لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یَوْمِنْ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی لا انْفِصَامَ لَھَا وَاللّٰہُ سَمِیْع عَلِیْم ( 256) اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْال یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۵ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْلِیٰٓئُھُمُ الطَّاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (257)ع
ترجمہ:
نہیں زبر دستی دین میں تحقیق ظاہر ہو چکی ہے ہدایت گمراہی سے پس جو کفر کرے شیطان کا اور ایمان لائے اللہ کے ساتھ تو گویا اس نے پکڑا دستاویز محکم کو جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور خدا سننے جاننے والا ہےo اللہ ولی ہے ایمان والوں کا کہ ان کو نکالتا ہے (کفرکی) تاریکیوں میں سے طرف نور (ہدایت) کے اور وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے اولیا شیطان ہےں کہ ان کو نکالتے ہیں نور (ہدایت) سے طرف (کفر کی) تاریکیوں کے ایسے لوگ جہنم میں جانے والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گےo
شانِ نزول
لا اِکْرَاہَ: اس کے شان نزول کے متعلق بعض نے کہا ہے کہ ایک انصاری ایک حبشی غلام (صبیح) کو اسلام لانے پر مجبور کرتا تھا پس یہ آیت نازل ہوئی ۔
اور بعض نے کہا ہے کہ ایک مرتبہ شام سے کچھ تاجر وارد مدینہ ہوئے انہوں نے حصین انصاری کے دو بیٹوں کو نصرانیت کی دعوت دی پس وہ دونوں نصرانی ہو گئے اور ان کے ہمراہ شام چلے گئے اس پر حصین نے جناب رسول خدا کو خبر دی تو یہ آیت نازل ہوئی۔
بعض لوگ اس کو آیت جہاد سے منسوخ جانتے ہیں اور بعض کے نزدیک یہ حکم صرف ذمی کافروں کےلئے مخصوص ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اعمالِ شرعیہ کی بجا آوری میں انسان مختار کل ہے اور اس پر اللہ کی طرف سے کوئی جبر نہیں کیونکہ نیکی و بدی ہر دو کا راستہ بتایا جا چکا ہے اب انسان کی اپنی مرضی نیکی کی طرف آئے یا برائی کی طرف جائے، گو یا یہ آیت اس عقیدہ کو چیلنج کر رہی ہے کہ نیکی و بدی سب اللہ ہی کرواتا ہے اور انسان اپنے افعال میں مجبور ہے حَاشَا وَ کَلَّا ہم تفسیر کی جلد ۲ میں پہلے رکوع کے تحت مسئلہ جبر کو بیان کر چکے ہیں۔
علمی نکتہ
چونکہ دین کی اصل معرفت و اعتقادات ہے، اور اعمال و عباداتِ مالیہ و بدنیہ اس کی فروعات ہیں اور اس میں شک نہیں کہ اعتقاد کیفیت قلبیہ ہے جس میں جبر و اکراہ موثر نہیں ہو سکتا بلکہ اس کےلئے علیحدہ علل و اسباب ہیں جو اس کے حصول کا پیش خیمہ ہوا کرتے ہیں۔
پس لا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن کا جملہ ترکیب نحوی کے لحاظ سے یا تو:
جملہ خبر یہ ہے تو مقصد یہ ہے کہ دین ایک ایسی چیز ہے جس میں جبر و اکراہ قطعاً داخل نہیں ہوا کرتا اور یہ ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے
اگر اس کو جملہ انشائیہ قرار دیا جائے تو دین کے قبول کرنے کےلئے جبر و تشدد کو منع کیا گیا ہے کیونکہ جبر اعمالِ ظاہریہ و افعال بدنیہ سے تعلق رکھتا ہے قلبی میلان اور اعتقادی رجحان میں اس کیا کوئی اثر نہیں ہوا کرتا لہذا جبر کا استعمال بےہودہ اور بے معنی ہے
قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْد: یہ نفی اکراہ کی تعلیل ہے کہ کوئی حاکم کسی امر ضروری میں تشدد و جبر کو اس وقت استعمال کرتا ہے جب ماتحت میں فعل مامور بہ کی خوبی و بدی کے سمجھنے کی اہلیت نہ ہو جس کی وجہ سے وہ فعل مامور کی مصالح سے مطلع نہ ہو سکے یا ماتحت میں فعل مامور بہ کی خوبی و بدی کے سمجھے کی اہلیت ہو لیکن بعض مصلحتوں کی وجہ سے اس کو سمجھانا خلاف مقصود ہو تو ان حالات میں امور ضروریہ کی بجا آوری میں تشدد سے کام لیا جاتا ہے اور مامورین کےلئے سوائے تقلیدی رویہ کے اور کوئی چارہ کار نہیں ہوتا، لیکن دین اسلام کی اچھائی اور اس کے ردّ کرنے کی برائی کو سمجھنے کےلئے نہ انسانوں میں فہمی معذوری ہے کیونکہ اس کے اصول فطری اور مطابق عقل ہیں اور نہ حاکم مطلق نے ان کے سمجھانے میں کوئی کمی کی ہے بلکہ وحی اور نبوت کے ذریعے سے ہدایت اور گمراہی کے ہر دو طریق پوری طرح واضح کر دئیے گئے ہیں پس اس وضاحت کے بعد جبر و اکراہ کا سوال باقی ہی نہیں رہتا، بلکہ صاحب عقل و فہم انسان نفع و نقصان کے سمجھنے کے بعد اپنے اختیار و ترک میں مختار ہے لہذا اس میں جبرکی کوئی ضرورت ہی نہیں۔
نیز اس بیان سے یہ امر بھی پوری طرح واضح ہو گیا کہ دین اسلام زورِ تلوار سے ہر گز نہیں پھیلا بلکہ اس کے مشن کی صداقت اور اس کے اصول کی مبنی بر حقیقت جاذبیت نے چہار دانگ میں اس کی مقولیت کا ڈنکا بجایا اور اس کے فطری و طبعی ناقابل تردید براہین نے فضائے عالم میں اس کا جھنڈا لہرایا ہے پس روز روشن کی طرح اس امر کی بھی وضاحت ہو گئی کہ یہ آیت تا قیام قیامت منسوخ نہیں ہو سکتی کیونکہ کسی حکم کی منسوخی اس وقت ہو سکتی ہے جبکہ پہلے اس کی علت کو منسوخ کیا جائے اور یہاں عدم اکراہ کی علت ہے ہدایات و گمراہی کے راستوں کی وضاحت اور یہ علت تا قیامت قابل نسخ نہیں لہذا اس کا معلول حکم یعنی جبر و تشدد کے استعمال کی منع بھی ہر گزنسخ پذیر نہیں ہو سکتا، پس جن لوگوں نے اس حکم کو جہاد والی آیت سے منسوخ قرا دیا ہے یہ ان کا اشتباہ ہے اور اسلام کی جملہ لڑائیاں دین اسلام کی نشر و اشاعت کی خاطر نہیں تھیں بلکہ جو لوگ انسانیت کے اس فطری حق پر پردہ ڈالنے اور شمع توحید کو بجھانے کے درپے تھے اسلام کی لڑائیاں بحکم جہاد اس نفیس ترین متاعِ فطرت یعنی کلمہ توحید کی حفاظت کےلئے صرف دفاعی حیثیت سے تھیں نہ ان میں توسیع دائرہ اسلام کی ہوس کار فرما تھی اور نہ ملک گیری کا جذبہ موجب تحریک تھا، کیونکہ ملک گیری کا جذبہ تبلیغ اسلام سے بالکل منافات رکھتا ہے اور جبرو تشدد اور فاتحانہ انداز دائرہ اسلام کی توسیع میں فائدہ بخش نہیں، کیونکہ اصل دین ہے معرفت اور وہ اکراہ سے حاصل کی نہیں جا سکتی۔
اَلطَّاغُوْت: مراد شیطان بت یا سرکش، خواہ جن ہو یا انسان ، یا کاہن یا جادو گر (باقوال مفسرین) بروایت ابو بصیر حضرت امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ قائم آلِ محمد ؑ سے پہلے جو جھنڈا بلند ہو پس سمجھ لو کہ اس کا اٹھانے والا طاغوت ہے تفسیر قمی سے نقل کیا گیا ہے کہ طاغوت سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے آل محمد کے حقوق کو غصب کیا۔