اِنَّ
الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّنَ ِبغَیْرِ
حَقٍّ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ
فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(21) اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ
اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (22)
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُدْعَوْنَ
اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْق مِّنْھُمْ
وَھُمْ مَّعْرِضُوْنَ (23) ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ
اِلَّا ٓاَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ وَغَرَّھُمْ فِیْ دِیْنِھِمْ مَاکَانُوْا
یَفْتَرُوْنَ (24)
ترجمہ:
تحقیق جو لوگ کفر کرتے ہیں
ساتھ آیاتِ خداکے اورقتل کرتے ہیں نبیوں کو ناحق اورقتل کرتے ہیں ان کو جو اَمر
کرتے ہیں انصاف کا لوگوں میں سے پس خبر دو ان کو عذابِ دردناک کیo وہ وہی ہیں جن کے ضائع
ہوگئے اعمالِ دنیا اورآخرت میں اورکوئی نہ ہوگا ان کا مدد گارo کیا تم نے نہیں دیکھا ان کو
جنہیں دیا گیا ہے حصہ کتاب سے اُن کو بلایا جاتاہے طرف کتابِ خداکے تاکہ وہ فیصلہ
کرے ان کے درمیان پھر پیٹھ پھیر تا ہے ایک گروہ اُن کا روگردانی کرتے ہوئےo یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا
ہمیں ہرگز آگ نہ چھوئے گی مگر چند دن گنے چنے اوران کو دھوکا دیا اپنے دین کے
معاملہ میں ان کی من گھڑت باتوں نے
تفسیر رکوع ۱۱
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا : کہتے ہیں کہ
یہ آیت یہودیوں کے حق میں اُتری ابو عبیدہ بن جراح سے مروی ہے کہ جناب رسالتمآب سے
میں نے دریافت کیا کہ سخت ترین عذاب میں کون لوگ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ
لوگ جو کسی نبی کو قتل کریں یا ایسے انسان کو قتل کریں جو نیکی کا امر کرنے والا
اور برائی سے روکنے والا ہو پس آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا: اے
ابوعبیدہ بنی اسرئیل نے ۳۴ نبی بوقت صبح ایک گھنٹہ کے اندر قتل کئے پس بنی اسرائیل
کے عبادت گزار لوگوں کی ایک جماعت (جن کی تعداد ایک سو بارہ تھی) نے ان کو امر
بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا تو ان کو اسی دن پچھلے پہر قتل کر دیا گیا۔
تنبیہ
اگرچہ اس فعل بد کے مرتکب تو وہ لوگ تھے جو
بوقت نزول آیت موجود نہ تھے لیکن چونکہ موجودہ یہود بھی ان کے اس فعل پر راضی تھے
لہذا ان کو اس فعل کا مجرم قرار دے کر خطاب کیا گیا پس معلوم ہوا کہ جو لوگ کسی
مومن یا معصوم کے قاتل کی پاس کریں اور ان کے اس بد فعل پر راضی ہوں تو وہ بھی
قاتل کی طرح مذمت کے مستحق ہیں پس اس آیت کا ظاہر اگر چہ بنی اسرائیل کے حق میں ہے
لیکن اس کا باطن تمام ان لوگوں سے متعلق ہے جو ان جیسا فعل کریں۔
بِغَیْرِ حَقٍّ: یہودیوں کو اس امر پر مذمت
کرنا کہ وہ ناحق نبیوں کو قتل کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعض اوقات ان کا قتل
بر حق بھی ہوتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ انبیاکا قتل (جو فعل نا حق ہے) کا ارتکاب
کرتے ہیں یعنی ”بغیر حق“ کا کلمہ تاکید و مبالغہ کےلئے ہے کلمہ احتراز یہ نہیں ہے
تاکہ اشکال لازم آئے ۔
اَلَّذِیْنَ یَامُرُوْنَ بِالْقِسْطِ: سوال
پیدا ہوتا ہے کہ جب امر بالمعروف کرنے پر قتل کا خطرہ ہو تو کیا ایسی صورت میں بھی
امر بالمعروف جائز ہے؟ تو اس مقام پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہاں ایسی صورت میں امر
بالمعروف جائز ہے چنانچہ جناب رسالتمآب سے ایک حدیث وارد ہے کہ اَفْضَلُ
الْجِھَادِ کلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ یُقْتَلُ عَلَیْہِ یعنی بہترین
جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے جس پر وہ قتل کر دیا جائے لیکن ہمارے
نزدیک امر بالمعروف کے حسن کےلئے شرط یہ ہے کہ اس پر کوئی مفسدہ لازم نہ آتا ہو
لہذا یہ آیت مجیدہ یا اس قسم کی روایات کا مطلب یہ ہے کہ امر بالمعروف کرنے والے
کو جب یہ ظن ہو کہ میری نصیحت پر غالباً کوئی ضرر مترتب نہ ہو گا تو اس وقت امر
بالمعروف جائز اور مستحسن ہے پس اگر اس کو خلاف توقعِ ضرر پہنچ جائے اور اس نتیجہ
میں وہ قتل بھی کر دیا جائے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ورنہ اگر پہلے سے ہی معلوم ہو
کہ امر بالمعروف میں بجائے فائدہ کے نقصان ہی ہو گا تو ایسی صورت میں امر بالمعروف
ساقط ہے۔
یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ: ابن عباس
سے مروی ہے کہ خیبر کے یہودیوں میں سے ایک مرد و عورت نے زنا کا ارتکاب کیا اور وہ
دونوں بڑے خاندان کے فرد تھے ان کی کتاب میں اس کی سزا رجم کر نا تھا لیکن وہ لوگ
ان کو بچانا چاہتے تھے پس جناب رسالتمآب کی خدمت میں آئے کہ یہاں شاید کچھ گنجائش
ہو لیکن آپ نے بھی رجم کا حکم دے دیا تو یہودیوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حضور
یہ تو ان پر ظلم ہے! آپ نے فرمایا کہ چلو تورات کا فیصلہ منظور کر لو، انہوں نے
کہا یہ بالکل درست ہے آپ نے فرمایاتم میں سے تورات کا بڑا عالم اس وقت کون ہے؟ تو
انہوں نے کہا کہ وہ مرد اعور ہے یعنی یک چشم ابن صور یا نامی جو فدک کا باشندہ ہے
پس اس کو منگوایا گیا آپ نے باطلاع جبریل اس کو خطاب کیا کہ کیا تو ابن صور یا ہے؟
کہا ہاں فرمایا تو ان کا بڑا عالم ہے؟ کہنے لگا ایسا ہی لوگ کہتے ہیں پس آپ نے
تورات کا وہ حصہ منگوایا جس میں حکم رجم موجود تھا فرمایا کہ پڑھ تو اس نے پڑھنا
شروع کیا لیکن جب رجم کی آیت پر پہنچا تو اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر آگے نکل گیا عبد
اللہ بن سلام نے عرض کیا حضور یہ تو آیت رجم چھوڑ کر آگے جا رہا ہے اور پھر خود
اٹھ کر اس کا ہاتھ ہٹا کر وہ آیت پڑھی جس میں رجم کا حکم تھا کہ محصن مرد اور
محصنہ عورت اگر زنا کریں اور اگر گواہوں سے ثابت ہو جائے تو ان کورجم کرنا واجب ہے
لیکن اگر عورت حاملہ ہو تو وضع حمل تک اس کو مہلت دینی چاہیے پس حضور نے حکم دے
دیا کہ ان کو رجم کیا جائے چنانچہ وہ سنگسار کئے گئے اور اس پر یہودی اور زیادہ
