التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

تفسیر رکوع 15

تفسیر رکوع 15
تفسیر رکوع 15
قُلْ یاَھْلَ الْکِتَابِ: اس آیت میں یہود و نصاریٰ ہر دو کو دعوتِ اسلام دی گئی ہے پہلے پہل ان کو کلمہ توحید لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے اقرار کی دعوت دی گئی اور اس کے بعد صرف زبانی اقرار کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ان کو عملی طور پر شرک سے منع کیا گیا کیونکہ یہودی عزیر کو اور نصرانی مسیح کو اللہ کا بیٹا قرا دے کر شرک کے مرتکب تھے اعتقاد اور عبادت کی اصلاح کے بعد دوسرے معاملات میں ان کو اپنے احبار (ملاں) کی ربوبیت سے باز رہنے کی دعوت دی مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری کہ اپنے احبار و رہبان کو انہوں نے اپنا ربّ مان لیا ہے تو عدی بن حاتم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا جس چیز کو وہ لوگ تمہارے اوپر حلال یا حرام کر دیتے تھے کیا تم اس کی اطاعت نہیں کرتے تھے ؟ اس نے کہا بےشک ایسا ہی تھا آپ نے فرما یا کہ ان کی ربوبیت سے یہی تو مراد ہے۔
ربط بیان
خدا وند کریم نے اہل کتاب کو دعوتِ اسلام منوانے کےلئے کیا خوب طریقہ استعمال فرمایا:
پہلے پہل تو حضرت مریم ؑ کی ولادت کا قصہ پھر حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا واقعہ اس انداز سے پیش کیا کہ منصف مزاج خود بخود اس کی الوہیت کے قول سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ ولادت کے یہ اَدوار و اطوار شان الوہیت کے سراسر منافی ہیں لیکن اگر ان کو تسلی نہ ہو تو پھر استدالالی طور پر حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت کی تردید فرمائی اور حضرت آدم ؑ کی خلقت سے تشبیہ دے کر ان کے جملہ اعتراضات کا قلع قمع فرمایا ۔
بعد ازاں انتہائی کند ذہن طبقہ کی تسلی و اطمینان کے لئے مباہلہ کی دعوت دی جب ان تمام باتوں سے ان کے منصف مزاج گروہ کی ذہنی خلش کسی حد تک دور ہو گئی تو ان کو ضد اور ہٹ دھرمی سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے نہایت پیار و محبت کے لہجہ میں ان کے سامنے ایک قابل قبول اور قرین عقل دستور العمل پیش فرمایا کہ عبادت صرف اللہ کی ہونی چاہیے اور غیر اللہ کو اس کے ساتھ قطعاً شریک نہیں ماننا چاہیے اور اس بارہ میں ملاّں اور پادری لوگوں کی دجل فریبی سے بچتے ہوئے ان کی اندھی تقلید سے گریز کرکے صرف اللہ کی ربوبیت کو دل میں بٹھا لینا چاہیے بعض مورخیں نے ذکر کیا ہے کہ ۶ ھ میں جناب رسالتماب نے قیصرو کسریٰ، اور نجاشی کو بذریعہ وفود اِسی مضمون کے دعوت نامے ارسال فرمائے تھے ( میزان)
یاَھْلَ الْکِتَابِ: کہتے ہیں کہ یہودیوں اور نصرانیوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے متعلق مناظرہ کیا ہر ایک گروہ ان کواپنی طرف کھنچتا تھا پس دونوں فیصلہ کے لئے جناب رسالتمآب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ موجودہ یہودیت اور نصرانیت تورات وانجیل کے تابع تھیں اور حضرت ابراہیم ؑ حضرت موسیٰؑ سے ایک ہزار سال اور حضرت عیسیٰؑ سے دوہزار سال پہلے تھے پس اس صورت میں ابراہیم ؑ کو یہودیت یا نصرانیت میں داخل ماننا بے عقلی و بے وقوفی ہی ہے اور تفسیر درّمنثور میں ابن عباس سے مروی ہے کہ نصاریٰ نجران اور احبار یہود کے درمیان اس موضوع پر بارگاہ رسالت میں بحث ہوئی تو آپ نے یہی جواب دے کر ان کو سا کت کیا۔
ھاَنْتُمْ: اس آیت مجیدہ کے کئی معانی بیان کئے گئے ہیں:
(۱)   تم نے ایسی چیز میں جھگڑا کیا ہے جس کے متعلق کچھ نہ کچھ تمہیں علم ہے اور وہ ہے ان کی نبوت و رسالت کا علم اب اس کے متعلق ایسی بحث کا آپس میں تم کیوں آغاز کرتے ہو جس سے تم قطعاً بے خبر ہو اور وہ ہے اس کی یہودیت یا نصرانیت کا فیصلہ
