یہ دونوں طریقے اس نظریہ کے ماتحت ہیں کہ انسان کی زندگی صرف انہی دنیاوی چند لمحات میں منحصر ہے اوراس کے بعد کچھ نہیں اوریہ صرف جہالت اورنااندیشی کے علاوہ اورکچھ بھی نہیں درحقیقت ان لوگوں نے انسانیت کی غرضِ خلقت سے چشم پوشی کرلی ہے کیونکہ صرف یہی چند روزہ زندگی انسان کی غرض خلقت نہیں بلکہ اس فانی دنیاکے بعد انسان ایک غیر فانی منزل تک پہنچتاہے اوراس منزل کی بودوباش اور آرام وامن اس چندروزہ حیاتِ فانیہ سے وابستہ ہے، ا نسان کو سمجھناہے کہ مجھ کو کس نے پیدا کیا؟ اور کیوں پیدا کیا؟ اور میں نے کیا کرنا ہے؟
توحید سے چشم پوشی بلکہ کنارہ کشی ہی امن عالم کو جلا کر خاکستر کا ڈھیر بنانے کی ذمہ دارہے ہزار قانون بنائے جائیں لاکھ ضابطے تیار کئے جائیں لیکن حرص و ہوس جذبات شہویہ اور ہیجانات نفسیہ جورو اعتساف اور ظلم و استبداد کی ناخوشگوار فضا سے قطعاً باہر نہ آنے دیں گے کیو نکہ قہرو غضب سے کمزور طبقہ کو دبایا تو ضرور جائے گا لیکن ان کی قلبی ہم آہنگی اور سچی وفاداری کی تحصیل نہایت مشکل بلکہ محال ہے نیز قانونی شکنجہ کی سخت گرفت نچلے طبقہ میں اگر ظاہری طور پر موثر ثابت ہو بھی جائے لیکن اوپر کا طبقہ اور با اقتدار گروہ اپنی بد عنوانیوں سے ہر گز باز نہیں آسکتا۔