آنحضرت پرغصے ہوئے (مجمع البیان)
اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ: اس سے مراد:
٭ یا تویہ ہے کہ وہ
کہتے تھے کہ ہمیں صرف چالیس دن عذاب ہو گا کیونکہ اتنے ہی دن انہوں نے گوسالہ
پرستی کی تھی
٭ یا یہ کہ وہ کہتے تھے
ہمیں سات دن عذاب ہوگا یَفْتَرُوْنَ ان کا افترایہ تھا کہ وہ باوجود ان باتوں کے
اپنے آپ کو اَبْنَائُ اللّٰہ کہتے تھے یعنی ہم اللہ کے بیٹے ہیں
٭ یا یہ افترامقصود ہے
کہ وہ کہتے تھے کہ ہمیں چند معین ایام میں ہی عذاب ہو گا اور اس کے بعد ہم جنتی ہو
جائیں گے ۔
فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنھُمْ لِیَوْمٍ
لارَیْبَ وَ وُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَا کَسَبَتْ وَ ھُمْ لا یُظْلَمُوْنَ (25)
قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُوْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَتَنْزِعُ
الْمُلْکَ مِمَّنِ تَشَآئُ وَتُعِزُّ مَنْ
تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ
قَدِیْر (26) تُوْلِجُ الَّیْلَ فیِ
النَّھَارِ وَ تُوْلِجُ النَّھَارَ فیِ الَّیْلِز وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ
الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ز وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآئُ
بِغَیْرِ حِسَابٍ (27)
ترجمہ:
پھر کیا حال ہوگا جب ان کو جمع کریں گے اس
دن جس میں کو ئی شک نہیں اورپورا دیا جائے گا ہر نفس کو اپنی کمائی (کا بدلہ )
اوران کو خسارہ نہ دیا جائے گاo تم کہو اے اللہ! مالک ملک عطا فرماتا ہے ملک تو جسے
چاہے اورلے لیتا ہے ملک تو جس سے چاہے اورتو عزت دیتا ہے جسے چاہے اورذلیل کرتا ہے
جسے چاہے تیرے ہاتھ میں بھلائی ہے تحقیق تو ہر شئے پر قادر ہےo تو داخل کرتا ہے رات کو دن
میں اورداخل کرتا ہے دن کو رات میں اورنکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اورنکالتا ہے
مردہ کو زندہ سے اورتورزق عطافرماتاہے جسے چاہے بلاحساب
آیةُ الملک
قُلِ اللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ: تفسیر
مجمع البیان میں بطریق اہل بیت ؑ حضرت رسالتمآب سے ایک حدیث میں ہے کہ خداوند
فرماتا ہے مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم کہ جو بندہ ہر فریضہ نماز کے بعد سورہفاتحہ
آیةُ الکرسی آیة شَہِدَ اللّہٰ اور آیة الملک کو ”بِغَیْرِ حِسَاب“ تک پڑھے تو اس
کی خطیرةُ القدس میں جگہ ہو گی یا ہر روز ستر مرتبہ اس پر نظر رحمت ہو گی یا ہر دن
اس کی ستر حاجات پوری کی جائیں گی جن میں سے کم از کم مغفرت ہے اور یا اس کو دشمن
سے محفوظ رکھوں گا اور اس کا ناصر رہوں گا اور اس کے اور جنت کے درمیان صرف موت کا
ہی فاصلہ ہو گا۔
معاذ بن جبل کہتا ہے کہ میں ایک دفعہ نماز
جمعہ میں شریک نہ ہو سکا جب بارگاہِ رسالت میں شرفیاب ہوا تو آپ نے غیر حاضری کی
وجہ پوچھی؟ میں نے عرض کیا حضور یوحنا یہودی کا میرے اوپر قرضہ ہے اور وہ میری تاڑ
میں تھا اس لئے میں نے گھر سے نکلنا پسند نہ کیا تاکہ مجھے روک نہ لے؟ آپ نے
