ترجمہ:
فرمادیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو
تو میری پیروی کرو تاکہ اللہ تم کو محبوب رکھے اوربخش دے تمہارے گناہ اورخدابہت
بخشنے والارحم کرنے والاہےo فرمادیجئے اطاعت کرو اللہ ورسول کی پس اگر روگردانی
کریں تو تحقیق اللہ نہیں محبوب رکھتا کا فروں کوo تحقیق اللہ نے چن لیا آدم ؑ
اورنوحؑ اورآلِ ابراہیم ؑ اورآلِ عمران ؑ کو تمام جہانوں سے حالانکہ یہ ذرّیت بعض
بعض سے ہے اوراللہ سننے جاننے والاہےo
تفسیررکوع
۲
قُلْ
اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ: یہ
آیت کھلے لفظوں اعلان کررہی ہے کہ محبت کا دعویٰ صرف زبانی کا فی نہیں جب تک عملی
طور پر اس محبت کی تصدیق نہ ہو ایک روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے
منقول ہے:
مَنْ سَرَّہاَنْ یَعْلَمَ اَنَّ اللّٰہَ
یُحِبُّہفَلْیَعْمَلْ بِطَاعَةِ اللّٰہِ وَلْیَتَّبِعْنَا (الخبر) جس کو یہ پسند
ہو کہ وہ جان لے کہ اللہ اس سے محبت رکھتا ہے تو اسے اللہ کی اطاعت اور ہماری
پیروی کرنی چائیے
اس مقام پر مولانا مقبول صاحب مرحوم کو ایک
اشتباہ ہوا ہے کہ انہوں نے مَن شرطیہ کو مِن حرف جر سمجھا اور سَرَّہ شرط کو
سِرِّہ مجرور مِن کا قرارد یا حدیث پاک کے مذکورہ جملہ کا ترجمہ یوں بیان کیا کہ
اسرار دین میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ جان لے کہ خدا اس سے محبت رکھتا ہے پھر وہ
خدا کی اطاعت کرے اور ہماری پیروی، حالا نکہ یہ ترکیب اور ترجمہ بالکل غلط ہے اور
درست وہی ہے جو ہم عرض کرچکے ہیں۔
اس کے بعد آپ ؑ نے آیت مجیدہ کی تلاوت
فرمائی پھر فرمایا خداکی قسم کبھی کوئی بندہ اللہ کا اطاعت گذار نہیں ہوتامگر یہ
کہ خدا اپنی اطاعت کے اندر ہماری اتباع اس کے دل میں ڈالتا ہے اور قسم بخدا کہ
کوئی بندہ ہماری اتباع نہیں کرتا مگر یہ کہ اس سے اللہ محبت رکھتا ہے اور بخداکوئی
شخص ہماری اتباع کو نہیں چھوڑتا مگر یہ کہ ہمارے ساتھ بغض رکھتا ہے اور بخدا ہمارے
ساتھ جو بھی بغض رکھے گا وہ اللہ کا نافرمان ہو گا اور جو بھی اللہ نافرمان ہوکر
مرے گا اس کو خدارسوا کرے گا اور اوندھے منہ اس کو جہنم میں ڈالے گا۔
ایک حدیث میں حضرت امام
جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس امت میں سے جو بھی ہمارے
حق کا عارف ہو گا وہ ناجی ہو گا سوائے تین قسم کے لوگوں کے:
٭ حاکمِ ظالم کا ساتھی
٭ خواہش پرست
٭ اعلانیہ فسق کرنے
والا
نیز آپ ؑ سے مروی ہے کہ دین تو صرف محبت ہی
کا نام ہے پھر اسی آیت سے استشہاد فرمایا کہ اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو اطاعت
رسول کرو پس خدا تم سے محبت رکھے گا گویا اصل دین محبت ہے اور اطاعت اس کی فرع ہے
اور فرع کا درست نہ ہونا اصل کی کمزوری یا فقدان کی دلیل ہے نیز آپ ؑ سے مروی ہے کہ
فرمایا اس شخص کی اللہ سے محبت نہیں جو اس کی نافرمانی کرے پھر آپ ؑ نے یہ اشعار
پڑھے:
تَعْصِی الْاِلٰہَ وَ اَنْتَ تُظْھِرُ
حُبَّہ
ھٰذَا
مُحَال فِی الْفِعَالِ بَدِیْعاللہ کی نافرمانی اور ساتھ اس کی محبت کا دعویٰ یہ
بات قطعاً محال ہے
