التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

ضرورتِ دین

ضرورتِ دین
ضرورتِ دین 
پس ان حالات کے پیش نظر جب تک یہ تصور نہ ہو کہ (ہمیں کو ئی پوچھنے والابھی ہے اور اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ہمیں کہیں جوابدہ بھی ہونا ہے اور ہمارے لئے جہاں نیک کر داری کی جزاہے وہاں بد اعمالی کی سزا بھی مقرر ہے) تویقینا تمدن میں اعتدال آہی نہیں سکتا پس معلوم ہوا کہ ان تمام نزاعات ومشاجرات کا واحد علاج ہے دین اوراسی مقصد کی تکمیل کے لئے خداوند حکیم نے انبیا ورسل کو شریعت دے کو مبعوث فرمایا جو انسانی پر امن زندگی کے لئے مژدہ جانفزا ہے اوراُخروی پرکیف ز ندگی بنانے کے لئے انتہائی طور پر کامیاب دستور العمل ہے پس توحید وعدل کا عقیدہ نبوت وامامت کا اعتقاد اورقیامت کا یقینی تصور ہی انسان کو انسانیت کے صحیح معیار پر لانے کا کفیل ہے اوراسی نظریہ کو تسلیم کرنے اوراسی کے ماتحت وضع شدہ قوانین شرعیہ کی پابندی کرنے کا نام ہے دین پس دین مادّہ وطبیعت پر ستوں کے قول کے مطابق صرف تقلید ہی تقلید کا نام نہیں بلکہ ایک ایساناقابل ترید اصولی وعقلی ضابطہ ہے جس سے کوئی صاحب عقل سلیم سرموانکار کرہی نہیں سکتا بشرطیکہ اولادِ انسان سے ہو، البتہ بندروں کی اولاد اِسے اگر تقلید سے تعبیر کرے تو ان سے بعید بھی نہیں؟ بہر کیف قیامت کا یقین محاسبہ کاخوف اورجزا وسزا کاتصور ہی ہر قسم کی غلط کاریوں کا علاج اوردنیوی واُخروی فلاح کا ضامن ہوسکتا ہے۔ 
نتیجہ 
معاشی پہلومیں جو کچھ اختلاف ہوتا ہے وہ صرف ان ہی دوفطری تقاضوں کی نبر د آزمائی کی ہی بدولت ہے یعنی تمدن اوراستخدام وتسخیر موجودات اوراس اختلاف کا حل واحد ہے بعثت انبیا 
 سوال: دو فطری تقاضے جب آپس میں متضاد ہیں تو خالق حکیم نے انسان کو تفویض کرنے میں کیا مصلحت رکھی ہے؟ 
جواب: دوفطری تقاضوں کا تضاد باعث عیب اورخلافِ حکمت ہو ا کرتا ہے جب کہ ان کے اوپر کوئی سلطان نہ ہو، لیکن جب یہ دونوں ایک حاکم بالاکے زیر نگیں قرار دئیے جائیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں اوراس کی مثالیں بہت سی مل سکتی ہیں۔ 
وجودِ انسان میں جو قوتیں موجود ہیں وہ اپنے اپنے مقام پر فطری حقو ق رکھتی ہیں لیکن ان کے تصرف سے باہمی تزاحم تک نوبت پہنچ جاتی ہے جس کو بیماری کہاجاتا ہے مثلاًقوتِ جاذبہ کا فطری حق ہے کہ غذا طلب کرے اورقوت ہاضمہ کی فطری ڈیوٹی ہے کہ اس کو ہضم کرکے جزوبدن بننے کے اہل کرے لیکن قوتِ جاذبہ جب بے اعتدالی سے کام لیتے ہوئے حد سے بڑھ جائے تو قوتِ ہاضمہ سے اس کاٹکرا ہوجائے گا یاقوتِ جاذبہ موذی غذا حاصل کرے اورقوتِ ہاضمہ اس کو ہضم کرکے جزویت بدن کی حد تک پہنچا دے تو دیگر قوائے باطنیہ اس سے بری طرح متاثر ہوں گی اورنتیجہ میں نظامِ بدن خراب ہوجائے گا اسی طرح زبان کافطری حق ہے بولنا، لیکن اگر حد ا عتدال سے بڑھ جائے تو نتیجہ ہو گا شروفساد، اسی طرح باقی اعضائے بدنیہ کی بعینہ یہی حالت ہے، پس ان قوتوں کو اپنے اپنے مقام پر حق فطری کے استعمال کی اجازت ہے لیکن بحد اعتدال اورچونکہ یہ خود ان حدود کو سمجھنے سے قاصر ہیں تو خدانے اپنی حکمت کا ملہ سے ان کے رفع تزاحم اوردفع تہاجم کےلئے ایک سلطان وحاکم بالا اپنی طرف سے معین فرمایا جس کو لسانِ شرع میں رسولِ باطنی سے بھی تعبیرکیا گیا ہے اوروہ ہے عقل، اورخداوند کریم نے اس رسولِ (عقل ) کو ایک حدتک مصالح ومفاسد معلوم کرنے کی طاقت دی ہے پس بدنی طاقتوں کاکام ہے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا اورعقل کا فریضہ ہے ان کو بے اعتدالیوں سے روکنا اورجب تک عقل کی یہ رعایا اپنے سلطان (عقل) کے زیر حکم عمل پیرا رہے گی تو اس میں امن وسلامتی اورصلح وآشتی رہے گی جس کے نتیجہ میںنظام بدن درست رہے گا اورساری رعایا کو خوش حالی نصیب ہوگی لیکن جب ہی اس رعایا میں سے کسی فرد نے اپنے حاکم یعنی عقل کے سامنے عَلَم بغاوت بلند کیا اوربے راہ روی اختیار کی تو اس کا وبال صرف اسی تک محدود نہ رہے گا بلکہ پوری مملکت بدن کی تباہی کے لئے پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ 

پس اسی طرح نوع انسانی کوخدانے ایک طرف فطری طور پر حق تمدن عطافرمایا اوردوسری طرف حق استخدام موجودات مرحمت کیا اوراعتدال وتوازن قائم کرنے کےلئے رسولوں کو ان پر مسلط فرمایاجن کو انسانی ضابطہ حیات بطور وحی والہام وکتاب وشریعت تفویض فرمایا تاکہ ہر ایک اپنی اپنی حدود کے اندر رَہ کردنیوی واُخروی فلاح وبہبود کی طرف اقدام کرے اورعالم میں امن وسکون اورآرام واطمینان قائم ہو پس جب تک نوع انسانی اس نظام کے ماتحت رسولوں کی ہدایت کو مد نظر رکھتے ہوئے اعتدال میں رہے گی تو نتیجہ خوشگوار ہوگا لیکن بخلاف اس کے اگر انسانی افراد کل یابعض حکومت الٰہیہ سے بغاوت کریں گے تو امن عالم تباہ ہوکر رہ جائے گا۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں