قَالَتْ طَّائِفَة یہ
تجویز ان کی چالاکی اور فریب کاری تھی جس کا خدا نے پردہ چاک کر دیا ان کا مطلب یہ
تھا کہ مسلمان یہ سمجھیں گے کہ آخر کوئی نقص اور عیب اس دین میں ضرور ہے کہ یہودی
لوگ ایمان لا کر پھر دوبارہ کافر ہو گئے لہذا وہ دین اسلام سے شک و شبہ کی بنا پر
برگشتہ ہو جائیںگے۔
وَلا تُوْمِنُوْا: اس آیت کے کئی معانی کئے
گئے ہیں:
(۱) یہ کلام یہود ہے اور
قُلْ اِنَّ الْھُدیٰ ھُدیٰ اللّٰہِ درمیان میںجملہ معترضہ خطاب خدا وندی ہے اور
اَنْ یُّوْتٰی تتمہ کلام یہود ہے معنی یہ ہو گا اے گروہ یہود! تم کسی کے متعلق یہ
بات ہر گز نہ مانو کہ اس کو تمہاری طرح علم و حکمت کتاب اور حجت وغیرہ عطا ہوئی
سوائے اس کے جو تمہارے اس دین یہودیت کا پیر و ہو کہتے ہیں خیبر کے یہودیوں نے
مدینہ کے یہودیوں کو یہ بات کہی تھی تا کہ مبادا وہ اسلام کے حلقہ بگوش ہو جائیں
(۲) صرف پہلا حصہ کلام
یہود ہے اور قُلْ اِنَّ الْھُدیٰ کے بعد آخر تک خطاب الٰہی ہے اور اَنْ یُّوْتٰی
دراصل اَنْ لَّا یُوْتٰی تھا یا کہ یہ اَن کامضاف لفظ کَرَاھَةَ محذوف قرار دیا
جائے پس معنی یہ ہو گا کہ یہودیوں نے اپنے عوام کو یہودیت پر ڈٹے رہنے کی تلقین
کرتے ہوئے کہا کہ تم کسی کی بات پر یقین و باور نہ کرو سوائے اس کے جو تمہارے دین
پرہو تو خدا اُن کی تردید میں فرماتا ہے کہ اے مومنین! ہدایت وہی ہے جو اللہ کی
جانب سے ہو اور یہ کہ کسی کو نہیں عطا ہوئیں وہ نعمتیں جوتمہیں عطا ہوئیں یا یہ کہ
نا پسند فرماتا ہے اللہ کہ کسی کوعطا کرے وہ نعمتیں جو اس نے تم کو عطا فرمائیں
اور اللہ کے نزدیک بروز محشر بھی تمہیں حجت سے کوئی مغلوب نہ کر سکے گاکیونکہ
تمہارا دین حق ہے
(۳) اوّل سے آخر تک سب خطابِ
خدا وندی ہے اور معنی یہ ہے کہ اے گروہِ مسلمان! تم کسی کی بات پر باور نہ کر و
سوائے اس کے جو تمہارے دین اسلام پر عمل کرنے والا ہو کیونکہ دین صرف دین خداہی ہے
اور کسی کے متعلق یہ یقین نہ کرو کہ اُسے تم جیسی نعمات عطا ہوئیں یا وہ تمہیں
قیامت کے دن اپنی حجت سے مغلوب کر ے گا، اس لئے کہ یہ دین حق ہے اس پر کسی کو حجت
کے اعتبار سے غلبہ حاصل نہیںہو سکتا
(۴) صاحب تفسیر میزان نے
ذکر کیا ہے کہ اہل بیت ؑ عصمت سے اس سے پہلے آیت کے متعلق منقول ہے کہ وہ یہودیوں
کا اس وقت کا مقولہ ہے جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا یعنی جناب رسالتمآب نماز صبح
بیت المقدس کی طرف پڑھ چکے تھے جو یہود کا قبلہ تھاپھر تحویل قبلہ کے حکم سے نماز
ظہر خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھی تو یہودیوں کی ایک جماعت نے کہا کہ جو حکم
مسلمانوں پر دن کے پہلے حصہ میں اُتر ا تھا اس پر ایمان لاﺅ یعنی بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم مان لو اور جو حکم دن کے آخر
حصہ میں کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا ہے اس کا انکار و کفر کرواور چونکہ
تورات کی بشارت ایک یہ بھی تھی کہ نبی آخر الزمان دو قبلوںکی طرف نماز پڑھے گا پس