فرمایا اے معاذ! کیا تو قرضہ کی آدائیگی چاہتا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے
فرمایا یہ دو آیتیں پڑھا کو اور اس کے بعد کہو:
یَارَحْمَانَ الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَة وَ
رَحِیْمَھُمَا تُعْطِیْ مِنْھُمَا مَا تَشَآئُ وَ تَمْنَعُ مِنْھُمَا مَا تَشَآئُ
اِقْضِ عَنِّیْ دَیْنِیْ
اگر ایسا کرو گے تو پھر اگر روئے زمین کے
برابر سونا بھی تیرے اوپر قرضہ ہو گا تو خداوندکریم اس کو ادا کرے گا
شانِ نزول
تفسیر مجمع البیان میں منقول ہے کہ جناب
رسالتمآب نے جنگ اَحزاب کے موقعہ پر خندق کی کھدائی کے لئے صحابہ کے لئے چالیس
(۰۴) ذراع مقرر کئے مہاجر اور انصار میںہر جماعت سلمان کو اپنے ساتھ شامل کرنا
چاہتی تھی تو حضور نے فرمایا: اَلسَّلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْت، پس خندق کی
کھدائی شروع ہوئی تو نیچے سے ایک پتھر سخت ایسا نکلا کہ اس پر کدال کا م نہ کرتی
تھی پس سلمان جناب رسالتمآب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا سنایا تو آنحضرت بنفس
نفیس خود تشریف لائے اور پھر سلمان کے ہمراہ خندق میں اُترے اور سلمان کے ہاتھ سے
کدال لے کر اس کو پتھر پر ماراتو اس کا ایک حصہ توڑ دیا اور اس پتھر سے بجلی کی
طرح ایک روشنی نمودارہوئی پس حضور نے تکبیر کی آواز بلند کی اور صحابہ نے بھی
تکبیر پڑھی پھر آپ نے دوبارہ اس کدال کو اس پتھر پر مارا اور پھر اس کا ایک حصہ ٹوٹ
گیا اور بجلی کی مانند ایک روشنی ظاہر ہوئی پس حضور نے نعرة تکبیر بلند کیا اور
صحابہ نے بھی تکبیر کہی پھر حضور نے سہ بارہ کدال کو اس پتھر پر مارا کہ وہ پتھر
بالکل ٹوٹ گیا اور مثل سابق روشنی نمودار ہوئی پس حضور نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور
صحابہ نے بھی تکبیر کہی، اس کے بعد حضور سلمان کے ہاتھ کو پکڑ کر خندق سے باہر
تشریف لائے تو سلمان نے عرض کیا یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آج میں
نے آپ سے نئی بات دیکھی ہے؟ پس حضور متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ جب میں نے پہلی ضرب
لگائی اور روشنی پیدا ہوئی تو میں نے اس میںحیرہ اور مدائن کے محل دیکھے اور جبریل
نے بتایا کہ آپ کی امت کو اس پر غلبہ ہو گا لہذا میں نعرہ تکبیر بلند کیا جب
دوبارہ میں نے پتھر پر کدال کی ضرب لگائی اور روشنی ظاہر ہوئی تو میں ملک روم کے
محلات دیکھے اور جبریل ے خبر دی کہ آپ کی امت کو ان پر بھی غلبہ ہو گا اور تیسری
دفعہ ملک صنعا کے محل دکھائی دیئے اور جبریل نے ان پر بھی مجھے فتح کی خوشخبری
سنائی پس جب جناب رسالتمآب نے مسلمانوں کو یہ بشارت دی تو سب مسلمان خوش ہوئے اور
اللہ کا شکر ادا کیا یہ سن کر منافقین ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ عجیب بات ہے کہ
اِدھر ڈر کے مارے خندق کھود رہے ہیں اور کھلے میدان میں لڑائی کی جرات نہیں کرتے
لیکن اُدھر ایران و روم کی فتح کی دل میں امیدیں لگائے بیٹھے ہیں پس یہ آیت نازل
ہوئی کہ ان آیات کا ورد کیا کرو۔