اِنَّ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ
ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ
اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ
اللّٰہِ وَاللّٰہُ غَفُوْررَّحِیْم (
218) یَسْئَلُوْنَکَ
عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ
فِیْھِمَآ اِثْم کَبِیْر وَّمَنَافِعُ
لِلنَّاسِز وَاِثْمُھُمَا اَکْبَرُ مِنْ
نَّفْعِھِمَا وَیَسْئَلُونَکَ ماَ ذَا
یُنْفِقُوْنَ۵ قُلِ الْعَفْوَ کَذٰلِکَ
یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ
لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ (219)
ترجمہ:
ترجمہ:
تحقیق
وہ لوگ جو ایمان لائے اوروہ لوگ جنہوں نے
ہجرت کی اورجہاد کیا راہِ خدامیں وہ لوگ
امیدوار ہیں رحمت خداکے اورخداغفوررحیم
ہےo
آپ
سے دریافت کرتے ہیں شراب اورجوئے کے متعلق
فرمادیجئے کہ ان میں گناہِ کبیرہ بھی ہے
اورنفع بھی ہے لوگوں کےلئے اورگناہ ان کا
ان کے نفع کے مقابل میں بہت زیادہ ہے اورآپ
سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ تو فرمادیجئے
کہ بچت اس طرح بیان فرماتاہے خداتمہارے
لےے آیات تاکہ تم سوچو o
شراب
وجوئے کی حرمت کابیان
اِنَّ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:
جو
لوگ ایمان لائے اورمہاجر بھی ہوئے اورمجاہد
بھی رہے ان کے اللہ کے نزدیک بلند درجات
ہیں اوروہ جنتی ہیں لیکن بشرطیکہ ان کا
خاتمہ بھی ایمان پر ہوجائے۔
یَسْئَلُوْنَکَ
عَنِ الْخَمْرِ :حضرت
امام موسیٰ کاظم ؑ سے مروی ہے کہ آپ ؑ نے
فرمایا کہ شراب کی حرمت کے لیے پہلے پہل
یہ آیت اتری پس اس آیت کے آنے سے لوگوں کو
شراب اور جوئے وغیرہ کی حرمت کا احساس ہو
گیا اور اس بچنے کے متعلق سوچنے لگے پھر
اس کے بعد حتمی حکم نازل ہوا جس میں شراب
جوئے اَنصاب اور اَزلام کو رجس اور عمل
شیطان کہا گیا اور پھر ان سے اجتناب کا
حکم دیا گیا اور یہ آیت شراب و جوائے کی
حرمت کے لیے پہلی سے سخت تر ہے اس کے بعد
تیسری آیت خدا نے نازل فرمائی جس میں شراب
اور جوئے کا ذکر خدا اور نماز وغیرہ سے
روکنے والا قرار دیا گیا، گویا شراب اور
جوئے کی حرمت کے ساتھ وجہ حرمت بھی بیان
فرمائی اور یہ پہلی دو آیتوں سے شراب و
جوئے کی حرمت میں سخت تر ہے اور ان سب کے
بعد خداوند کریم نے ایک اور آیت نازل
فرمائی:
اِنَّمَا
حَرَّمَ رَبِّی الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ
مِنْھَا وَمَا بَطَنَ اِلْاِثْمَ
وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ
اس
آیت میں خدانے سابقہ تینوں آیتوں کے
امتناعی حکم کی وضاحت فرمادی کیونکہ پہلی
آیت میں شراب اور جوئے کو ”اِثْم“ کے لفظ
سے تعبیر فرمایا تھا کہ یہ دونوں چیزیں
گناہ ”اِثْم“ ہیں اگرچہ ان میں لوگوں کے
لیے بعض منافع بھی ہیں اب اس آیت میں
”اِثْم“ کو حرام قرار دے دیا اور اس میں
حکمت یہ ہے کہ خداوندکریم مخلوق پر جس چیز
کو حرام کرتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کے حکم
میں شدت کرتا ہے تا کہ آہستہ آہستہ لوگ
عادی ہو جائیں اور یہ اس کی بہترین تدبیر
ہے کیونکہ پہلے صرف اتنا فرمادیا کہ اس
میں گناہ بھی ہے اور نفع بھی لیکن نفع کے
مقابلہ میں گناہ زیادہ ہے تو اس کو سنتے
ہی لوگ اس کے منع ہونے کو بانپ گئے تو دوسری
آیت میں حکم ہو گیا کہ فَاجْتَنِبُوْہ
یعنی اس سے بچو پھر تیسری مصلحت بھی فرمادی
کہ کہ یہ امور خیر ذکر خدا و نماز وغیرہ
سے روکنے والی چیزیں ہیں اور چوتھی آیت
مےں صاف حرمت کا فتویٰ صادر فرمادیا ہے۔
ایک
روایت میں علی بن یقطین سے مروی ہے کہ مہدی
عباسی خلیفہ نے امام موسی کاظم ؑ سے عرض