لَوْ کانَ حُبُّکَ صَادِقاً لَاَطْعَتَہ
اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ
مُطِیْعاگر تجھے سچی محبت ہوتی تو اس کی اطاعت ضرور کرتا کیونکہ محب اپنے محبوب کا
مطیع ہوا کرتا ہے
امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک روایت
میںہے کہ اگر کوئی پتھر بھی ہماری محبت رکھتا ہو گا تو خدا اس کو بھی ہمارے ساتھ
محشور کرے گا کیونکہ دین تو محبت ہی کانام ہے۔
فَاِنَّ اللّٰہَ لا یُحِبُّ الْکافِرِیْنَ:
خدا و رسول کی اطاعت کے حکم کے بعد یہ فرمانا کہ خدا کفر کرنے والوں کو محبوب نہیں
رکھتا اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خدا و رسول کی اطاعت کرنے یا نہ کرنے میں انسان خود
مختار ہے پس اس سے عقیدہ جبر کی تردید ہو گئی کیونکہ اگر انسان اطاعت یا نا فرمانی
میں مجبور ہوتا تو خدا یہ نہ فرماتا کہ میں ان کو دوست نہیں رکھتا۔
اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی آلَ اِبْرَاہِیْمَ:
قرات اہل بیت ؑ میں آلِ عمران کے بعد آلِ محمد کے لفظ ہیں بلکہ تفسیر برہان میں
تفسیر ثعلبی سے منقول ہے کہ ابو وائل کہتا ہے کہ میں نے ابن مسعود کے مصحف میں آلِ
عمران کے بجائے آلِ محمد پڑھا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ آلِ ابراہیم ؑ سے مراد
آلِ محمد ہے جناب رسالتمآب سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جب
وہ آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کا ذکر کریں تو خوش ہوتے ہیں اور جب آلِ محمد کا ذکر
ہو تو ان کے دل گھٹتے ہیں؟ اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان
ہے اگر کوئی شخص بروز محشر ستر نبیوں کے اعمال کے برابر بھی نیک اعمال پیش کرے گا
تو اس کے اعمال مقبول نہ ہوں گے جب تک میری اور علی بن ابی طالب کی وِلا کو پیش نہ
کرے گا ۔
آلَ عِمْرَانَ: عمران تین گزرے ہیں:
٭ ایک حضرت موسیٰؑ اور
حضرت ہارون ؑ کے والد ماجد
٭ دوسرے حضرت مریم ؑ
کے والد
٭ تیسرے حضرت ابو طالب
ؑ کیونکہ ان کا نام در اصل عمران تھا
آیت مجیدہ میں بعض لوگوں نے آلِ عمران سے
مراد حضرت موسیٰؑ و ہارون لئے ہیں اور بعض نے حضرت عیسیٰؑ مراد لئے ہیں اور تفسیر
عمدة البیان میں ہے کہ تفسیر اہل بیت ؑ میں آلِ عمران سے مراد حضرت علی ؑ بن ابی
طالب ہیں اور بروایت ابن عباس انہوں نے نقل کیا ہے کہ جناب رسالتمآب نے فرمایا کہ
میں آلِ ابراہیم ؑ ہوں اور علی ؑ آلِ عمران ہیں۔
تنبیہ
آلِ ابراہیم ؑ اور آلِ عمران ؑ کی لفظیں گو
عام ہیں لیکن ان سے مراد صرف وہ انسان ہو سکتے ہیں جو طاہر اور معصوم ہوں کیونکہ
اِصْطَفٰی غیر معصوم کا نہیں ہو سکتا اور نیز اس آیت سے یہ صاف طور پر معلوم ہوا
کہ یہ لوگ ملائکہ سے افضل ہیں کیونکہ ان کو عالمین پر چنا گیا ہے اور فرشتے عالمین
میں داخل ہیں۔
وَاللّٰہُ سَمِیْع عَلِیْم: یعنی خدا ان کے
اقوال سننے والا اور نیتوں کے جاننے والا ہے اور چونکہ ان کے اقوال و نیا ت میں
کوئی نقص نہیں تھا بلکہ وہ ظاہری و باطنی دونوں قسم کی کثافتوں سے صاف تھے اور
طاہر و معصوم تھے لہذا تمام جہانوں پر ان کو مصطفی بنا دیا۔