التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

تفسیر رکوع 10 -- ربط آیات

تفسیر رکوع 10 -- ربط آیات

تفسیر رکوع 10

ربط آیات

اصول اسلام بیان کرنے کے بعد خداوند کریم نے یہ فروعی مسائل بیان فرمائے اورعمل کرنے والوں کے لئے وعدہ جنت اورنافرمانی کرنے والوں کے لئے وعید جہنم کاذ کرکیا اوربیان فرمایا کہ لوگوںکی تین قسمیں ہیں: 

(1) مومن جو دنیا وآخرت کی بھلائی چاہتے ہوئے نیک اعمال بجالاتے ہیں 

(2) خالص کا فر جن کا مطمع نظر صرف منافع دنیا ویہ ہیں 

(3) منافق لوگ جو تیرے سامنے میٹھی میٹھی اورچکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں اورباہر جاکر فساد بپاکرتے ہیں

 اس کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کی مخالفت اس لئے نہیں کہ حق کی دلیلیں کمزور ہیں بلکہ ان کاخبث باطن اورسوئِ سریرت ان کو قبول حق سے روکتی ہے اورتجھ سے پہلے بنی اسرائیل کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے ذرا ان سے سوال تو کیجئے کہ تمہارے پاس کس قدر واضح دلیلیں آچکی ہیں اورجو لوگ جان بوجھ کر حق سے کنارہ کش ہوتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کاعذاب سخت ہے۔ 

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا: بنی اسرائیل کو متنبّہ کرنے کے بعد کفار کے متعلق فرماتا ہے کہ اُن کو زینت دنیاوی پر غرور ہے اوراپنی ظاہری ٹھاٹھ کی بناپر حق سے یکسوئی کرتے ہوئے مومنین سے مسخری وغیرہ کرتے ہیں اوران کو اپنے سے پست سمجھتے ہیں حالانکہ رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ہاں قیامت کے دن ان کو پتہ چلے گا کہ ایمان والوں اور ڈرنے والوں کا مرتبہ کس قدر بلند ہے؟ اوروہ لوگ خودکس تاریکی وپستی میں تھے؟

اوراس آیت کے شانِ نزول کے متعلق کہا گیا ہے کہ ابوجہل اوردیگر اکا برقریش جو مالدار تھے فقرامومنین مثلاًعبداللہ بن مسعودبلال اور عمار وغیرہ سے مسخری کرتے تھے اورکہتے تھے کہ اگر محمد اللہ کا نبی ہوتا تو ہمارے اشراف واکابراس کی اتباع کیوں نہ کرتے؟ اوربعض کہتے کہ رﺅسایہود مہاجر فقراسے مسخری کرتے تھے اوران کو فقر کاطعنہ دیتے تھے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ 

کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً: اس آیت مجیدہ کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں: 

(1)  حضرت آدم ؑ سے لے کرحضرت نوحؑ کے زمانہ تک کے لوگ مراد ہیں کیونکہ یہ سب ملت کفر پر تھے چنانچہ تفسیر برہان میں امام جعفر صادقؑ سے ایک روایت ہے کہ جب حضرت آدم ؑ کی رحلت ہوئی تو حضرت شیث ؑ ان کے وصی اورجانشین تھے لیکن قابیل نے ان کو دین حق کے اظہار سے روک دیا تھا اورقتل کی دھمکی دی تھی پس حضرت شیث ؑ تقیہ میں زندگی بسر کرتے رہے اورکفر روز بروز ترقی کرتا گیا اورحضرت شیث ؑ ایک جزیرہ میں علیحدگی اختیار کر کے عبادتِ خدامیں مشغول رہے 

(2) بعض نے کہاہے کہ اس آیت سے حضرت نوحؑ سے حضرت ابراہیم ؑ تک کے زمانہ کے لوگ مراد ہیں جو کہ حالت کفر پر تھے 

(3) بعض نے کہاہے کہ اس سے مرادیہ ہے کہ لوگ ایک جماعت میں تھے یعنی کلمہ حق پر تھے لیکن بعد میں ان میں اختلاف پیدا ہوگیا 

(4) بعض مفسرین نے کہاہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت نوحؑ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے یہ سب حق پر تھے لیکن کچھ عرصہ بعد ان میں اختلاف پیدا ہوا اورپھر یکے بعد دیگرے ان کے پاس انبیابھیجے گئے 

(5) امام محمد باقرؑ سے مروی ہے کہ آدم ؑ اورنوحؑ کے درمیان والے لوگ مراد ہیں اوریہ لوگ نہ کافر تھے اورنہ مومن تھے بلکہ مذبذب تھے پس انبیامبعوث ہوئے اوران کو صحیح اسلام کے راستہ کی دعوت دی گئی 

وَمَااخْتَلَفَ فِیْہِ: یعنی جن لوگوں کے پاس کتاب آجاتی تھی تو پھر جان بوجھ کر وہ اس میں اختلاف ڈال دیتے تھے جس طرح یہودی علماکہ انہوں نے جناب رسالتمآب کے اوصاف (جو تورات میں موجود تھے ) کو تبدیل کرکے عوام کو اختلاف وگمراہی میں ڈال دیا۔ 

فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا: خدا ہدایت سب کوکرتاہے لیکن فائدہ چونکہ مومن ہی اٹھاتے ہیں اس لئے ان کو خاص طور پر ذکر فرمایا۔

ایک تبصرہ شائع کریں