التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

حقیقت انسان

انسان کیا ہے؟ مادّہ وطبیعت کے پر ستار سادہ لوح طبائع انسانیہ کو موﺅ ف بلکہ مضمحل کرتے اوران کو لادینیت کے اُلجھاﺅ میں ڈالنے کے لئے کئی ایک بے تکیاں ..

انسان کیا ہے؟

 مادّہ وطبیعت کے پر ستار سادہ لوح طبائع انسانیہ کو موﺅ ف بلکہ مضمحل کرتے اوران کو لادینیت کے اُلجھاﺅ میں ڈالنے کے لئے کئی ایک بے تکیاں کستے ہیں اورمنجملہ ان کی خرافات کے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کی ابتدابندر سے ہوئی یعنی انسان پہلے بندر تھا اورمرورِ زمانہ سے ترقی کرتے کرتے انسان بن گیا؟

ان کا یہ دعوی صرف بعض مشابہات سے انکشاف کانتیجہ ہے ورنہ مقام دلیل میں ان کے پاﺅں لنگ اورزبان گنگ ہے خداوند قدوس نے اپنے کلام پاک میں متعدد مقامات پر پوری تفصیل سے آغازِ خلقت انسانیہ کا تذکرہ فرمایاہے اورنوعِ انسانی کو ایک علیحدہ مخلوق قرار دیاہے اس کا ماں باپ حضرت آدم ؑ وحواؑ کو قرار دے کر ان بےہودہ ولایعنی خیالات میں پڑنے سے روکاہے اوراس کو اشرف المخلوقات کی خلعت میں مزین فرماکر دنیا میں بھیجا ہے اگر نسل انسان بندر سے ہو تو اس عقیدہ کی حمایت کرنے والوں پر یہ عقلی فرض عائد ہوتا ہے کہ خلعت شرافت وتاج کرامت جو انسانیت کا زیور ہے اپنے سر سے اتار کران کرم فرماﺅں اورمہر بانوں کے سپر د کردیں جن سے اپنی نسل کی ابتدامانتے ہیں کیونکہ باپ کی موجود گی میں بیٹے کو قطعاً حکومت کا حق نہیں بلکہ کس قدر ناخلف اورعاق ہو گی وہ اولاد جو دوسروں پر تو بجائے خود اپنے باپ اورمحسن پر بھی اپنی فوقیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والی ہو (بریں عقل ودانش بباید گریست)

انسان دو اجزاکا مرکب ہے ایک روح دوسرا بدن روح جزءاشرف واعلیٰ ہے اوربدن جزءاخس ہے، ان ہر دو اجزاکا تعاون وتلازم زندگی کہلاتا ہے اوران کے تفارق کا نام موت ہے اور جو خدا قعر عدم سے نکال کر ہر دوجزﺅں کو خلعت وجود سے آراستہ فرماتے ہوئے ان کو اتحاد ویگانگت بخش سکتا ہے وہ ان کے افتراق وانتشار کے بعد دوبارہ ان میں یکجہتی لاکر حیاتِ ثانیہ سے بھی سرفراز فرماسکتا ہے اورجو عدم ازلی کے بعد وجود دینے پر قادر ہے اس کے لئے عدم لاحق کے بعد موجود کرنا کیا مشکل ہوسکتا ہے؟ کیونکہ نئے سرے سے جوڑ سکنے والے کے لئے توڑنے کے بعد جوڑنا تو کوئی بڑی بات ہی نہیں۔

پھر فیاض مطلق نے انسان پر خلعت وجود کے ساتھ ساتھ ایک جوہر شعور بھی مرحمت فرمایا اوراس کو کان آنکھ دل ودماغ ایسی قوتیں عطا فرمائیں، پس وہ حواس ظاہر یہ وقوائے باطنیہ کے باہمی تعاون اورعقل ودماغ کی روشنی میں ادراک وفکر کے صحیح وصائب نظریات سے استفادہ کرکے اشیائے عالم کا مطالعہ کرسکتا ہے اورپوری دیکھ بھال اورجانچ پڑتال کے ذریعہ سے تمام عالمی پیداوارمیں سے اپنے نفع ونقصان کی چیزوں میں امتیاز کرکے جلب نافع اوردفع ضار کرنے پر قادر ہے یعنی انواعِ موجودات میں آمرانہ تصرف اورحاکمانہ تسلط اس حضرت انسان کو حاصل ہے۔

ارشاد قدرت ہے خَلَقَ لَکُمْ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (جو کچھ زمین میںہے وہ تمہارے لئے ہی اللہ نے پیدا کیا ہے) سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (تمہارے لئے اس نے آسمانوں اورزمین کی تمام اشیاکو مسخر فرمایاہے) اس کے علاوہ دیگر آیات بھی بکثرت موجود ہیں جن میں انسان کا عالمی اشیاکے استخدام وتسخیر پر قادر ہونے کا صراحةًا یااشارةً وکنایةً ذکر آتا ہے اوردور حاضر میں اس کامطلب عقلی ادلّہ یانقلی براہین سے پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہی کیونکہ مشاہدہ وتجربہ نے مقام اثبات میں پڑنے سے سبکدوش کردیا ہے۔

پس قوت فکر اور رابطہ تسخیر مو جودات کے حصول کے بعد انسان کا ارتقاپسند اور رفعت طلب دما غ علومِ مناسبہ وفنونِ لائقہ میں دسترس حاصل کرنے کے لئے بے چین رہتا ہے اور اس کے مشاعر وقویٰ اس کو ہمیشہ آگے بڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔


ایک تبصرہ شائع کریں