(۲)   تاحال تم نے ایسی بات میں نزاع کیا جس کا کسی حد تک تمہیں علم تھا اور وہ ہے حضرت عیسیٰؑ کا معاملہ اب تمہیں ایسی بات میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے جس کا تمہیں قطعاً علم ہی نہیں اور وہ ہے حضرت ابراہیم ؑ کی یہودیت یا نصرانیت
(۳)   اے گروہ یہود و نصاریٰ! تم نے آپس میں پہلے تو اس بات میں مناظرہ کیا جس کا تم کو علم تھا اور وہ تھا یہودیوں کی طرف سے نصرانیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰؑ کی ابن اللہ ہونے کی نفی اور نصرانیوں کی طرف سے یہودیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰؑ کی نبوت و بعثت کا اثبات پس اب تم ایسی بات میں ایک دوسرے کے دست و گریباں کیوں ہوہے ہو جس کے علم سے دونوں گروہ عاری ہو اور وہ ہے حضرت ابراہیم ؑ کی یہودیت یا نصرانیت کا ثبوت
(۴)   اے گروہ یہود و نصارےٰ پہلے تو تم ہمارے ساتھ ایسی چیز میں ازراہِ عناد جھگڑتے تھے جس کا تمہیں علم تھا اور وہ ہے جناب رسالتمآب کی تورات و انجیل میں بیان شدہ صفات و علائم اب تم ایسی بات میں جھگڑنے لگے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں حالانکہ خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
مفسرین نے اپنے اپنے ذوق کے ماتحت بعض اقوال کو ترجیح دی ہے۔
مَا کَانَ اِبرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّلانَصْرَانِیًّا وَّلکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (67) اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَا النَّبِیُّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُوْمِنِیْنَ (68) وَدَّتْ طَّآئِفَة مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَکُمْ  وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ (69) یاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَاَنْتُمْ تَشْھَدُوْنَ (70) یاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُوْنَ الحَقَّ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (71)ع
ترجمہ:
 نہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی اورنہ نصرانی تھے بلکہ وہ تو سچے مسلمان تھے اورنہ وہ مشرک تھےo تحقیق قریب ترین لوگوں میں سے ابراہیم ؑ کے ساتھ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اوریہ نبی اوروہ لوگ جو ایمان لائے اوراللہ ولی ہے ایمان والوں کا o چاہاایک گروہ نے اہل کتاب سے کہ تمہیں گمراہ کردیں حالانکہ وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے نفسوں کو اورسمجھتے نہیںo اے اہل کتاب تم کیوں کفر کرتے ہو آیات خداکا حالانکہ تم گواہ ہوo اے اہل کتاب کیوں ملاوٹ کرتے ہو حق کی ساتھ باطل کے اورحق کو چھپاتے ہو جانتے ہوئےo

مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ: یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ سے ایک ہزار برس اور حضرت عیسیٰؑ سے دو ہزار برس پہلے گزر جانے کی وجہ سے جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہودیت یا نصرانیت کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا تو انہیں مسلمان کیوں کر کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ جناب رسالتمآب سے تقریبا اڑھائی ہزار برس پہلے تھے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ دین اسلام جو ایک فطری اور اللہ کا پسندیدہ دین ہے حضرت ابراہیم ؑ اسی دین پر تھے، تورات اپنے وقتی مصالح کے لحاظ سے اسی دین کے کمال کا کورس تھی اور انجیل بھی اپنے زمانہ کے مقتضیات کے پیش نظر اسی فطری دین کے کمال کا پروگرام لے کر آئی پس یہ دونوں دین اسی اصل دین اسلام کے کمال کے شعبے تھے اور شریعت قرآنیہ بھی اسی اصل دین کے کمال و عروج کا نصاب ہے لہذا حضرت ابراہیم ؑ کو مسلمان کہنا اسی اصل کے لحاظ سے ہے نہ کہ فرعی اعتبار سے کیونکہ فرع کو اصل سے منسوب کیا جاتا ہے اور اصل کو فرع سے منسوب نہیں کیا جاتا اور بعض فرعی احکام کا نسخ اس کی تصدیق کے منافی نہیں ہوتا کیونکہ منسوخ احکام اپنے وقت میں بجا تھے اور ناسخ احکام اپنے وقت میں موزوں ہیں پس دونوں اپنے اپنے وقت میں درست اور واجب العمل ہیں۔