کیا کہ مولا خدانے قرآن مجید میں شراب
نوشی سے منع کیا ہے لیکن یہ نہیں کہا شراب
حرام ہے؟ آپ ؑ نے فرمایا بلکہ خدانے قرآن
میں شراب کو حرام فرمایاہے مہد ی نے دریافت
کیا کہ کہاں؟ آپ ؑ نے اسی آیت کی تلاوت کی:
اِنَّمَا
حَرَّمَ رَبِّی الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ
مِنْھَا وَمَا بَطَنَ اِلْاِثْمَ
وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ(سوائے
اس کے نہیں کہ خدانے حرام قرار دیا برائیوں
کو جو ظاہر ہوں یاباطن اورگناہ اوربغاوت
جو بغیر حق کے ہو)
برائی
ظاہر سے مراد اعلانیہ زنا کاری جس طرح
قحبہ خانوں کا قیام اوران میں آمدورفت کا
سلسلہ اورباطنی برائی سے مراد ہے کہ باپ
کی منکوحہ بیٹے کو نہیں آسکتی)
اقول:
جو
عورت مرد پر حرام ہو اسی کے ساتھ بدکاری
ممنوع ہے لیکن امام پاک نے ایک جزیبیان
فرمادی کیونکہ خلفائے عباسیہ اسی مرض میں
مبتلاتھے اور”اِثْم“ سے مراد ہے شراب
کیونکہ خدانے فرمایا:
قُلْ
فِیْھِمَا اِثْم کَبِیْر وَمَنَافِع
لِلنَّاسِ وَاِثْمُھُمَا اَکْبَرُ مِنْ
نَفْعِھِمَا پس قرآن مجید میں میں ”اِثْم“
کا اطلاق شراب اورجوئے پر ہو اہے اوراس
کو خدانے حرام کیا ہے پس مہدی عباسی نے
سنتے ہی علی بن یقطین سے متوجہ ہوکر کہا
ھٰذِہ فَتْوًی ھَاشِمِیَّةً (یہ
ہاشمی فتوےٰ ہے)
مجمع
البیان رسول خدانے فرمایاکہ شراب کے بارے
میں خداوند کریم نے دس آدمیوں کو ملعون
قرار دیا ہے:
خرید
نے والے کواس کو جس کےلئے خریدا جائےنچوڑنے
والے کو جس جس کےلئے نچوڑا جائےپلانے والے
کوپینے والے کو اٹھانے والے کوجس کی طرف
اٹھاکرلے جائےبیچنے والے کوکاشت کرنے
والے کو
ایک
روایت میں آپ نے فرمایاکہ شراب پینے
والامثل بت پوجنے والے کے ہے اورمنقول ہے
کہ جناب رسالتمآب نے فرمایاکہ میری امت
میں دس قسم کے لوگ ایمان کا دعوےٰ کرتے
ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں:
(1)تارک
نماز (2)تارک
زکوٰة (3)سود
خور (4)زانی
(5)شرابی
(6)چغل
خور (7)فتنہ
باز (8)گلہ
گو (9)ہمسایوں
کو دھوکا دینے والا (10)ظالموں
سے تعلق قائم کرنے والا تاکہ کسی کو مصیبت
میں پھنسائے
وَ
الْمَیْسِر:
امام
جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ نرداورشطرنج
میسر کی قسمیں ہیں اورجناب رسالتمآب سے
میسر کا معنی پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاکہ
ہروہ شئے جس میں جیت ہار کامقابلہ ہو وہ
جوا ہے حتی کہ گوٹیاں اوراَخروٹوں سے
کھیلنا بھی جوا بازی میں داخل ہے تاش بازی
جس کا ہمارے ملک میں عام رواج ہے یہ بھی
اسی قسم میں داخل ہے۔
امام
جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ شطرنج کا بیچنا
اس کی قیمت کا کھانا حرام ہے اس کا خریدنا
کفر ہے اس کے ساتھ کھیلنا شرک ہےاس کو ہاتھ
لگانا ایساہے جس طرح سور کے گوشت کو ہاتھ
لگایا جائے، لہذا جس طرح سور کے گوشت کو
ہاتھ لگانے کے بعد بغیر دھونے کے نماز
نہیں ادا کی جاسکتی اسی طرح شطرنج کو ہاتھ
لگانے کے بعد بھی بغیر ہاتھ دھوئے نماز
نہیں ہوسکتی اورشطرنج کی طرف نظر کرنا
ایسا ہے جس طرح اپنی ماں کی شرمگاہ کی طرف
نظر کرنا شطرنج کھیلنے والے پر سلام کہنا
گناہ ہے اورشطر نج کھیلنے والوں کے پاس
بیٹھنا دوزخ میں لے جاتا ہے، حدیثوں میں
شطرنج کا نام بطور مثال کے ہے ورنہ تمام
ان چیزوں کا یہی حکم ہے جو میسرکے حکم میں
داخل ہیںجیسے گوٹیاں کھیلنا اوراخروٹ
بازی اورتاش وغیرہ خدوند کریم تمام مومنین
کو ان روحانی امراض سے محفوظ رکھے (آمین)
قُلِ
الْعَفْوَ:
عفو
کامعنی ہے جو اپنے اوربال بچوںکے اخراجات
سے بچ جائے یااس کامعنی ہے درمیانہ یعنی
نہ اسراف نہ بخل احادیث اہل بیت ؑ میں
دونوں معانی وارد ہوئے ہیں۔