آیة الکرسی کی تفسیر
یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوٓا اَنْفِقُوْا
مِمَّا رَزَقْنکُمْ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَ یَوْم لا بَیْع فِیْہِ وَ لا خُلَّة
وَّ لا شَفَاعَة وَالْکٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (254) اَللّٰہُ لَآ اِلہَ
اِلَّا ھُوَج اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۵ لا
تَاْخُذُہ سِنَة وَّلا نَوْم لَہ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَنْ
ذَا لِّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہاِلَّا بِاِذْنِہ
یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَ مَا خَلْفَھُمْ وَلا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٓ
اِلَّا بِمَا شَآئَ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض َ وَلا یَوُدُہ
حِفْظُھُمَا وَ ھُوَ الْعَلِیُّ
الْعَظِیْمُ (255)
ترجمہ:
اے ایمان والو! خرچ کرو ہمارے دئےے ہوئے رزق
سے پہلے اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں سودا نہ ہو گا نہ دوستی (بجز ایمان کے) اور
نہ شفاعت (بغیر مومن کے) اور کافر ہی ظالم ہیںo اللہ کہ اس کے بغیر کوئی
بھی مستحق عبادت نہیں جو حی و قیوم ہے نہ اس پر غلبہ کرتی ہے اونگھ اور نہ نیند
اسی کا ہی ہے تمام وہ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے کون (جرات کر سکتا) ہے
کہ سفارش کرے (کسی کی) اس کے سامنے بجز اس کے اذن کے وہ جانتا ہے وہ واقعات جو ان
سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو ان کے بعد آئیں گے اور وہ نہیں احاطہ کر سکتے کسی چیز
کا اس کے علم میں سے مگر جس کو وہ چاہے وسیع ہے اس کی کرسی آسمانوں اور زمینوں سے
اور نہیں دشوار اس پر ان دونوں کی حفاظت اور وہ تمام (صفات نقص سے) بلند (کبریائی
میں) صاحب عظمت ہےo
تفسیر
رکوع ۲
آیة الکرسی کی تفسیر
وَ لا شَفَاعَة: اس مقام پر شفاعت کی ظاہراً
نفی کی گئی ہے اور چونکہ شفاعت کا ہونا احادیث میں تو اتر سے ثابت ہے بلکہ قرآن
میں بھی دوسرے مقام پر شفاعت ثابت ہے، چنانچہ آیت الکرسی میں اِلَّا بِاِذْنِہ کا
کلمہ شاہد ہے کہ جن کو اِذن ہو گا وہ شفاعت کریں گے اور اس سے مراد انبیا و آئمہ
ہیں جو گنہگارانِ امت کی شفاعت کریں گے بلکہ یہ بھی منقول ہے کہ بعض نیک مومن بھی
کسی حد تک شفاعت کر سکیں گے لہذا اس مقام پر شفاعت کی نفی غیر مومن کےلئے ہے۔
آیة الکرسی کی فضیت
مجمع البےان میں کتب عامہ سے مروی ہے کہ
عبداللہ بن عمر کہتا ہے جناب رسول خدا نے فرما ےا جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد
آےةُالکرسی پڑھے گاتو بوقت موت اس کی قبض روح خود خدا وندعالم اپنے ےد قدرت سے
فرمائے گا اور اس کا ثواب انبےا کے ہمراہ جہاد کر کے شہےد ہونے والوں کے برابر ہو
گا اور حضرت امےرالمومےنن ؑ سے مروی ہے کہ حضور نے بر سر منبر ارشاد فرماےا کہ جو
شخص ہر نماز فرےضہ کے بعد آےةُا لکرسی پڑھتا رہے تو اس کے اور جنت کے درمےان صرف
موت ہی کا فرق رہ جاتا ہے اوراس کو ہمےشہ نہےں پڑھتے مگر صدےق ےا عابد اور جو شخص
اس کو سونے سے پہلے تلاوت کر لے تو خدا اس کو بمعہ ہمساےوں کے امن مےں رکھے گا،
اےک اور حدےث مےں حضور نے فرماےا کہ تمام کلاموں کا سردار قرآن ہے اور تمام قرآن