 حَنِیْفًا مِّسْلِمًا: کہتے ہیں کہ جس طرح یہودی اور نصرانی حضرت ابراہیم ؑ کو اپنی اپنی طرف منسوب کرتے تھے اسی طرح مشرکین عرب بھی دعویٰ کرتے تھے کہ دین حنیف اور ملت ابراہیم ؑ پر ہم ہیں چنانچہ اہل کتاب ان کو حنفا یعنی ملت حنفیہ پر چلے والے کہتے تھے اور حنیفیت و ثنیہ مراد لیتے تھے تو خدا وند کریم نے جہاں حضرت ابراہیم ؑ کی یہودیت اور نصرانیت کی تردید فرمائی ساتھ ساتھ مشرکین عرب کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ حنیف تھے یعنی تمام ادیانِ باطلہ اور ملل فاسدہ سے کنارہ کش اور صراط حق پر گامزن تھے لیکن وہ شرک کرنے والے نہیں تھے بلکہ پکے مسلمان تھے۔
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: تفسیر صافی میں کافی و عیاشی سے مروی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا اس سے مراد آئمہ اوران کی اطاعت کرنے والے ہیں نیز آپ ؑ نے عمر بن یزید سے فرمایا کہ خدا کی قسم تم لوگ آلِ محمد سے ہو وہ کہتا ہے میں نے عرض کیا قربان جا ں کیا ہم نفس آل محمد سے ہیں؟ تو آپ ؑ نے تین بار فرمایا ہاں اللہ کی قسم تم لوگ آلِ محمد سے ہی ہو پس آپ ؑ نے مجھے دیکھا اور میں نے ان کی طرف نگاہ کی تو فرمانے لگے اے عمر ! اللہ فرماتا ہے:
 اِنَّ اَوْلٰی النَّاسِ: تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا انبیا کے قریب ترین وہ لوگ ہوا کرتے ہیں جو ان کی شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہوں پھر آپ ؑ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ جناب رسالتمآب کا دوست اور قریبی وہی شخص ہے جو اللہ کا فرمانبردار ہو خواہ رشتہ میں آپ سے کتنا ہی دور ہو اور ان کا دشمن وہ دشمن ہے جو اللہ کا نافرمان ہو خواہ اس کو رشتہ میں آپ سے کتنا ہی قرب حاصل ہو۔
وَقَالَتْ طَّآئِفَةمِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّھَارِ وَاکْفُرُوْٓا اٰخِرَہ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ (72)ج وَلا تُوْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ  قُلْ اِنَّ الْھُدٰی ھُدَی اللّٰہِ  اَنْ یُّوْتٰٓی اَحَد مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْکُمْ عِنْدَ رَبِّکُمْ  قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِاللّٰہِ یُوْ تِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ وَاسِع عَلِیْم (73)یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہ مَنْ یَّشَآئُ  وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (74)
ترجمہ:
کہا گروہ اہل کتاب نے ایمان لا اس پر جو ناز ل ہوئی ان لوگوں پر جو ایمان لائے دن کے پہلے حصہ میں اورکفر کرد و آخری حصہ میں تاکہ وہ پھر جائیںo اورنہ مانو مگر اس کی جو تمہارے دین کی اتباع کرتا ہو فرمادیجئے تحقیق ہدایت وہی ہے جو اللہ ہدایت کرے کہ دیا جائے کسی کو مثل اس کے جو تمہیں دیا گیا یا یہ کہ وہ حجت قائم کریں تم پر اللہ کے ہاںفرمادیجئے تحقیق فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اورخداوسعت و علم والاہےo مخصو ص فرماتا ہے اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے اوراللہ فضل عظیم کا مالک ہےo

ایک تبصرہ شائع کریں