انہوں نے ایک دوسرے کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ راز کی بات کسی کے سامنے نہ
کہواورکسی پروثوق و باور نہ کر و سوائے اپنے ہم مذہب و ہم خیال لوگوں کے مباد ا
اُن کے قبلہ کا حکم پختہ ہو جائے اور مسلمانوں کو ہماری طرف سے اپنے قبلہ کی صحت
کااطمینان ہو جائے پس ہماری صاحب قبلہ ہونے کی خصوصیت ختم ہو کر رہ جائے گی اور
علاوہ بریں وہ میدانِ قیامت میںبھی ہمارے اوپر احتجاج کرنے کے قابل ہوجائیںگےپس
خدا وند کریم نے اس زعم فاسد کی تردید فرمائی کہ ہدایت وہی ہے جو اللہ کی جانب سے
ہواور فضل اسی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے خواہ تم ایمان لاﺅ یا کفر کرو اور خواہ تم اس امر کا اظہار کرو یا اس کو چھپانے کی کوشش کرو
اور انہوں نے اسی معنی کو ترجیح دیتے ہیں اقوالِ گزشتہ کو سیاق آیت سے بعید قرار
دے کر ردّکر دیا ہے اور صاحب تفسیر صافی نے فرمایا ہے کہ یہ آیت متشابہات میں سے
ہے اور آئمہ طاہرین علیہم السلام سے اس کے حل کے متعلق کوئی روایت ہم تک نہیں پہنچ
سکی۔
وَ مِنْ اَھْلَ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ
تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّوَدِّہٓ اِلَیْکَ وَ مِنْھُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْہُ
بِدِیْنَارٍ لَّا یُوَدِّہٓ اِلَیْکَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَآئِمًا ذٰلِکَ
بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّنَ سَبِیْل وَ یَقُوْلُوْنَ
عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ(75) بلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہ
وَاتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (76) اِنَّ الَّذِیْنَ
یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِاللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلاً اُولٰٓئِکَ
لاخَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلایَنْظُرُ
اِلَیْھِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَلایُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَاب اَلِیْم ( 77)
ترجمہ:
اہل کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر ان کو
دیناروں کی تھیلی کا امین بنایا جائے تو وہ واپس ادا کردیں گے اوربعض ان سے ایسے
بھی ہیں کہ اگر ان کو ایک دینا ر بطورِ امانت دیا جائے تو نہ ادا کردیں گے
مگردوصورت کہ ان پر کھڑے رہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر نہیں ہے ان پڑھ
لوگوں کے بارہ میں کوئی گناہ اوربولتے ہیں اللہ پر جھوٹ جان بوجھ کرo ہاں جو شخص اس کے عہد کی
وفا کرے اورڈرے تو خداڈرنے والوں کو محبوب رکھتا ہےo تحقیق وہ لوگ جو خریدتے ہیں
اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلہ میں مالِ قلیل ان کا کو ئی حصہ نہ ہوگا آخرت
میں اورنہ کلام کرے گا ان سے اللہ اورنہ ان پر نظر رحمت فرمائے گا بروز محشر اورنہ
ان کو پاک کرے گا (کثافت گناہ سے ) اوران کے لئے درد ناک عذاب ہوگاo
وَ
