التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

اختلاف کا علاج

اختلاف کا علاج
اختلاف کا علاج 
کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً: لوگ ایک امت تھے یعنی اصل فطرت کے لحاظ سے ان میں یگا نگت واتحاد تھا اورتمدن ان کی عین جبلت تھا لیکن ان کو اختلاف وانتشار نے بے راہ روی اور امن سوزی کے تاریک گڑھے میں ڈال کر وحشت زدہ اور دحشت خوردہ بنا دیا لہذا خدائے حکیم نے انبیا ورسل کو شریعت اورکتاب دے کربھیجا جو ان کے لئے ضابطہ زندگی اورشاھراہ امن وسکون ہو۔ 
بنظر ظاہر ان اختلافات کے قلع قمع کا جو علاج سوچا گیا ہے اس کے دوطریقے ہیں: قانون ، تعلیم وتربیت
اوراس کی مثال اس طرح ہے کہ جس طرح ایک قافلہ کسی مقصد کے حصول کے لئے کسی دور منزل کی طرف اپنے زادِراہ اورلوازمِ سفر کے ساتھ گامزن ہو اوراثنائے طریق ان کے مابین پھوٹ پڑ جائے کہ آپس میں ہتک عزت لوٹ کھسوٹ اورقتل وغارت تک کی نوبت آجائے؟ پس ان ناگفتہ بہ حالات کا جائزہ لے کر اربابِ حل وعقدیکجا ہو کر اپنے جان ومال کی خاطر کافی سوچ وبچارسے متفقہ طور پر ایک لائحہ عمل کی تشکیل دینا چاہیں تو امن وسلامتی کی بقا ان کو دونظریوں میں معلوم ہو گی مثلاًایک جماعت کہے گی کہ قافلہ کے تمام افراد کی شخصی ملکیت کو ختم کردیا جائے اوران کی ہرشئے پر ہر شخص کو تصرف کا حق ہی دیا جائے کیونکہ سفر کاوقت پاس کرنا ہے جب سفر ختم ہوگا تو ہمیں ان چیزوں کی ضرورت ہی نہ رہے گی لہذا اس انفرادی ملکیت کا کیا فائدہ ہے جو باہمی رفاقت کےلئے باعث خطرہ ہو؟ بس امن وآشتی کے قیام کی واحد صورت ہے اشتراکیت۔ 

اوردوسری جماعت کہے گی کہ نہیں بلکہ ہر شخص کی ملکیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایسا ضابطہ بنالیاجائے جس کی بنا پر کوئی انسان اپنی حدودِ معینہ سے باہر نہ جاسکے اورباہمی ہمدردی اوررواداری کے اصول سے اس منزل سفر کو چین وآرام سے گزارلیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں