مصلحت ِجہاد
یہاں تک پہنچنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکے گی کہ ایک طرف تو انسان کاقتل گناہِ عظیم ہے اوردوسری طرف خداکی طرف سے جہاد کا حکم وجوبی حیثیت رکھتا ہے جس میں انسانی موت کوفراوانی دی جاتی ہے تو مثال گزشتہ اس سوال کو حل کرنے کےلئے کافی ہے کہ بدن کی حفاظت کےلئے ایک یادوفاسد اورباغی عضوﺅں کو بدن سے الگ کردینا عقل کااٹل فیصلہ ہے جوانتہائی طور پر قابل قبول ہے کیونکہ جزوی مفاد کو کلی مفاد پر قربان کرنابہتر ہے اس سے کلی مفاد کو جزوی مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا جائے البتہ یہ ضروری ہے کہ پہلے بمقتضائے عقل فاسد حصوں کی ہمہ تن کوشش سے اصلاح کی جائے اورحتی الوسع ہر ممکن علاج سے اس کو روبصحت لانے کی سعی بلیغ کی جائے لیکن جب علاج سے مایوسی ہو اور اس کاروبصحت لانا ناممکن ہو اورباقی بدن کی اصلاح وبقا اس فاسد حصہ کے معدوم کرنے میں ہو تو بلادریغ اس کو کائنات بدن سے حرف غلط کی طرح مٹادیا جانا عین دانائی ہے، پس اسی طرح نظام عالم کی بقاکےلئے جن جن اصول وعقائد اورفروع واعمال کے ضابطہ کی ترویج پر رسول مامور ہیں اگر بعض افراد اپنے مفسد انہ روےے پر قائم رہیں اوراس ضابطہ کو تسلیم نہ کریں تو پہلے ہرممکن طریقہ سے ان کو سمجھانا ضروری ہے اوربصورت ضدوہٹ دھرمی ان کاصفحہ ہستی سے نیست ونابود کردینا عین مصلحت اورقرین عقل ہے کیونکہ امن افرادپر امن عالم کو ہرگز قربان نہیں کیا جاسکتا بلکہ بقائے عالم پر بقائے افراد کو قربان کیا جاسکتا ہے۔