مےں سردار سورہ بقرہ ہے اور تمام سورہ بقرہ مےں سردار آےةُالکرسی ہے فرماےااے علی
ؑ! اس مےں پچاس لفظ ہےں اور ہر لفظ مےں پچاس برکتےں ہےں۔
اور حضرت امام محمدباقرؑ سے مروی ہے کہ جو
شخص اےک مر تبہ آےةُالکرسی پڑھے تو خدا وند عالم اس سے دنیا و آخرت کی ایک ایک
ہزار سختیاں دور فرماتا ہے کہ کم از کم سختی دنیا کی فقر اور کم از کم سختی آخرت
کی عذاب قبر ہے اور ایک روایت میں حضرت امام جعفر صادقؑ سے مروی ہے کہ ہر شئے کی
ایک چو ٹی ہو تی ہے اور قرآن مجید کی چوٹی آیةُالکرسی ہے مومنوں کے قبرستان میں
آیةُالکرسی پڑھ کر ثواب ان کو بخشنا بہت باعث ثواب ہے۔
خواص: (از عمدة البیان )
1 ہر نماز فریضہ کے بعد
پڑھنا رزق کی زیادتی کا موجب ہے
2 صبح و شام پڑھنا چور
ڈاکو آتش زنی وغیرہ سے حفاظت کا موجب ہے
3 روزمرہ ہر فریضة نماز
کے بعد پڑھنا سانپ و بچھو کا تعویز ہے بلکہ جن و انس اس کو ضرر نہ پہنچا سکیں گے
4 اسے لکھ کر کھیت میں
دفن کیا جائے تو چوری اور نقصان سے محفوظ رہے گا اور باعث برکت ہے
5 اگر لکھ کر دوکان میں
رکھی جائے تو بہت باعث برکت ہے
6 گھر میں رکھنا چو ری
سے امان کا باعث ہے اگر مرنے سے پہلے پڑھے تو بہشت میں اپنی جگہ دیکھے گا
7 سوتے وقت ہر روز
آیةُالکرسی کا پڑھنا فالج سے حفاظت کا باعث ہے
سِنَة وَّلانَوْمبرہان میں امام جعفر صادقؑ
سے منقول ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی قوم نے حضرت موسیٰؑ سے سوال کیا کہ تیرا خدا جاگتا
ہے یا سوتا ہے؟ تو حضرت موسیٰؑ نے اپنی منا جات میں بارگاہِ خدا میں عرض پیش کی،
پس ارشاد ہوا کہ تو ایک شب و روز خواب نہ کر اس کے بعد ایک فرشتہ دو شیشیاں لے کر
نازل ہو ا، اور اللہ تعالیٰ کا حکم سنایا کہ ان دونوں کو ہا تھوں میں رکھ اور ان
کی حفاظت کر اور نیند نہ کرنا لیکن چونکہ ان پر پورے شب وروز کی بیداری کی وجہ سے
نیند کا غلبہ تھا ہرچند انہوں نے نیند کے دفع کرنے کی کوشش کی لیکن آخر کار نیند
غالب آئی اور ہاتھ پر ہاتھ جو لگا تو دونوںشیشیاں چور ہو گئیں پس جبرائیل نازل ہوا
اور کہا کہ خدا فرماتا ہے: اے موسیٰؑ! تو خواب میں دو شیشیوں کو محفوظ نہیں کر
سکا! اگر میں سو جاﺅں تو زمین و آسمان کا نظام کون محفوظ کرے گا؟
(عمدة البیان )
یہودیوں نے یہی سوال رسول خدا سے بھی کیا تو
آیة الکرسی نازل ہوئی پھر پوچھا کہ کیا جنت والے سوئیں گے؟ تو فرمایا کہ نیند موت
کی بہن ہے وہاں نہ جنتی سوئیں گے اور نہ دوزخی سوئیں گے (البرہان ج۲ص۲۳۳)
وَسِعَ کُرْسِیُّہ صادقین علیہم السلام سے
مروی ہے کہ کرسی سے مراد اس مقام پر علم ہے یعنی خدا کا علم آسمان اور زمین پر
حاوی ہے بعض نے کہا ہے کہ کرسی سے مراد عرش ہے اور بعض نے قدرت ملک اور سلطنت اس
سے مراد لی ہے نیز منقول ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی حیثیت کرسی کے مقابلہ میں
ایسی ہے جس طرح ایک انگوٹھی ایک وسیع جنگل میں اور کرسی کی نسبت عرش سے بھی ایسی
ہے جس طرح ایک انگوٹھی یا چھلّا ایک وسیع جنگل میں پڑا ہو۔
علم ہیئت والوں کے نزدیک کرسی سات آسمانوں
کے اوپر محیط ہے اور وہ اس کو فلکُ البروج کہتے ہیں اوران کے نزدیک تمام ستارے اور
بروج وغیرہ اسی میں ہیں۔
وَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ: روایت میں
ہے کہ خداووند کریم نے اپنے ننانوے ناموں میں سب سے پہلے اپنی ذاتِ مقدس کےلئے
اَلْعَلِیُّ الْعَظِیْم کو منتخب فرمایا۔