مِنْ اَھْلَ الْکِتٰبِ: عبداللہ بن سلام کو ایک شخص نے دو ہزار دینار بطور امانت
دئیے تھے اور اس نے نہایت خوش اسلوبی سے واپس کر دئیے تھے لہذا اس کی مدح ہے اور
فنحاص بن عازوراکو ایک شخص نے صرف ایک دینار بطور امانت دیا تھا لیکن اس نے خیانت
کر کے ادا نہ کیا لہذا اس کی مذمت ہے بعض مفسرین نے امانت ادا کرنے والوں سے مراد
نصاریٰ اور خیانت کرنے والوں سے مراد یہودی لئے ہیں بہرکیف تنزیل کا تعلق گرچہ بعض
موارد سے مختص ہو لیکن تاویل کے اعتبار سے ہر وہ شخص اس کا مصداق ہو سکتا ہے جو اس
صفت کا حامل ہو۔
اَ لْاُ مِّیِّینْ: یہاں اَن پڑھ لوگوں سے
ان کی مراد وہ لوگ ہیں جو ان کے دین یعنی یہودیت پر نہیں تھے اور ان کا خیال یہ
تھا کہ خدا کے نزدیک ان لوگوں کے حق میں خیانت کرنا ہم پر مباح اور حلال ہے اور
بروز محشر ہم سے ان کے مال کی کوئی باز پرس نہ ہوگی اور یہ خدا پر ان کا دیدہ
ودانستہ بہتان ہے کیونکہ تورات میں صاف طور پر اس فعل بد کے ارتکاب سے منع کیا گیا
ہے۔
مَنْ اَوْفٰی: سیاق آیت کی رو سے یہاں وفائے
عہد سے مراد ادائے امانت ہے جناب رسالتمآب سے ایک روایت میں منقول ہے کہ امانت کا
ادا کرنا واجب ہے خواہ نیک کی ہو یا بد کی ہونیز فرمایا کہ جو شخص امانت کو ادا
کرے گا بروز محشر خدا اس کو حورعین عطا فرمائے گا اور آپنے فرمایاکہ جس شخص میںتین
عادتیں پائی جائیں وہ منافق ہے خواہ نمازی روزہ دار اور اپنے آ پ کو مومن کہلانے والا
ہو: جھوٹاخلافِ وعدہ کرنے والا امانت میں خیانت کرنے والا
اِنَّ الَّذِیْنَ: شانِ نزول علمائے یہود کی
ایک جماعت کعب بن اشرف کے پاس گندم حاصل کرنے کےلئے آئی تو اس نے ان سے جناب
رسالتمآب کے متعلق دریافت کیا؟ علمائے یہود نے جواب دیا کہ واقعی تورات کی بیان کردہ
صفات کی رُو سے تو وہ نبی ہے کعب بن اشرف نے ان کو گندم دینے سے انکار کر دیا پس
واپس آئے اور دوبارہ تورات کو کھولا تو اس کی بیان کردہ صفات جناب رسالتمآب کے
صفات کے موافق تھیں پس انہوں نے گندم لینے کےلئے تورات کے نسخوں سے ان صفات کو
نکال کر دوسری صفات درج کردیں اور کعب بن اشرف کو آکر دکھلایا تب اس نے خوش ہو کر
ان کو مطلوبہ گندم دیدی پس یہ آیت اتری اور عہد سے مراد آنحضرت کی نبوت کی تصدیق
کا عہد اور ایمان سے مراد ان کی وہ قسمیں جو صفاتِ آنحضرت کی تورات میں تحریف کرنے
کے بعد انہوں نے کھائیں اور اس کے معاوضہ کو ثمن قلیل کہا گیا ہے کیونکہ نعماتِ
آخرت کے مقابلہ میں مالِ دنیا خواہ کتنا ہی ہو اس کی کوئی وقعت نہیں۔
بعض نے کہا ہے کہ ایک شخص نے جھوٹی قسم کھا
کر مال تجارت فروخت کیا تھا تب یہ آیت اتری یہ بہر کیف آیت کا مفہوم عام ہے اور جو
بھی ایسا کرے وہی اس کا مصداق ہو سکتا ہے جناب رسالتمآب سے مروی ہے کہ تین قسم کے
لوگ ہیں جو بروز محشر خد کی نظر رحمت سے محروم ہوں گے اور درد ناک عذاب ان کے لئے
ہو گا:
احسان جتلا کر کسی کو کچھ عطا کر نے والا ،
جھوٹی قسم سے اپنی تجارت کو فروغ دینے والا ، چادر کو زمین پر گھسیٹ کر چلنے والا
وَ
اِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْونَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْکِتٰبِ لِتَحْسَبُوْہُ
مِنَ الْکِتٰبِ وَمَا ھُوَ مِنَ الْکِتٰب
وَیَقُوْلُوْ نَ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَ مَا ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ
وَیَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ (75) مَاکَانَ
لِبَشَرٍ اَنْ یُّوْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ
یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلکِنْ
کُوْنُوْا رَبَّانِیّنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَبِمَاکُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ
(76) وَلایَاْمُرَکُمْ اِنْ تَتَّخِذُوْا الْمَلٰٓئِکَةَ وَالنَّبِیّنَ اَرْبَابًا
اَیَاْمُرُکُمْ بِالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ (77)ع
ترجمہ:
اورتحقیق ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو
زبان مروڑ کر کتاب کو پڑھتاہے تاکہ تم سمجھو کہ وہ کتاب سے ہے حالانکہ و ہ کتاب سے
نہیں ہوتا اوروہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی جانب سے
نہیں ہوتا اور وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں جانتے ہوئےo ناممکن ہے کسی انسان کے لئے
کہ اس کو خداعطا فرمائے کتاب اورحکم اورنبوت پھر و ہ لوگوں سے کہے کہ میرے عبادت
گزار بن جاﺅ بجز خداکے لیکن تم ہو جاﺅ سچے خدا والے بسبب اس کے کہ تم کتاب پڑھا تے ہو اوربسبب اس کے کہ تم کتاب
کا دور کرتے ہوo اوروہ تمہیں حکم بھی نہ دے گا کہ بناﺅ فرشتوں کو اورنبیوں کو ربّ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم
مسلمان ہو o
بِالْکِتَابِ:
کتاب کو تین دفعہ تکرار کیا گیا ہے کیونکہ پہلی جگہ کتاب سے مراد ان کی تحریف کردہ
کتاب ہے اور باقی دونوں مقام پر حقیقی کتاب خدا مراد ہے۔
مَا کَانَ لِبَشَرٍ: آیت کا ارتباط یہ ظاہر
کرتا ہے کہ یہ آیتیں حضرت عیسیٰؑ سے مرتبط ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰؑ کے متعلق
نصرانیوں کے غلط عقائد کی دو وجہیں ہو سکتی تھیں:
ایک یہ کہ ان میں صفاتِ خدا وندی ہوتیں تا
کہ نصرانی خدا مانتے؟
دوسرا یہ کہ انہوں نے خود دعویٰ خدائی کیا
ہوتا؟ اس سے پہلے اس امر کی وضاحت تھی کہ وہ قطعاً صفاتِ خداوندی کے حامل نہ تھے
بلکہ ان کی ولادت اور تربیت وغیرہ سب مثل دوسری عام مخلوق کے تھی البتہ باپ کے
بغیر ان کی پیدائش سے قدرے مغالطہ پڑتا تھا جس کو حضرت آدم ؑ کی مثال سے رفع کر
دیا گیا اور پھر مباہلہ کی دعوت سے ان کی اس عقیدہ کی بالکل جڑ تک ختم کر دی گئی۔
اب ان آیات میں ان کی گمراہی کے سبب کی نفی
فرما رہا ہے کہ قطعا ً نا ممکن ہے کہ خدا کا تربیت یافتہ جسے اس نے کتاب و حکم و
نبوت جیسی نعمات سے سر فراز فرمایا ہو وہ اپنے لئے خدائی کا دعویٰ کرے؟ لہذا حضرت
عیسیٰؑ سے نا ممکن ہے کہ وہ اپنے لئے خدائی کا ادّعا کریں لہذا اگر ان کی طرف کوئی
شخص ایسی بات کی نسبت دے تو وہ سر اسر جھوٹا ہے۔