رکاوٹ لاحق ہوئی ہو اسی مقام پر قربانی کرکے احرام کھول دے جس طرح کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جناب رسالتمآب نے مقامِ حدیبیہ پر اپنی قربانی ذبح کرلی اورصحابہ کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیا
پس قرآن مجید کے اس حکم کا مطلب واضح ہو گیا کہ سر نہ منڈواﺅ جب تک کہ قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے اوریہ بھی معلوم ہو گیا کہ حج کے احرام میں قربانی کا مقام منٰی ہے اورعمرہ کے احرام میں قربانی کا مقام مکہ ہے اوریہ دونوں صورتیں حصر (بیماری) کی وجہ سے رک جانے والے کے لئے ہیں ورنہ صدّ (خوف دشمن ) کی صورت میں حج کا احرام ہو یا عمرہ کا ہو قربانی کا مقام وہی ہے جہاں صدّ واقع ہوا۔
فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ: اگرکوئی شخص بیماری یاسر میں جووں کے پڑ جانے کی وجہ سے سرمنڈوالےنے کا محتاج ہو اورصبر نہ کر سکتاہو تو وہ اس صورت میں سرمنڈوا سکتاہے لیکن اس پر کفارہ لازم ہے اوروہ یہ ہے کہ یا تین دن روزے رکھے یاچھ مسکینوں کو کھاناکھلائے، بعض روایات میں دس مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم ہے یا پھر ایک بکری ذبح کرے، ان تینوں چیزوں میں سے اس کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔
فَاِذَا اَمِنْتُمْ: بیماری یا دشمن وغیرہ کا خوف نہ ہو اورحج کرنے والاصحیح اعمالِ حج بجالانے پر موفق ہو تو حج تمتع کرنے والے پر ھَدْی(قربانی) واجب ہے اوراگر قربانی دستیاب نہ ہو سکے تو اس کے بدلہ میں اس پر دس روزے واجب ہیں جن میں سے تین روزے وہیں ایام حج میں رکھنے پڑتے ہیں اوران کا پے درپے رکھنا ضروری ہے، مگر ایک صورت میں اوروہ یہ کہ آٹھویں اورنویں کو روزہ رکھا ہے اوردسویں کو رکھ نہیں سکتا کیونکہ عید ہے تو یہ شخص تیسرا روزہ ایام تشریق کے گذر جانے کے بعد رکھ لے اس صورت کے علاوہ ان روزوں میں اگر پے درپے ہونے کی شرط نہ پائی گئی تو باطل ہوجائیں گے اور سات روزے سفر حج سے واپس آکر گھر پر رکھنے ضروری ہیں، لیکن اگر کوئی شخص گھر نہ پلٹے اوروہاں ٹھہر جائے تو پھر اتنے ایام صبر کرے جتنے گھر تک پہنچنے کے لئے درکار تھے اوراس کے بعد بقیہ روزے رکھ لے، یہ کل دس روزے ہیں جو قربانی حج تمتع کا بدلہ ہیں۔
ذٰلِکَ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ: یہ حج تمتع ان لوگوں کا فریضہ ہے جن کی اہل مسجد الحرام کے حاضرین سے نہ ہو، حاضرین مسجد الحرام سے مراد ہے کہ مکہ سے اڑھتا لیس (48) میل کے فاصلہ کے اندر ہوں، بعض علمائے کرام نے بارہ (12) میل کا قول اختیار فرمایا ہے۔